مضامین

مولانا محمد ثمیر الدین قاسمی: مختصر سوانحی خاکہ

محمد روح الامین میُوربھنجی

جب اسلامی مہینے کا آغاز ہونے کو ہو، تو ایک شخص مانچسٹر، انگلینڈ میں بیٹھ کر امت مسلمہ کی رہنمائی کرتا ہے اور انھیں اس سلسلے میں پس و پیش ہونے سے بچاتا ہے، انھیں چاند سے متعلق مسائل سمجھاتا ہے اور اپنے علوم و معارف کے جواہر پارے لٹاتا ہے، وہ شخص نہیں؛ بلکہ حضرت مولانا محمد ثمیر الدین صاحب قاسمی کی شخصیت ہے، جن کی سادگی پر وارفتگی کے ساتھ بندہ قربان ہے۔ ان کا شمار عصر حاضر کے ان علماء میں ہوتا ہے، جو فقہ، تفسیر، اور عقائد جیسے مختلف فنون پر بہترین دسترس رکھتے ہیں اور جنھوں نے مختلف علوم و فنون کی کتابوں کی نئے زمانے سے ہم آہنگ و مانوس کرکے ایسی شروحات لکھی ہیں کہ علماء و طلبہ جس پر شیفتہ و فریفتہ ہیں۔ آج بندہ انھیں کی زندگی پر روشنی ڈالنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

ولادت و خاندان
مولانا محمد ثمیر الدین قاسمی سرکاری دستاویزات کے مطابق 6 نومبر 1950ء مطابق 25 محرم 1370ھ کو شہر گڈا سے 36 کلو میٹر دور مہگاواں، ضلع گڈا، بہار (موجودہ صوبہ جھارکھنڈ) میں واقع گُھٹّی نامی دیہات میں جناب جمال الدین بن محمد بخش (عرف لدنی) بن چولہائی کے یہاں پیدا ہوئے۔ اس دیہات میں ابھی بھی بجلی پانی کا صحیح نظم نہیں۔ (تاریخ پیدائش حتمی نہیں؛ البتہ قریب قریب اصل کے مطابق ہے۔)

خاندان میں مشہور روایت کے مطابق ان کا تعلق خانوادۂ صدیقی سے ہے؛ باقاعدہ سلسلۂ نسب محفوظ نہیں!

ابتدائی و متوسط تعلیم
انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی کے مکتب میں مولوی عبد الرؤف مرحوم عرف گونی سے حاصل کی، اسی مکتب میں انھوں نے اردو، ہندی، حساب اور فارسی بھی سیکھی۔

بارہ سال کی عمر میں 1962ء کو انھوں نے حصول تعلیم کی غرض سے مدرسہ امداد العلوم، اِٹکی، رانچی میں داخلہ لیا، 1964ء کو مدرسہ اعزازیہ، پھتنہ، بھاگلپور میں داخل ہوئے، پھر 1966ء میں دار العلوم چھاپی، گجرات چلے گئے، جہاں سے 1968ء میں مرکزِ علم و عرفاں دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور شعبان 1390ھ مطابق 1970ء میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔

دار العلوم دیوبند میں ان کے اساتذۂ حدیث مع اسمائے کتب:
• فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادی (صحیح بخاری جلد اول)
• فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی (صحیح بخاری جلد ثانی)
• مولانا فخر الحسن مرادآبادی (جامع ترمذی)
• مولانا شریف حسن دیوبندی (صحیح مسلم)
• مولانا عبد الاحد دیوبندی (سنن ابو داؤد)
• مولانا حسین احمد بہاری (سنن نسائی)
• مولانا نعیم احمد دیوبندی (سنن ابن ماجہ)
• میاں اصغر حسین دیوبندی (شرح معانی الآثار)
• مولانا انظر شاہ کشمیری (موطأ امام مالک)
• مولانا محمد سالم قاسمی دیوبندی (مشکاۃ المصابیح جلد دوم)
• مولانا نصیر احمد خان بلند شہری (مشکاۃ المصابیح جلد اول)
• حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی دیوبندی (حجۃ اللّٰہ البالغۃ)
• شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی (1969 و 1970ء میں دو مرتبہ ان کے احادیث مسلسلات کے درس میں شریک ہو کر مستفید ہوئے۔)

دورۂ حدیث کے بعد 1971ء میں موصوف نے دار العلوم دیوبند ہی سے تکمیل ادب کرکے عربی میں مہارت پیدا کی۔

مستزاد یہ کہ موصوف نے تین سال اس وقت کے ادیب زماں اور لغت نویس مولانا وحید الزماں کیرانوی کی صحبت اختیار کر کی اور ان سے تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے سہل انداز میں تصنیف و تالیف کا طریقہ بھی سیکھا، جس کی بہ دولت موصوف نے چھ فنون پر آسان انداز میں کتابیں لکھ کر ہمیشہ کے لیے اردو داں طلبہ و علماء کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ بلند ظرفی اور سادگی جیسے اوصاف حضرت کیرانوی سے موصوف کو ورثے میں ملے ہیں۔

1972ء میں انھوں نے دار العلوم ہی کے شعبۂ تکمیل فنون میں داخلہ لیا اور فلکیات وغیرہ میں مہارت و گیرائی حاصل کی اور اس فن میں انھوں نے ماہر فلکیات شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان بلند شہری سے خصوصی استفادہ کیا اور آج اس فن میں مولانا موصوف نے ”ثمرۃ الفلکیات“، ”رویت ہلال علم فلکیات کی روشنی میں“ اور ”ثمیری کیلنڈر“ جیسی کتابیں لکھ کر ملت اسلامیہ کو نایاب تحفہ دیا ہے۔

مدرسی کے زمانے میں انھوں نے جی سی ایس ای (جنرل سرٹیفیکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن) کا امتحان دے کر اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کی۔ مولانا موصوف کو جغرافیہ اور ریاضی میں بھی خوب درک حاصل ہے، جس کی بہ دولت اس فن پر کئی کتابیں لکھی ہیں، جن میں مذکورۂ بالا کتابوں کے علاوہ ثمرۃ المیراث بھی شامل ہے۔

تدریسی خدمات
تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا موصوف نے مدرسہ کنز مرغوب، پَٹّن، گجرات سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا اور پانچ سال وہاں رہ کر شرح جامی تک کی کتابیں پڑھائیں، پھر مدرسہ تعلیم الاسلام آنند، گجرات میں پانچ سال رہے، جہاں پر دورۂ حدیث کی کئی کتابیں ان کے زیر درس رہیں۔ اس کے بعد خانقاہ رحمانی مونگیر تشریف لے گئے، وہاں بھی حدیث کے اسباق ان سے متعلق رہے اور وہیں سے 21 جون 1978ء کو مولانا موصوف مدرسہ تعلیم الاسلام ڈیوز بری، انگلینڈ تشریف لے گئے اور وہاں پر منتہی سال کی کتاب مشکاۃ المصابیح کا درس دیتے رہے اور کچھ ہی عرصے میں درس و تدریس سے بالکلیہ الگ ہو کر تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول ہو گئے اور آج تک وہی سلسلہ قائم ہے۔

قلمی خدمات
مولانا موصوف ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کے کئی پرچوں اور رسالوں کے مضمون نگار رہ چکے ہیں، نیز جامعہ اسلامیہ مانچسٹر، انگلینڈ سے نکلنے والے رسالے ”الجامعہ“ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ برصغیر کے کامیاب شراحِ درس نظامی میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے قلم سے اب تک تقریباً چالیس کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، بعض کے نام درج ذیل ہیں: (1) اثمار الہدایہ شرح ہدایہ، تیرہ جلدوں میں، (2) الشرح الثمیری شرح قدوری، چار جلدوں میں، (3) ثمرۃ النجاح علی نور الایضاح، دو جلدوں میں، (4) ثمرۃ العقائد، (5) ثمرۃ المیراث، (6) ثمرۃ الفکلیات، (7) سائنس اور قرآن، (8) اسباب فسخ نکاح، (9) ثمرۃ الاوزان، (10) تحفۃ الطلباء شرح سفینۃ البلغاء، (11) حاشیہ سفینۃ البلغاء، عربی میں، (12) خلاصۃ التعلیل، (13) رؤیت ہلال علم فلکیات کی روشنی میں، (14) یاد وطن، اپنے علاقے کے مشاہیر کے مختصر تذکرے، (15) قوم انوارو فارسی، (16) تفریق و طلاق، (17) عیسائیت کیا ہے؟ (18) ثمیری کیلنڈر، (19) ثمرۃ الفقہ، دو حصوں میں۔

ان کی کتاب ثمرۃ العقائد کا ہندی انگریزی، عربی، بنگلہ اور پشتو میں ترجمہ ہو چکا ہے: ہندی میں ترجمہ مولانا جہانگیر دمکاوی نے کیا ہے اور اسے انگریزی اور عربی کا جامہ پہنانے والے مولانا مفتی محمد اللہ خلیلی قاسمی ہیں، جن کا انگریزی ترجمہ برطانیہ سے اور عربی ترجمہ 2022ء میں دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع ہو چکا ہے۔ بقیہ ترجموں کی تفصیلات تادم تحریر بندے کے علم میں نہیں ہیں۔

اولاد
مولانا موصوف کی چھ اولاد ہیں، چار بیٹے، اور دو بیٹیاں ہیں، سبھی خوش و خرم، تعلیم یافتہ اور انگلینڈ ہی میں مقیم ہیں۔

بعض اوصاف و کمالات
مولانا موصوف انتہائی ملنسار اور خُرد نواز ہیں، چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں، بندے کی ان سے بات ہوئی تو ان کی سادگی کا ادنیٰ اندازہ ہوا، انھوں نے بندے کو مواد فراہم کیا، خود ہی اپنی کتابوں کی ٹائپنگ اور سیٹنگ کرتے ہیں، اپنے تصنیفی کاموں میں زیادہ تر کام خود ہی کرتے ہیں یعنی اتنی ساری کتابوں کی ٹائپنگ، کمپوزنگ، سیٹنگ،ڈیزائنگ، ان کا پی ڈی ایف بنانا، اور تمام کتابوں کو چھپنے لائق بنانا؛ یہ سارے کام مولانا موصوف خود انجام دیتے ہیں، اس کے لیے ان کا نہ تو کوئی ملازم ہے ، اور نہ معاون، اس پر مستزاد یہ کہ مختلف موضوعات پر ویڈیو بنانا، یوٹیوب اور فیس بک پر اپلوڈ کرنا؛ یہ بھی مولانا موصوف خود ہی انجام دیتے ہیں؛ گویا وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں) اور اتنے فنون پر ان کی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جس سے ان کی ہمہ گیر استعداد و صلاحیت کا احساس ہوتا ہے۔

حدیث، فقہ، اصول فقہ، عقائد، ہیئت و فلکیات وغیرہ میں ان کو خاص درک و دسترس حاصل ہے، جس کا اندازہ ان کی کتابوں اور شروحات سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آج عالم اسلام؛ خصوصاً ہند و پاک اور بنگلہ دیش کی رؤیت ہلال کمیٹیوں میں ہلال سے متعلق ان کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہ اپنی زندگی میں ہلال سے متعلق سعودی عرب کے سابق نابینا مفتی اعظم مفتی عبد العزیز بن باز سے بھی اس سلسلے میں بات چیت کر چکے ہیں، جس کا خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا، اسی طرح ام القری کلینڈر کے مدیر کو خط و کتابت کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ نے رؤیت ہلال سے ڈیڑھ دن مقدم کیلنڈر بنا دیا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس سے ان کو احساس ہوا ہو اور 16 اپریل 1999ء کو پہلا کیلنڈر منسوخ کرکے دوسرے کیلنڈر میں تصحیح کر لی گئی۔ اس سلسلے میں مولانا موصوف نے 1992ء سے 1998ء تک عرب کے مفتی ابن باز سمیت وزارۃ الاوقاف و الحج، رابطہ عالم اسلامی، کیلنڈر والا ادارہ، مدینۃ الملک عبد العزيز للعلوم والتقنیۃ جیسے مختلف اداروں سے رؤیت ہلال اور قمری کیلنڈر کے سلسلے میں خط و کتابت کی ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ مولانا موصوف کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں بھی مولانا موصوف جیسا عزم و حوصلہ عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close