مضامین

مولانا محمد نعیم صاحب لدھیانوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کی گرفتاری: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(8)

محمد یاسین جہازی 9891737350

”لدھیانہ، ۷/ جولائی۔ حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ممبر مجلس عاملہ و وارکونسل جمعیۃ العلما ہند و ممبر پنجاب صوبہ کانگریس کمیٹی، ورکن مجلس انتظامیہ کانگریس کمیٹی کو زیر دفعہ 108مسجد دو منزل سے شام کے سات بجے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت پولیس کی ایک بہت بڑی جمعیت تین سب انسپکٹروں کی معیت میں ایک لاری لے کر آئی تھی۔ ایک سپاہی نیکر پہنے ہوئے صحن مسجد میں چڑھ گیا۔ چوں کہ مسجد میں ننگے گھومتے پھرنا جائز نہیں؛ اس لیے مفتی صاحب کے برادر مکرم نے احتجاج کیا اور سپاہی مذکور سے کہا کہ نیکر کے اوپر تہبند باندھ لو؛ لیکن سپاہی نے انکار کردیا۔ اس پر بعض مسلمان جوش میں آگئے، اور اس کو مسجد سے نکالنا چاہا۔ اگر مفتی صاحب کے بھائی بیچ بچاو نہ کرتے، تو شاید وہ سپاہی پٹ جاتا۔ دوسرے دن مولوی صاحب کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے بغرض ادخال ضمانت پیش کیا گیا۔ آپ نے ضمانت دینے سے انکار کردیا اور جیل چلے گئے۔ ان کے مقدمہ کی آئندہ سماعت 8جولائی کو ہوگی۔“ (13جولائی1930)
مولانا لدھیانوی کا مقدمہ
”آج مورخہ9اکتوبر 1930احاطہ جیل میں مفتی محمد نعیم صاحب ڈکٹیٹر وار کونسل جمعیت علمائے ہند کا مقدمہ پھر زیر سماعت ہوا۔ چوں کہ آ پ کی وجہ گرفتاری میں آپ کی ایک وہ تقریر جو آپ نے مسٹر پٹیل سابق صدر اسمبلی کی راولپنڈی والی تقریر کی تائید میں فرمائی تھی۔ اور دوسری وہ تقریر جو آپ نے پنڈت مالویہ جی کی تقریر کی تائید میں دہلی کمپنی باغ میں فرمائی تھی، پیش کی تھی اور ان ہر دو رہنماوں کو حکومت نے ان تقریروں کی بنا پر گرفتار نہیں کیا، اس لیے آپ نے ان ہر دو رہنماوں کو شہادت میں طلب کرنے کا نوٹس دیا۔ لیکن عدالت نے صرف اس خیال سے کہ ان ہر دو رہنماں کے آنے سے تحریک میں اضافہ ہوگا، طلب کرنے سے انکار کردیا اور بند سوال روانہ کرنے کی اجازت دیدی؛ لیکن مفتی صاحب موصوف نے بند سوال بھیجنے سے انکار کردیا، چوں کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اپنے نوٹس میں ان مندرجہ بالا تقریروں کے متعلق بھی یہ لکھا تھا کہ یہ تقریریں بطور وجہ ثبوت پیش کی جاتی ہیں اور اس نوٹس کے نیچے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دستخط موجود تھے؛ حالاں کہ یہ دونوں تقریریں اس وقت نہ مجسٹریٹ کے پاس موجود تھیں اور نہ پولیس میں موجود تھیں، جیسا کہ پولیس اور سرکاری وکیل نے متواتر دو تاریخوں پر ان تقریروں کے موجود نہ ہونے کا اقرار کیا اور وکیل ملزم نے دونوں مرتبہ مسل پر نوٹ بھی کروادیا؛ اس لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی شہادت اس امر کے متعلق نہایت ضروری تھی کہ جب آپ کے پاس وجہ ثبوت گرفتاری موجود نہیں ہے، تو آپ نے وارنٹ کیسے جاری کیا۔ عدالت نے اس کے باوجود ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو صرف اس لیے طلب کرنے سے انکار کردیا کہ چوں کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اس مقدمہ کی اپیل سننے کا حق حاصل ہے اور شہادت سے وہ حق زائل ہوجائے گا، اس لیے اس بے ضابطگی پر غور کرنا میرا کام ہے، اس لیے میں طلب نہیں کرسکتا۔ اور مقدمہ 23ستمبر پر ملتوی ہوگیا۔“ (الجمعیۃ16اکتوبر1930)
مولانا ابوالکلام آزاد کی گرفتاری
”کلکتہ 21اگست۔ مولانا ابوالکلام صاحب سابق صدر و حال قائم مقام صدر انڈین نیشنل کانگریس آج دوپہر کے وقت ”آر ڈی نینس ترغیب ناجائز“ کے ماتحت ایک تقریر کے سلسلہ میں جو آپ نے کچھ عرصہ ہوا میرٹھ میں کی تھی، گرفتار کرلیے گئے۔ آپ کو دہرادون ایکسپریس کے ذریعہ میرٹھ پہنچادیا گیا۔“ (الجمعیۃ24اگست1930)
آپ کا28اگست 1930کو میرٹھ ڈسٹرکٹ جیل میں مقدمہ پیش ہوا اور چھ ماہ قید محض کی سزا سنائی گئی۔
”میرٹھ 28اگست۔ مولانا ابوالکلام آزاد قائم مقام صدر کانگریس کا مقدمہ زیر دفعہ ۶ مجریہ 1930میرٹھ ڈسٹرکٹ جیل میں مسٹر کوگ ہل جائنٹ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا۔ عدالت کے استفسار پر مولانا نے فرمایا کہ میں مقدمہ کی کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لینا نہیں چاہتا۔ مسٹر شیام نرائن وکیل استغاثہ نے دو گواہ پیش کیے۔ پہلے گواہ مسٹر منگل سنگھ تیواوڑی نامہ نگار خفیہ پولیس تھے۔ مسٹر منگل سنگھ نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تقریر کے اقتباسات پڑھ کر سنائے، جن میں مولانا نے عدم ادائیگی محصولات پر زور دیا تھا۔ دوسرے گواہ مسٹر ضمیر الحق اسکول ماسٹر تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں مسٹر منگل سنگھ نامہ نگار خفیہ پولیس کو مولانا کی تقریر شارٹ ہینڈ میں لکھتے ہوئے دیکھی تھی۔ اور اس پر میں نے دستخط کیے تھے۔ جائنٹ مجسٹریٹ نے مولانا ابوالکلام آزاد کو متذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کے جرم میں ۶ ماہ قید محض کی سزا دی ہے۔ آپ کو درجہ اول (اے کلاس) دیا گیا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد سماعت مقدمہ کے دوران نہایت خوش و خرم تھے۔ جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ قوم کے نام کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں، تو آپ نے فرمایا ”ایک قیدی کیا پیغام دے سکتا ہے؟۔“ (الجمعیۃیکم ستمبر1930)۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: