مضامین

مٹ جائے گا ظالم تیرا قانون کسی دن

مجیب الرحمٰن

،

مجیب الرحمٰن،

*قرآن مقدس جو سراپا ہدایت و رحمت ہے، دستور اور آئین ہے ظلمتوں کا چراغ کفر و ضلالت کیلئے تلوار اور باطل کیلئے للکار ہے، قرآن مجید انسانی زندگی کا راہبر و رہنما ہے ہر موڑ پر انسانی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے وہ سراپا امن و آشتی کا پیکر ہے، قرآن خدائی قانون بھی ہے اور یہ وہ قانون ہے جس کیلئے فنا نہیں ہے لافانی اور ابدی قانون ہے کیونکہ اس کا محافظ خود پروردگار ہے*
قرآن مجید کو اتارا ہی گیا تھا اسی لئے کہ اس کے قانون کی روشنی میں دنیا کا نظام چلے ذرہ ذرہ اس کے آرٹیکل اور دستور کا تابع ہو ہر مسلک و مذہب کے ماننے والوں کیلئے اس کے قانون کی پاسداری ضروری ہوگی اول مرحلہ میں یہ دور رہا لیکن دنیا کروٹیں لیتی رہیں حکمران بدلتے رہے اور ہر ایک نے اپنا اپنا قانون بنایا اور اسے عملدرآمد کرنے کی کوشش کی کچھ تو وہ تھے جو کامیاب ہوئے اور کچھ کو ناکامی ہاتھ آئی، لیکن جو کامیاب ہوئے تھے ان کی کامیابی نے لمبی زندگی نہیں پائی اور دنیا کے بدلتے تیور نے جلد ہی اس کو ٹھکانہ لگا دیا، گویا دنیا اشاروں اشاروں میں یہ سبق دینا چاہتی تھی کہ مصنوعی چیزوں کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے اور کوئی بھی اس پر قبضہ جمالیتا ہے لیکن قدرتی چیز اپنی شان و شوکت کے ساتھ زندہ رہتی ہے اور بھر پور کشش کے ساتھ رہتی ہے،
قرآن خدائی قانون ہے، اور یہ قانون تاابد رہے گا اگر آج دنیا میں اس قانون کا رواج نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز یہ نہیں کہ وہ قانون دفن ہوگیا بلکہ وہ زندہ، ہے
آج دنیا پھر سے جہالت کی طرف چل پڑی ہے اور اسی اندھیر نگری میں قدم رکھ رہی ہے جہاں سے نکالا گیا تھا ، یہاں جو بھی آتا ہے پہلے اپنے قانون لاگو کرتا ہے ہر ملک کے حکمرانوں کا یہ حال ہوچکا ہے اور حد تو یہ ہوتی ہے کہ حکمراں بننے سے پہلے ہی اپنے قانون کا اعلان کرتا رہتا ہے چند روزہ کی حکمرانی کیلئے ایسا قانون ایجاد کرتا ہے کہ انسان تو انسان درندے بھی شرما جائے، کسی ایک فرقہ کو ہراساں کرنے کیلئے اور اس کی زندگی دوبھر کرنے کیلئے ہی قانون بنایا جاتا ہے اور حکمران کو اسی میں لطف آتا ہے، ظلم وتشدد جبر و استبداد حق تلفی حقوق کی پامالی بہن بیٹیوں کا استحصال خون سے رنگین معاشرہ اس کے قانون میں شامل ہوتا ہے،
آج دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں بنی جارہی ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہے دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں سوائے ایک دو کے کہ جس کے پارلیمنٹ میں اسلام دشمنی اور مسلم مخالفت کا آئین نہ پیش کیا جاتا ہو کہیں براہ راست قرآن کے خلاف دستور نافذ کیا جاتا ہے اس کے احکامات کو تہ و بالا کرنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں کہیں تو ایسا بھی ہونے لگا ہے کہ دنیا سے مسلمانوں کاہی صفایا کردیا جائے ، اگر اس بر بس نہیں چلتا ہے تو ظالمانہ قانون لاکر ملک بدری کا راستہ صاف کردیا جائے، اور نہ جانے کیا کیا گل کھلائے جارہے ہیں اور جاتے رہیں گے،
لیکن دنیا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے اقتدار کے نشہ میں چور حکمراں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس قانون کو وہ مٹانے کے درپے ہے وہ ازلی قانون ہے اس کو فنا نہیں ہے کیونکہ اس قانون کو بنانے والا ہی فنا سے پاک ہے ،
آج طرح طرح کا کھیل کھیل کر ایک طبقہ کو جو ہراساں کیا جارہا ہے انشاءاللہ یہ بھرم ٹوٹے گا اور دنیا سے تمام ظالمانہ قانون کا صفایا کردیا جائے گا اور پھر خدا کا ہمہ جہت و ہمہ گیر، قانون کا نفاذ ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: