اسلامیات

مَہَر کا بیان

(حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ کی کتاب : رہ نمائے مسلم سے اقتباس۔ یہ کتاب پیدائش سے لے کر موت تک ایک مکمل اسلامی لائف گائڈ ہے۔)

جب جانبین کے لوگ اکٹھے ہوجائیں، تو اس کے بعد مہر طے کرلینا چاہیے ۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب میں مہر دس درہم سے کم درست نہیں ، جس کا وزن اکتیس ماشے چار رتی چاندی ہوتا ہے ۔ حضرت جابر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا مَھْرَ أقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ (رواہ ابن ابی حاتم و قال الحافظ بن حجر انہ بھذا الاسناد حسن)
دس درہم سے کم مہر نہیں ہے۔
اور مہر کی زیادتی کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ جس قدر بھی طے ہوجائے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو زیادہ مہر مقرر کرنے سے روکا، تو ایک قریشی عورت نے کہا کہ:
ائے امیر المؤمنین ! اللہ کی کتاب اتباع کی زیادہ مستحق ہے، یا آپ کی بات؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ اللہ کی کتاب۔ اس عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے عورتوں کے مہر میں غلو کرنے سے منع فرمایا ، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ:
وَ اٰتَیْتُمْ احْدٰھُنَّ قِنْطَاراً فَلَا تَأخُذُوْا مِنْہُ شَیْءَاً
(النساء آیۃ:۲۰ )
اور تم ان میں سے ایک کو ڈھیر کا ڈھیر مال دے چکے ہو ، تو تم اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو۔
اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا : عمر سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے ۔ اور پھر ممبر پر چڑھے اور فرمایا: میں نے زیادہ مہر باندھنے سے منع کیا تھا، اب ہر شخص اپنے مال میں جو چاہے کرے۔ (بیہقی) ۔
لیکن زیادہ مہر مقرر کرنا استحباب کے خلاف ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :
انَّ أعْظَمَ النِّکَاحِ بَرَکَۃً أیْسَرُ مَؤُنَۃً (بیھقی)
سب سے زیادہ بابرکت وہ نکاح ہے، جس میں کم خرچ ہو۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ :
خَیْرُ الصِّداقِ أیْسَرُہُ۔ (اخرجہ ابو داود، و صححہ الحاکم)
بہترین مہر آسان مہر ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
خبردار عورتوں کا زیادہ مہر مقرر مت کرو، اس لیے کہ زیادہ مہر مقرر کرنا اگر دنیا میں کوئی کرامت کی چیز ہوتی، اور خدا کے نزدیک کوئی تقویٰ کی بات ہوتی، تو مہر کی زیادتی میں اللہ کے نبی ﷺ تم سے زیادہ لائق تھے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے بارہ اوقیہ سے زیادہ پر کسی عورت سے نکاح کیا ہو، یا کسی لڑکی کا نکاح کیا ہو۔
(ترمذی، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ، یعنی چار سو اسی درہم ۔ اور حضرت عائشہؓ کی روایت میں ساڑھے بارہ اوقیہ آیا ہے، یعنی پانچ سو درہم۔ چنانچہ حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ:
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنی عورتوں کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بارہ اوقیہ اور نُش۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہونُش کیا ہے؟ حضرت ابو سلمہ نے کہا کہ نہیں۔ فرمایا آدھا اوقیہ، پس یہ پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ (مسلم)
مہروں میں اولیٰ اور مسنون پانچ سو درہم ہیں، یعنی ایک سو اکتیس تولے تین ماشہ چاندی، جیسا کہ ازواج مطہراتؓ کا تھا ۔ یا چار سو مثقال چاندی، یعنی ڈیڑھ سو روپیے، جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کی صاحبزادیوں کا مہر تھا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بھی چار سو مثقال چاندی تھا، یعنی ایک سو پچاس تولے، کیوں کہ ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کا ہوتا ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر چار سو دینار تھا، یعنی ایک ہزار پچاس روپیے، جو شاہ حبش نجاشی نے آں حضور ﷺ کی طرف سے نکاح کے وقت مقرر کرکے اسی وقت ادا کردیا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم، یا اس قیمت کے اونٹ تھے، جو ابو طالب نے اپنے ذمہ رکھے۔ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مہر کوئی برتنے کی چیز تھی جو دس درہم کی تھی۔ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا مہر چار سو درہم تھا۔ اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا مہر چار سو درہم تھا۔
مہر مثل میں باپ کی قوم کا اعتبار ہوتا ہے اور اس میں عمر، حسن، مال، عقل و دین ، نکاح کا وقت اور زمانہ اور شہر ایک ہو۔
(نور الہدایہ، ج؍ ۲، ص؍۲۴)

نکاح کا خطبہ
ایجاب و قبول سے پہلے خطبہ پڑھنا واجب نہیں ہے۔ چنانچہ ابو داود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امامہ بنت عبدالمطلب کا نکاح بنی سلیم کے ایک شخص سے کیا ؛ مگر آپ ﷺ نے خطبہ نہیں پڑھا؛ البتہ خطبہ پڑھنا مسنون ہے ۔ اگر منکوحہ کا ولی خود پڑھا لکھا ہو تو اس کو چاہیے کہ خود خطبہ پڑھے اور اس کے بعد ایجاب کرے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدۃ النساء فاطمہ الزہرا کا کیا تھا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں بزرگوں نے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کی درخواست کی، تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور کسی کو کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر ان دونوں بزرگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنے لیے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں درخواست کرو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں حضرات کے اشارہ سے میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوارسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! فاطمہ کو میرے نکاح میں دیدیجیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تیرے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرا گھوڑا اور زرہ موجود ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا : تجھ کو گھوڑے کی ہر وقت حاجت رہتی ہے۔ زرہ کو بیچ ڈال۔ تو میں نے چار سو اسی درہم میں زرہ کو بیچ کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے وہ درہم گود میں لے لیے۔ پھر ان میں سے ایک مٹھی بھر درہم اٹھاکر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دے کر فرمایا کہ ہمارے واسطے خوشبو لاؤ ۔ اور اہل بیت کو اشارہ کیا کہ فاطمہ کے واسطے جہیز تیار کر۔ تب ان کے واسطے ایک چار پائی کھجور کی رسیوں سے تیار کی اور کھجور کی چھال بھر کر توشک تیار ہوئی ۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا کہ جب فاطمہ تمھارے پاس آئے، تو جب تک کہ میں تمھارے پاس نہ پہنچوں، تم فاطمہ سے کلام نہ کیجیو۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ اندر آئیں اور گھر کے ایک کنارہ میں بیٹھیں۔ اور میں علاحدہ دوسرے کنارے میں بیٹھا۔ اسی عرصہ میں جناب سرکار دو عالم ﷺ نے تشریف لاکر فرمایاکہ یہاں میرا بھائی ہے؟ حضرت ام ایمنؓ نے کہا کہ آپ کا بھائی موجود ہے ؟ کیا آپ ﷺ نے اپنی بیٹی اس کے ساتھ بیاہ دی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یقینا۔ پھر آپ ﷺ اندر تشریف لائے ۔ اور فاطمہ سے کہا تھوڑا پانی لاؤ۔ فاطمہ اٹھ کر گئیں اور گھر سے لکڑی کے پیالہ میں پانی لائیں۔ آں حضرت ﷺ نے وہ پانی لے کر تھوڑا لعاب دہن مبارک اس میں ڈال کر فاطمہ کو اپنے پاس بلایا۔ جب فاطمہ پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے تھوڑا پانی اپنے ہاتھ میں لے کر فاطمہ کے سینے اور سر پر چھڑکا اور فرمایا: الٰہی میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں، شیطان مردود سے۔ پھر فاطمہ سے فرمایا کہ اپنی پیٹھ میری طرف کر۔ فاطمہ نے اپنی پیٹھ آپﷺ کی طرف پھیرد ی۔ آپ ﷺ نے تھوڑا پانی ان کے دونوں مونڈھوں کے درمیان میں چھڑکا۔ پھر یہی معاملہ میرے ساتھ کیا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اب تو اپنی بیوی کے پاس اللہ تعالیٰ کا پاک نام لے کر اور اس کی برکت کے ساتھ داخل ہو۔ (ابو حاتم و احمد بحوالہ مواہب لدنیہ)
دوسری روایت بھی حضرت انسؓ ہی سے اس طرح ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی درخواست کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیغمبر خدا ﷺ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام اپنے واسطے دیا، تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: میرے رب نے بھی مجھے یہی حکم دیا ہے ۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ پھر مجھ کو آں حضرت ﷺ نے کئی روز بعد بلاکر فرمایا: ائے انس! تم ابوبکر، عمر، عثمان، عبدالرحمان اور کچھ لوگ انصار میں سے بلا لاؤ۔ پھر جب یہ حضرات تشریف لائے اور اپنے اپنے مقام پر بیٹھے اور حضرت علیؓ وہاں موجود نہ تھے ، تو آں حضرت ﷺ نے یہ خطبہ پڑھا:
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الْمَحْمُودِ بِنِعْمَتِہِ، الْمَعْبُودِ بِقُدْرَتِہِ، الْبَالِغِ سُلْطَانُہُ، الْمَرْھُوبِ مِنْ عَذَابِہِ، الْمَرْغُوبِ إِلَيِ فِیْمَا عِنْدَہُ، النَّافِذِ أَمْرُہُ فِي سَمَاۂِ وَأَرْضِہِ، الَّذِي خَلَقَ الْخَلْقَ بِقُدْرَتِہِ، وَمَیَّزَھُمْ بِأَحْکَامِہِ، وَأَحْکَمَھُمْ بِعِزَّتِہِ، وَأَعَزَّھُمْ بِدِیْنِہِ، وَأکْرَمَھُمْ بِنَبِیِّہِ مُحَمَّدﷺ، ثُمَّ إِنَّ الْلّٰہَ تَعَالیٰ جَعَلَ الْمُصَاھَرَۃَ نَسَبَاً لَاحِقَاً وَأَمْرَاً مُفْتَرَضَاً، وَشَبَّحَ بِہِ الأَرْحَامَ، وَأَلْزَمَ الأَنَامَ، فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: وَھُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرَاً فَجَعَلَہُُ نَسَبَاً وَصِھْرَاً وَ کَانَ رَبُّکَ قَدِیْرَاً ۔ فَأَمْرُ الْلّٰہِ تَعَالَیٰ یَجْرِي إِلَیٰ قَضَاءِہِ، وَقَضَاؤُہُ یَجْرِیْ إِلیٰ قَدَرِہِ، وَقَدَرُہُ یَجْرِيْ إِلیٰ أَجَلِہِ، وَ لِکُلِّ قَضَاءٍ قَدَرٌ، وَ لِکُلِّ قَدَرٍ أَجَلٌ، وَلِکُلِّ أَجََلٍ کِتَابٌ، یَمْحُوالْلّٰہُ مَا یَشَاءُ وَ یُثْبِتُ، وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ۔ (الرعد آیۃ۳۹)
اس کے بعد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو فاطمہ کا نکاح علی کے ساتھ کردینے کا حکم دیا ہے ، سو تم لوگ اس بات پر گواہ رہو کہ میں نے اس کا نکاح علی کے ساتھ کردیا ۔ اور چار سو مثقال چاندی اس کا مہر ٹھہرایا۔ بشرطیکہ علی بھی اس پر راضی ہو۔ اس کے بعد آں حضرت ﷺ نے ایک طباق بھر کر خشک چھوہارے منگوائے اور حاضرین مجلس سے فرمایا کہ ان کو لوٹ لو۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے آں حضرت ﷺ کے ارشاد کی وجہ سے وہ چھوہارے لوٹ لیے۔ اتنے میں حضرت علیؓ بھی آ پہنچے ، تو آں حضرت ﷺ علیؓ کے روبرو مسکرائے ، پھر فرمایا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے حکم بھیجا ہے کہ فاطمہ کا نکاح تمھارے ساتھ چار سو مثقال چاندی کے مقابلہ میں کردوں، کیا علی تم اس پر راضی ہو؟انھوں نے کہا کہ بے شک یا رسو ل اللہ ، میں اس پر راضی ہوں۔ پھر آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
جَمَعَ الْلّٰہُ شَمْلَکُمَا وَ أعَزَّ جَدَّکُمَا، وَ بَارَکَ عَلَیْکُمَا وَ اَخْرَجَ مِنْکُمَا کَثِیْرَاً طَیِّبَاً
اللہ تم دونوں کی پراگندگی دور کرے۔ اور تمھاری کوشش کو عزیز کرے اور تم پر برکت نازل کرے اور تم کو اچھی پاکیزہ اولاد دے۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے بہت پاکیزہ اور بہتر اولاد پیدا کیں۔ (ابوالخیر قزوینی حاکمی بحوالہ مواھب لدنیہ)
اگر ولی پڑھا لکھا نہ ہو تو اس کا وکیل یا قاضی جس کو ایجاب و قبول کی اجازت ملی ہو ، وہ خطبہ مسنونہ پڑھے ، پھر ایجاب و قبول کرے ۔ نکاح کا وکیل وہ شخص ہے ، جس کو دوسرے کے نکاح کرانے کا اختیار ملا ہو۔ نکاح میں وکیل بنانا درست ہے، جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے شاہ حبش نجاشیؓ کو اپنا وکیل ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا بنایا تھا۔چنانچہ مواہب لدنیہ میں اس کے احوال بھی مفصل منقول ہیں۔ یہاں پر اس کا خلاصہ لکھا جاتا ہے:
جب ام حبیبہ کا شوہر عبدا للہ بن جحش ان کو لے کر ملک حبش کو ہجرت کرگیا اور وہاں پہنچ کر بد قسمتی سے نصرانی ہوگیا اور اسی حالت میں مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ کو کسی صحابی نے خبر پہنچائی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے ایمان اور اسلام پر بدستور قائم ہیں۔ آں حضرت ﷺ نے یہ بات سن کر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اپنا نکاح کا پیغام نجاشی کے پاس عمرو بن امیہ کے ہاتھ بھیجا ۔ نجاشی نے اسی وقت اپنی باندی ابرھ کو ام حبیبہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ نے تمھارے ساتھ اپنا نکاح کرنے کا پیغام بھیجا ہے ، اگر تم کو منظور ہو تو تمھارا نکاح آں حضرت ﷺ کے ساتھ پڑھ دوں؟ یہ خبر سنتے ہی وہ بہت خوش ہوئیں اور اپنے ہاتھ کے دونوں کنگن اور ایک انگوٹھی اس خوش خبری کے انعام میں ابرھ کو دیے اور نکاح کے معاملہ میں خالد بن سعید کو اپنی طرف سے وکیل کرکے نجاشی کے پاس بھیجا۔ اس نے شام کے وقت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت مہاجرین رضی اللہ عنہم سمیت بلواکر حقیقت حال بیان کی پھر یہ خطبہ پڑھا:
الْحَمْدُ لِلّٰہِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ السَّلَامِ الْمُؤمِنِ الْمُھّیْمِنِ الْعَزِیْزِ الْجَبَّارِ، أشْھَدُ أنْ لَّا الٰہَ الَّا اللّٰہُ وَ أنَّ مُحَمَّدَاً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ أرْسَلَہُ بِالْھُدَیٰ وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلیٰ الدِّیْنِ کُلِّہِ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ۔
اس خطبہ کے بعد نجاشی رضی اللہ عنہ نے کہاکہ سننا چاہیے کہ جس کام کا رسول کریم ﷺ نے مجھ کو پیغام بھیجا تھا ، سو میں نے اس کو قبول کیا۔ پھر چار سو اشرفی سونے کے سکے ان حضرات کے آگے ڈال دیے۔ اور فرمایا: اس قدر مہر میں نے مقرر کیا۔ اس کے بعد خالد بن سعید رضی اللہ عنہ ام حبیبہؓ کے وکیل نے کہا :
الْحَمْدُ لِلّٰہِ أحْمَدُہُ وَ اَسْتَعِینُہُ وَ اسْتَغْفِرُہُ ، أشْھَدُ أنْ لَّا الٰہَ الَّا الْلّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أشْھَدُ أنَّ مُحَمَّدَاً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ أرْسَلَہُ بِالْھُدَیٰ وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلیٰ الدِّیْنِ کُلِّہِ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ،أمَّا بعدُ۔
میں نے اس امر کو قبول کیا، جس کو پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا ہے ۔ اور میں نے پیغمبر خدا ﷺ کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ کردیا۔ اللہ تعالیٰ یہ نکاح پیغمبر خدا ﷺ کو مبارک کرے ۔ اس کے بعد نجاشی رضی اللہ عنہ نے وہ سب دینار حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے حوالہ کیے۔ حضرت خالد نے لے کر گانٹھ باندھ لی ۔ اب لوگوں نے چاہا کہ اٹھ کر اپنے اپنے مکان کو جائیں، تو نجاشی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ حضرات ذرا دیر اور تشریف رکھیے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا طریقہ اور ان کی سنت یہ ہے کہ نکاح کے بعد کچھ کھانا دوستوں کو کھلاتے ہیں ۔ پھر کھانا منگواکر سب حضرات کو کھلایا اور رخصت کیا۔ پھر نجاشی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکو شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیغمبر خدا ﷺ کی خدمتِ مبارک میں روانہ کیا۔
ایک خطبہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کو عام طور پر حضرات علمائے کرام پڑھتے ہیں ، وہ یہ ہے:
اِن اَلحَمدَ لِلّٰہِ نَحمَدُہٗ وَ نَستَعِینُہٗ وَ نَستَغفِرہٗ وَ نَعَوذُ بِالْلّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سِیَّءَاتِ أعْمَالِنَا، مَنْ یَھْدِ ہِ الْلّٰہُ فَلا مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہُ، وَأشْھَدُ أنْ لَّا اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ وَحدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَ أشْھَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ یَاایُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا الْلّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُمْ مُّسْلِمُونَ۔یَااَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِيْ خَلَقَکُمْ مِّن نَّفْسٍ وَّاحِدۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْراً وَّ نِسَاءً ۔ وَاتَّقُوْا الْلّٰہَ الَّذِيْ تَسَاءَلُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ الْلّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبَاً، یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا الْلّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدَاً، یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ الْلّٰہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظیْمَاً ۔ (مشکوٰۃ)

ایجاب و قبول
خطبہ کے بعد قاضی یا جو شخص عقد نکاح کے واسطے مقرر ہو حاضرین کے سامنے دولہا سے کہ: فلاں کی بیٹی فلانی کو میں نے اس قدر مہر کے عوض میں تیرے نکاح میں دی ۔ دولہا اس کے جواب میں کہے : میں نے قبول کیا۔ اس طرح ایجاب و قبول سے نکاح ہوجاتا ہے ۔ پہلی بات کو ایجاب اور دوسری بات کو قبول کہتے ہیں ۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ دولہن ہی کی طرف سے ایجاب ہو اور دولہا کی طرف سے قبول؛ بلکہ اس کا برعکس بھی ہوسکتا ہے ، یعنی دولہا کی طرف سے ایجاب اور دولہن کی طرف سے قبول، بہر صورت جائز ہے ، لیکن پہلی صورت مستحب ہے۔
ایجاب و قبول نکاح کا رکن ہے ۔ اور دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کا گواہوں میں ہونا شرط ہے ۔ یعنی کم از کم دو مسلمان بالغ عاقل کے سامنے اتنی آواز سے ایجاب و قبول ہونا چاہیے کہ وہ دونوں گواہ ایک مرتبہ میں سن لیں۔ اگر ایک نے سنا اور دوسرے نے نہیں سنا تو پھر نکاح نہ ہوگا۔ صرف عورتوں کی یا نابالغ بچوں کی یا کافر کی گواہی معتبر نہیں۔ اور ایجاب و قبول میں سے کسی ایک کا لفظ ماضی کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اس یجاب و قبول کی چند صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ ایجاب و قبول دونوں بالاصالت ہو۔ یعنی دلہن ایجاب کرے اور دولہا قبول کرے ، یا دولہا ایجاب کرے اور دولہن قبول کرے۔ یوں کہے کہ میں نے اتنے روپیے مہر کے عوض اپنا نکاح تم سے کیا اور دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ دولہن کی طرف سے ولی یا وکیل ہو اور دولہا اصیل ہو اور اسی کا زیادہ رواج ہے۔ اس میں اس طرح کہے: میں نے اپنی لڑکی یا فلاں کی فلانی لڑکی کا نکاح اتنے مہر میں تم سے کیا ۔ دولہاکہے کہ: میں نے قبول کیا۔مثلا زید کی لڑکی بی بی زینب کا نکاح ڈیڑھ سو روپیے مہر فاطمی میں تم سے کیا۔ دولہا نے کہا : قبول کیا۔
تیسیری صورت یہ ہے کہ دولہن اصیل ہو اور دولہا کی طرف سے ولی یا وکیل ہو، تو وکیل کہے : میں نے اپنے لڑکے کا۔ اور وکیل کہے : میں نے فلاں کے لڑکے فلاں کا نکاح اتنے مہر میں تم سے کیا۔ اور دولہن کہے : میں نے قبول کیا۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ دونوں طرف سے ولی یا وکیل ہو۔ یا ایک طرف سے ولی اور دوسری طرف سے وکیل ہو۔ ولی کہے : میں نے اپنی لڑکی فلانی کا نکاح فلاں کی لڑکی فلانی سے اتنے دین مہر میں کیا۔ دوسرا کہے: میں نے اپنے لڑکے یا اپنے مؤکل کی طرف سے قبول کیا۔اور وکیل کہے کہ میں نے فلاں کی لڑکی فلانی کا نکاح تمھارے لڑکے فلاں سے ، یا فلاں کے لڑکے فلاں سے اتنے مہر میں کیا۔ دوسرا کہے اپنے لڑکے فلاں کی طرف سے ۔ اور وکیل کہے: فلاں کے لڑکے فلاں کی طرف سے قبول کیا، نکاح ہوگیا۔
پانچویں صورت یہ ہے کہ ایک ہی شخص دولہا دولہن؛ دونوں طرف سے ولی یا وکیل ہو، یا ایک طرف سے ولی اور دوسری طرف سے وکیل ہو، تو اس صورت میں ایک ہی کلمہ ایجاب و قبول کا قائم مقام ہوگا۔ الگ الگ ایجاب وقبول نہ ہوگا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوگا: میں نے اپنی لڑکی فلانی کا نکاح ، یا فلاں کی لڑکی فلانی کا نکاح، اتنے مہر میں فلاں کے لڑکے فلاں سے کیا، بس نکاح ہوگیا۔
جب ایجاب و قبول ہوجائے تو زوجین کے لیے دعا کرے کہ :
بَارَکَ الْلّٰہُ لَکَ وَ فِیْکَ وَ عَلَیْکَ وَ جَمَعَ شَمْلَکُمَا عَلٰی خَیْرٍ۔
اللہ تعالیٰ اس نکاح کو بابرکت کرے اور دونوں کی پراگندگی کو خیر پر جمع کرے۔
اس کے بعد چھوہارے، بادام، کشمش وغیرہ جو کچھ شیرنی ہو، لٹائے اور حاضرین مجلس میں تقسیم کردے۔
رفاہ المسلمین میں لکھا ہے کہ اگر اس وقت نکاح کے اعلان کے واسطے دف بغیر جھانجھ کے بجایا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ اور خوشی کو ظاہر کرنے کے واسطے اگر گانا بغیر مزامیر (باجے) کے واقع ہو، بشرطیکہ امرد یا جوان مشتہات عورت کی زبان سے نہ ہو، اور کسی مسلم یا ذمی کی برائی نہ ہو، اور نماز کے حضور کا وقت بھی نہ ہو، اور غناء کی اجرت بھی مشروط نہ ہوتو بالاتفاق جائز ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک انصاری لڑکی تھی، جس کا میں نے نکاح کرادیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
ألَّا تُغَنِّیَنَّ، فَانَّ ھَذَا الْحَیَّ مِنَ الْأنْصَارِ یُحِبُّوْنَ الْغِنَاءَ
( رواہ ابن حبان فی صحیحہ)
کیا تم گاتی نہیں ہو، انصار کا یہ قبیلہ گانے کو پسند کرتا ہے۔
اور ابن عباس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ کسی ایسے آدمی کو بھیج دیتے جو کہتا کہ :
اَتَیْنَاکُمْ اَتَیْنَاکُمْ فَحَیَّانَا وَ حَیَّاکُمْ (ابن ماجہ)
مطلب یہ ہے کہ مبارک بادی کے کچھ اشعار موسیقی کے اصول و قواعد کی رعایت کے بغیر سنا دیے جائیں، تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اور باجے کے ساتھ گانا بالاتفاق حرام ہے۔ اس کی مفصل تحقیق پہلے گذر چکی ہے۔
جہیز کا بیان
جہیز میں ضرورت کی چیز دینا مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ چیزیں دی تھیں: د ویمنی چادریں، جو سوسی کی طرح ہوتی تھیں۔ دو نہالی، جس میں اسی کی چھال بھری تھی اور دو گدے، دو چاندی کے بازو بند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ، ایک گھڑا، اور بعض روایت میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔ (ازالۃ الخفا)
رخصتی
جب دولہن کو گھر لائے تو اس کی پیشانی کا بال پکڑکر یہ دعا پڑھے:
ألْلّٰھُمَّ انِّیْ أسْءَلُکَ خَیْرَھَا وَ خَیْرَ مَا جَبَلْتَھَا وَ أعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَ شَرِّ مَا جَبَلْتَھَا عَلَیْہِ ۔
(زاد المعاد بحوالہ امداد الفتاوٰیٰ، ج؍ ۲)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نکاح کرو یا خادم خریدو تو اس کی پیشانی کا بال پکڑ کر دعائے برکت کرو اور کہو:
ألْلّٰھُمَّ انِّیْ أسْءَلُکَ خَیْرَھَا وَ خَیْرَ مَا جَبَلْتَھَا وَ أعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَ شَرِّ مَا جَبَلْتَھَا عَلَیْہِ (رواہ ابو داود وابن ماجہ)
دعائے مباشرت
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنی بیوی کے پاس آؤ اور یہ دعا پڑھو:
بِسْمِ الْلّٰہِ ألْلّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَ جَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا
تو اگر اس صحبت سے کوئی بچہ مقدر ہوا تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (بخاری و مسلم)
شیخ عبدالحقؒ فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ اگر جماع کے وقت یہ دعا نہ پڑھے، تو شیطان اپنا دخل جماتا ہے ، جس کی وجہ سے اولاد کے اندر خرابی آتی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: