مضامین

مولانا نور عالم خلیل امینی اور مولانا عبد الحمید نعمانی

مولانا عبد الحمید نعمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت نئی دہلی

انا للہ و انا الیہ راجعون، اللہ مغفرت ،درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام دے،
مولانا نور عالم اپنے انداز کے آدمی تھے، ایسا ملک میں کوئی نظر نہیں آتا ہے، دارالعلوم دیوبند کی طالب علمی کے زمانے سے مولانا معز الدین احمد اور ہم سے بہت گہرا تعلق تھا، ہم فارسی خانہ 2 میں رہتے تھے، مولانا چند کمرے چھوڑ کر رہتے تھے، درسی ساتھی مفتی نسیم احمد مظفرپوری رح اور ہم وقتا فوقتاً روم پر چلے جاتے تھے، یا بلوا لیتے تھے، ہمیں کچھ چیزیں پڑھنے کے لیے دے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بغیر حوالے کے بات نہیں مانتے ہیں، یہ تعلق برابر بنا رہا، ہمارے اور مولانا معز الدین احمد رح کے پاس برابر فون آتا رہتا تھا، عموماً شخصیات کی تاریخ ولادت و وفات کو لے کر ، جب ہم نے ان کی کتاب” پس مرگ زندہ "پر تبصرہ کرتے ہوئے 15/20 تاریخی سہو پر توجہ مبذول کرائی تو تعلق سوا ہو گیا، الجمعیتہ میں جب تبصرہ شائع ہوا تو کہا کہ یہ ہمیں دکھا دیتے پھر کہا کہ جن کے پاس کتاب پہنچ چکی ہے وہ اصلاح کیسے کریں گے، چلو ٹھیک کیا، اس طرح کشادہ دلی کا مظاہرہ کم لوگ کرتے ہیں، زبان و بیان اور املا کا بہت خیال کرتے تھے، اس سلسلے کی کتابیں ہم سے یا مولانا معز الدین احمد رح سے منگواتے رہتے تھے، پرگتی میدان کتاب میلے میں پابندی سے آتے تھے، کہتے تھے کہ کچھ پہلے اطلاع دے دیا کرو، پہلے دن اچھی کتابیں ملتی ہیں، تین حضرات ، مولانا علی میاں ندوی رح، مولانا محمد میاں رح مولانا وحید الزمان کیرانونی رح، کا تذکرہ کہیں نہ کہیں ضرور لے آتے تھے، بہت سی باتیں سناتے تھے، ہر چیز پر نظر رکھتے تھے، بہت حساس تھے، کبھی کبھار بہت زوردار تبصرے کرتے تھے، ایک بار ایک صاحب بہترین شیروانی، ٹوپی اور لمبے کرتے زیب تن کیے تشریف لائے اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے، جب بہت ہو گیا تو مولانا مرحوم نے کہا کہ آپ کو پہلے ٹھیک سے سونا چاہیے، دوسری بات یہ ہے کہ صحیح معلومات حاصل کرنے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے، میرا خیال ہے کہ آپ پیر بننے میں ذرا جلدی کر رہے ہیں، یہ کہہ کر مولانا معز الدین احمد سے کہا کہ بھئ ذرا اچھی چائے پلا دو، جب وہ صاحب چلے گئے تو ہم دونوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کچھ لوگ جہل پر پردہ ڈالنے کے لیے بھی طویل، عریض خود پر خیمہ ڈال لیتے ہیں، لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ لباس اور خیمہ میں فرق کیا ہے، کپڑے ضائع کرتے ہیں، سلیقہ دے کر، اللہ غریق رحمت کرے بڑی خوبیاں تھیں، کمال کے آدمی تھے، دماغ سن سا ہو رہا ہے، سانحہ ارتحال کی خبریں سن سن کر، اللہ رحم کرے، کورونا سے کچھ دنوں پہلے حضرت الاستاذ مولانا نعمت اللہ اعظمی نے ، مولانا معز الدین احمد اور ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ آنے والے دن اچھے نہیں لگ رہے ہیں، علماء بھی زد میں آ جائیں گے، حالات تصور سے باہر ہوں گے، پتا نہیں حضرت نے کس عالم میں، کیا محسوس کر کے یہ کہا تھا، 3/5/2021 ،عبدالحمید نعمانی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: