اہم خبریں

مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی ملت اسلامیہ ہندیہ سے گزارش

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانیؒ، نیرل ۔ مہاراشٹر

ملک کی مسموم فضا اور بدلتے ہوئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے امارت شرعیہ کے امیر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کاغذات اور دستاویزات درست کر لیں ، اور اس پر زور ڈالتے ہوئے یہ کہا کہ آپ کسی تحریر کے بہکاوے میں نہ آئیں ، بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کام کو انجام دیں اور اس میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں،ساتھ ہی اس ملک کی آزادی میں مسلمانوں کے اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس ملک پر مسلمانوں کاحق ہے ملک کے آئین نے انہیں اس میں برابر کا حق دیا ہے ، یہ حق ان سے کوئی چھین نہیں سکتا ، اور کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو اس ملک سے بے دخل نہیں کر سکتی ، حکومتیں آتی جاتی رہیں گی ، یہ ملک باقی رہے گا آئین باقی رہے گا اور مسلمان باقی رہے گا ، میں بہت ہی ادب واحترام کے ساتھ یہ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو آئین پر عدلیہ پر اس قدر بھروسہ ہے تو قضیہ بابری میں آئین کے ساتھ کیا برتاو کیا گیا اور کس حد تک اس پر عمل درآمدی کی گئی ، اگر عدالت پر آپ کا اعتماد ہے تو کیوں کھلے عام انصاف کا گلا گھونٹا گیا؟ کس آئین اور بھارتی قانون نے اس بات کی اجازت دی کہ غیر منصفانہ فیصلہ کو صرف اس لئے قبول کر لیا جائے کہ وہ عدالت کا فیصلہ ہے، عدالت کے ایسے فیصلوں کو یک لخت رد کیوں نہیں کیاجاتا ؟ اب این آر سی اور سی اے بی میں اس قدر دبنے کے کیا معانی ہیں ، کاغذات اور دستاویزات کی درستگی تو ٹھیک مگر یہ سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ کوئی ہماری شہریت کے تعلق سوال کرنے والا کون ہوتا ہے ؟یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی کہ ہم کوئی پروف بھی نہیں دکھائیں گے ، کوئی ہم سے پروف مانگنے والا کون ہوتا ہے ؟ کیوں ہمیں ہمارے ہی لوگ حاشیہ پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں؟ حضرت آپ سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ موجودہ جمہوریت میں حق بتانے سے کام نہیں چلے گا ، یہ وہ دور ہے جہاں حق چھیننا پڑے گا ، اور ماضی کی قربانیاں بیان کرنے کا اور اس کے بھروسہ لوگوں میں مقام بنانے کا وقت نہیں ہے ، بلکہ موجودہ حالات میں باطل کے سامنے ہمت وجرات سے ڈٹنے کا وقت ہے ، آپ کب تک یہ راگ الاپتے رہیں گے کہ ہمارے بزرگوں نے یہ کیا اور وہ کیا ،آپ کب تک ان ہڈیوں کو بیساکھی بنا کر چلتے رہیں گے ؟ کب تک مصلحت کی چادر اوڑھ کر ملک کے مسلمانوں کی رسوا ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں گے ؟ اب آخر وہ کون سا وقت آئے گا کہ ہم کوئی حتمی فیصلہ لیتے ہوئے ملک وملت اور اسلام کے وقار کو بحال کر سکیں گے ؟ اب بھی آپ کس عدالت اور کس آئین پر سہارا کئے ہوئے ، اس عدالت پر جس نے جمہوریت کو ننگا کر دیا ، اس آئین پر جس کی روح نکا ل دی گئی ، ان ججس پر جنہوں نے ثبوت کی فراہمی کے باوجود آپ کو رسوا کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ، اس لئے میری آپ سے یہ گذارش ہے کہ اگر آپ قائد ہیں تو پھر قیادت کا حق ادا کیجئے اور مصلحت کی چادر کو اتارتے ہوئے وقت کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے صدا لگائیے ، پورا ملک ایسی ہی صدا کا منتظر ہے ، میں سمجھتا ہوں جتنا زور کاغذات کے بنانے پر دیا جا رہا ہے اگر اتنا ہی زور اس بل کی مخالفت میں لگایا جائے تو حکومت کے ہاتھ پاوں ہل جا ئیں گے ، ہم کسی حکومت کے غلام نہیں بلکہ اللہ کے غلام ہیں اس لئے اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، یہ بات ہمیں پورے ملک میں پہونچانی ہے ،اور اس کے بعد خدا سے انصاف کی امید کرنی ہے ، یونہی کچھ کئے بغیر اللہ سے آرزوئیں کرنا ضیاع وقت کا سامان ہے ، اللہ کرے یہ آواز دور دور تک پہونچے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: