زبان و ادب

مُسلم سے خطاب

از -------------- چودھری عبد الرزاق صاحب مؤمن (ایکس ایم ایل اے، فیروز پور جھرکہ)

مسلم تیرا مکان بلاؤں کی زد میں ہے
اُٹھتا ہے جو بھی حادثہ گذرے ہے اِدھر سے
اب تو تیرے بیان میں سوزِ جگر نہیں
لیتا ہے تو حالات کو ہلکی سی نظر سے
تاریخ درخشاں ہے تیری اندلس کے سفر سے
آتی ہے خوشبو آج بھی میدانِ بدر سے
قیصر پہ تیرا دبدبہ کسریٰ تیرا غلام
گذرے ہیں تیرے قافلے ہر مد و جزر سے
تھا پاسباں یتیم کا بے کس پہ مہرباں
اب حالات کا غلام ہے افلاس کے ڈر سے
بے خوف تھا بے باک عدالت میں باکمال
بہلا رہا ہے دل تو دنیا کے مکر سے
ترکِ جہاد کا تجھے احساس ہی نہیں
صلح کے آثار ہیں کچھ تیرے کفر سے
زندہ ہیں سر فروشِ خلافت کے تاجدار
محروم ہیں باقی کے جہالت کے اثر سے
کس خوف سے کرتا ہے غلاموں کی غلامی
آنکھوں میں آنکھ ڈال مدینے کی نظر سے
قائم تیرے وجود سے مخلوق زمین پر
مومنؔ تیرا وجود ہے یہ سوزِ جگر سے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: