زبان و ادب

مکالمے کی تعریف وتشریح

محمد یاسین جہازی 9891737350

یہ لفظ عربی کے باب ِ مفاعلت کا مصدر ہے، اس کے لغو ی معنی ہیں:با ہم دیگر گفتگو کر نا، آپس میں با ت چیت کر نا،ایک شخص کا دو سرے شخص کے سا تھ ہم کلا م ہو نا۔ اردو اد ب کی اصطلا ح میں مکا لمہ ایک ایسی مخصو ص نثر ی صنفِ سخن کو کہا جا تا ہے جس میں چند افر اد و اشخا ص کا تصو ر کر کے،ان کے اوصاف و احو ال کے منا سب کر دا ر اور اقو ال ان کی زبا ن سے ادا کر ائے جا تے ہیں۔ ہر مکا لمہ تین اہم عنا صرِ تر کیبی پر مشتمل ہو تا ہے:(۱)مو ضو ع (۲)پلا ٹ (۳)کر دا ر۔
موضوع
یہ مکالمہ نگا ری کا سب سے پہلا مر حلہ ہو تا ہے، جب تک کو ئی مو ضو ع پیشِ نظر نہیں ہو گا، اس وقت تک آگے کی منزل کی طر ف قد م بڑھا نا نا ممکن ہے،اس لیے مکا لمہ نگا ری شرو ع کر نے سے پہلے ضروری ہے کہ کو ئی مو ضو ع متعین کر لیا جا ئے،بعد ازاں اسے واقعا تی اور مکا لما تی ر وپ دیا جا ئے۔
مکا لمے کے لیے کسی مو ضو ع کی قید نہیں ہو تی، کا ئنا ت کی چھو ٹی سے چھو ٹی اور بڑی سے بڑی چیز پر مکالمہ لکھا جاسکتا ہے بشر طیکہ مکالمہ نگار اسے مکالمے کے رنگ میں رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کے لیے یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی پسِ منظر پہلے سے موجود ہو تبھی مکالماتی قالب میں ڈھا لا جاسکتا ہے، بلکہ مکالمہ نگار کے زورِ قلم سے فر ضی خیا لات اور اختراعی افکار بھی مکالمے کا پیکر اختیار کر سکتے ہیں،المختصر مو ضوع کے حوالے سے سب کچھ مکالمہ نگار کی قوتِ نگارش پر منحصرہے، البتہ حقیقی زندگی سے اٹیچ احوال و واقعات اور انسانی مسائل کو موضوع بنا نے سے اس کی اثرانگیزی میں چار چاند لگ جاتا ہے، قلم کاغذ ہاتھ میں لینے سے پہلے مو ضوع کے ہر پہلو پر غور و فکر کر نے کے بعد ایک ذہنی خاکہ بنا لینا چاہیے، بعد از اں اسے کاغذ پر منتقل کر نا چاہیے۔
پلاٹ
مو ضوع کے حوالے سے مکالماتی روپ دیے ہو ئے جملوں اور گفتگو وں کو افرادو اشخاص کے طریقِ اظہار کے ساتھ مخصوص انداز میں تر تیب دینے کا نام ”پلاٹ“ہے۔پلاٹ مکالمہ کا ایسا مر حلہ ہے جہا ں مکالمہ نگار کو لکھتے وقت بہت ساری چیزوں کاخیال رکھنا پڑتاہے، مثلاًیہ کہ ادیبا نہ اسلوب زیادہ بہتر ہو گا یا عوامی بول چال کی زبا ن؟ کن اشخاص کے لیے کون سی زبان زیادہ مو زوں ہو گی؟ کس مقام پر مختصر کلام کیا جائے گا اور کس جگہ تفصیلی کلام مناسب ہوگا؟ متصور اشخاص کی نفسیات کہاں پر کیسا انداز اور کس اسٹائل کا تقاضا کر تی ہیں؟ کہا ں پر نر می اور ملا ئمت کااظہار ہو گا اور کہا ں پر غصیلہ لہجہ راس آئے گا؟ کس جملے کے ساتھ حر کات و اشارات لابدی ہو ں گے اور کن الفاظ پر مہر سکوت و مجسمہ ئجمو د بننا پڑے گا؟ کس کردار کے ساتھ رنگ روپ اختیار کر نا زیب دے گا اور کس کے ساتھ زیب نہیں دے گا؟ پلاٹ کی تر تیب کیسی ہو نی چاہیے کہ کہیں سے بے ربطی نہ جھلکے اور سامعین و ناظر ین کو بے لطفی کا احساس نہ ہونے پائے؟ وغیر ہ وغیر ہ۔
مکالمے کے حسن وقبح، پسندیدگی و نا پسندیدگی اور معیار ی و غیر معیار ی کا دار و مدار اسی پلاٹ کی تر تیب پر ہے، گویا”پلاٹ“مکالمے کے لیے ایک آزمائش کن خار دار وادی ہے، اگروہ اس وادی پرخار سے صحیح وسالم گذر جاتا ہے، تو گویا وہ اپنے مقصد میں ننا نوے فیصد کا میا ب ہے، اور اگر وہ اس مقام پر لغزش کھا جاتا ہے، تو وہ تقر یباً نا کام ہے، اس لیے اس وادی سے صحیح سا لم گذر جانے کے لیے پلاٹ کے ان تمام تقاضوں سے واقف ہو نا ضروری ہے جو اس میں در کار ہو تے ہیں، جن میں سے ادبی لیا قت اور سائیکالو جی پر اتنی معلومات رکھنا -جن سے کر دا ر کا روں کی نفسیا ت پر کھنے کی صلا حیت پید ا ہو جا ئے اور ان کے مطا بق مکا لما تی جملے فٹ کر سکیں -سر فہر ست ہیں، علا وہ ازیں بار بار مکا لمو ں کا مشاہدہ و مطا لعہ، متصو ر اشخا ص سے تبا دلہئ خیا لا ت اور جنر ل مطا لعہ با لخصو ص تا ریخ اور جغرا فیہ کا مطا لعہ نہایت ضروری ہے۔
کر دا ر
کر دا ر سے مر اد متصو ر اشخا ص وافر اد کا وہ عمل اور رول ہے، جس کے لیے انھیں متصو ر کیا گیا ہے۔یہ کر دا ر ڈرا مے میں بھی ہو تا ہے۔ ڈر ا مے کا کارندہ اور رو لر کلا می تأ ثر اور صد ا کا ری کے سا تھ ساتھ جسما نی ایکٹنگ بھی کر تا ہے اور کر دا ر کے منا سب رو پ بھی دھا ر تا ہے، لیکن مکا لمے کا کا ر ند ہ کسی حد تک صد ا کا ری تو کر تا ہے، لیکن جسما نی ایکٹنگ با لکل نہیں کر تا، کیو ں کہ یہ جس طر ح ڈرا مے کے لیے ایک کما ل اور فنی مہا رت تصو ر کیا جا تا ہے،اسی طر ح یہ مکا لمے کی رو ح کے منا فی اور معیو ب سمجھا جاتا ہے، اس لیے کہ ڈرا مے کا بنیا دی مقصد تفر یحِ طبع ہو تا ہے اور اس کا سا را دا رو مدا ر ایکٹنگ او ر مضحکہ خیز رو پ اختیار کر نے پر ہے، جب کہ مکا لمے کا اصل مقصد اصلا ح ہو تا ہے۔ اصلاح انسان کا فر ض ہے اور فر ض کسی تصنع سے ادا نہیں ہو تا، اوریہی چیز ایک مکا لمے کو ڈرا مے سے ممتا ز کر تی ہے۔ لہذا مکالمے کے کر دا ر کا رو ں او ر کا ر ند و ں کے لیے ضرو ری ہے کہ وہ کو ئی رو پ دھا ر نے یا کسی طر ح کی ایکٹنگ کر نے سے بالکلیہ اجتنا ب کر یں۔ ورنہ مکا لمہ اپنے بنیا دی مقصد کی اثر انگیزی سے عا ری ہو جائے گا اور وہ ایک تھیڑ بن جائے گا۔
کو ئی روپ دھارنے اور کسی طرح کی ایکٹنگ سے با لکلیہ اجتناب کر نے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ با لکل ا س کی ضد کی شکل اختیار کر لے یا ایک بے جان لاش بن جائے، بلکہ اس سے مر اد یہ ہے کہ نہ تو اس میں اِ فراط سے کام لیا جائے اور نہ تفریط سے، بلکہ معتدل اور میانہ رو ی اختیار کیا جائے۔ جہاں تک سادگی کے ساتھ نقل ممکن ہو، وہیں تک نقالی کی جائے۔ اس حد سے تجاوز کر کے بالکلیہ اصلی روپ میں متمثل ہو نے کے لیے بے جا تکلفات کرنا اور سنجیدگی اور وقار کے دائر ے سے نکل کر سراپا ایکٹربن جانا انتہائی نا زیبا اور نا مناسب ہے۔
تسلسل
مکالمے میں واقعاتی اور مکالما تی تسلسل کا پایا جانا ضروری ہے، اس کے بغیر مکالمہ کرکرا، بے لطف اور بد وضع ہو جاتا ہے، اگر مکالمہ نگار اپنے خیالات کو درج ِذیل خانوں میں تقسیم کر کے مکالمہ نگاری کرے،تو بہ آسانی تسلسل قائم کیا جاسکتاہے:
(۱)ابتدا:اس حصے میں وہ چیز یں بیان کی جاتی ہیں جو یا تو آگے کی کہانی سمجھانے کے لیے ضروری تمہید ہو تی ہیں یا پھر مکالمے کے اصل واقعے کا آغاز ہوتی ہیں۔
(۲)ارتقا: اس مر حلے میں وہ باتیں درج کی جاتی ہیں، جو مکالمے کو آگے بڑ ھاتی ہیں اور موضوع کا اصل مدعا ہوتی ہیں۔
(۳)انتہا: ا س خانے میں مذکورہ با لا دونوں حصوں کی روشنی میں کہانی اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے اور اسی پر مکالمہ مکمل ہوجاتاہے۔
مکالمہ اور اسٹیج
چوں کہ مکالمہ تماشائیوں کے سامنے اسٹیج کی جانے والی صنف ادب ہے، اس لیے مکالمے کے لیے اسٹیج کا تصور جز و ِ لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے، لہذامکالمہ نگار کے لیے مکالمے پیش کیے جانے والے اسٹیج کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے، مثلاً مکالمہ ریڈیو کے اسٹیج سے پیش کیا جائے، تو چو ں کہ اس میں مشاہد ہ نہیں ہو تا،اس لیے اس اسٹیج کے تقاضے کے پیش ِ نظر ہر کردارکی ادائیگی کے لیے صوتی تأ ثر اور صداکاری کا سہارا لیا جائے، یا مثلاً مکالمہ بہ راہِ راست سامعین و ناظرین کے رو بر و کسی اسٹیج سے پیش کیا جائے، تو وہا ں صدا کاری کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا بہت عملی کر دار بھی پیش کیا جائے۔
اب ڈرامے کی طرح مکالمے کے تماشائی بھی سننے اور اصلاح کا درس لینے سے زیادہ دیکھنے میں دل چسپی کا مظاہرہ کر نے لگے ہیں، اسی وجہ سے مکالمات سے زیادہ عملی پیش کش اہمیت اختیار کر تی جارہی ہے، اس صورتِ حال میں مکالمے کو کامیاب بنانے کے لیے دو طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں: (الف)مکالمات سے زیادہ عمل اور کردار کااضافہ کر دیا جائے۔ (ب)مکالمات کو مزاحیہ بنادیاجائے۔
جہا ں تک اول الذکر صورت کی بات ہے، تو اس سلسلے میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ زیادہ کر دار مکالمے کی روح کے منا فی اور اس کے لیے سخت معیوب ہے، اس لیے ا س سے گریز نا گزیر ہے۔البتہ آخرالذکر صورت سب سے عمدہ اور بہتر صورت ہے، کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اصلاح وارشاد کے لیے طنز و مز اح جس قدر اثر انگیز ہے، اتنا کو ئی اور شی نہیں، اس لیے مزاحیہ انداز سے جہاں عملیت کو تر جیح دینے والے حضرات کے لیے بھی دل چسپی کا باعث بنے گا، وہیں ان کے دلوں میں اصلاح کی فکر بھی انگڑائیا ں لینے لگے گی۔راقم الحروف نے بار بار تجر بے سے اسی صورت کو سب سے مفید،سود مند اور کار گر پایا ہے۔مکالمے کے مکالمات کو مختلف طریقوں سے مزاحیہ بنایا جاسکتا ہے، ذیل میں چند طریقے در ج ہیں:
(۱) طنز و مزاح نگاری کے اصولوں کو مدِ نظر رکھا جائے اور ان کی روشنی میں مکالمہ نگاری کی جائے۔
(۲)مکالمات کی پر وڈی(۱) کر دی جائے۔
(۳)غیر محسوسات کو محسوسات کے پیکر میں ڈھال دیا جائے۔
(۴)غیر موجود کو موجود فر ض کر لیا جائے، او راسے بطور رولر پیش کیا جائے۔
(۵)غیر ذوی العقول اشیا کو ایکٹر بنا دیا جائے۔
(۶)غیر اہم کر دار کو اہم کر دار کی شکل دے دی جائے۔
(۷) موضوع کے مر کزی قصے سے چھوٹے موٹے ضمنی قصے بھی جو ڑ دیے جائیں، لیکن یہ ملحوظ ِ خاطر رہے کہ ان جز وی قصوں کی کثر ت نہ ہو نے پائے کہ مر کز ی قصہ ان میں فنا ہو جائے۔
(۸)یہ کوئی حتمی و قطعی طریقے نہیں ہیں، بلکہ راقم الحروف کے تجر با تی و استقرائی طریقے ہیں، جن میں شکست و تعطل اور حذف و اضافہ عین ممکن ہے، کیو ں کہ مکالمہ ایک نفسیاتی فن ہے اور تمام لو گ نفسیات و طبعیات کے اعتبار سے مختلف واقع ہو ئے ہیں،اس لیے زمان، مکان اور ماحول کے اعتبار سے الگ الگ نفسیات کے حامل حضرات اور کردار ادا کنندگان کی عمر، عملی قابلیت، سامعین کی قوتِ فہم اور ان جیسے ضروری پہلووں پر مد ِ نظر رکھتے ہو ئے کسی طریقے سے مزاح پیدا کیا جاسکتاہے، لیکن یہ خیال رہے کہ حد سے زیادہ مزاح بھی پیدا نہ ہو نے پائے، ورنہ مکالمہ، مکالمہ نہیں رہے گا، بلکہ وہ ایک تھیڑاور پھکڑبن جائے گا۔
رموز
ہر واقعہ چو ں کہ کسی نہ کسی زمان و مکان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا کوئی نہ کوئی پسِ منظر ہو تا ہے، اس لیے ان کی وضاحت یا ان کی طر ف اشارے کرنے کے لیے کچھ عملی وغیر عملی رموز کے سہارے لیے جاتے ہیں، جیسے: کوئی خاص وقت بتانے کے لیے گھڑی استعمال کی جائے، جگہ مثلاً مسجد کی تعیین کے لیے اذان دی جائے، میٹنگ کی صورت نمایاں کر نے کے لیے کر سیا ں سجائی جائیں، المختصر مکالمہ ڈائریکٹر مکالمے کی نوعیت، کر دار اور پلاٹ کے تقاضے کے مطابق کسی بھی چیز کو رموزِ مکالمہ بنا سکتا ہے۔ ان رموز کی وضاحت، لکھتے وقت اندرونِ سطو ر بریکٹ لگا کر بھی کی جاسکتی ہے اور مشق و تمر ین کے دوران عملی ہدایات کے ذریعے بھی۔
مشق
کسی بھی علم وفن میں مہارت و لیا قت پیدا کر نے اور فنی چابک دستی بڑھانے کے لیے مشق و تمرین ضروری ہے، اس لیے خواہ مکالمہ نگاری کی جائے یا اسٹیج کرنے کی تیاری، دونوں صورتوں میں جودت و حسن اور فن کاری پیدا کرنے کے لیے مشق ضروری ہے، لکھنے کی مشق تو بار بار لکھنے سے ہی ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں باربار مشاہدے سے بھی مشق ہو جاتی ہے اور تیاری کے لیے ہدایت کا ر جو بھی صورت تجویز کرے، وہ مشق کے لیے مفید ہو گی۔
اقسام
مکالمے کے لیے چوں کہ نہ توکسی مو ضوع کی قید ہو تی ہے اور نہ کسی زمان و مکان کی، ہر موضوع پرمکالمہ لکھا جاسکتا ہے اور ہر زمان ومکان میں اسٹیج کیا جاسکتا ہے، اس لیے نئے نئے احوال وواقعات اور موضوعات کے اعتبار سے اس کی درجنوں قسمیں ہو سکتی ہیں، جیسے:تعلیمی مکالمہ،سیاسی مکالمہ، سماجی مکالمہ، تہذیبی وثقافتی مکالمہ، اصلاحی مکالمہ، مذہبی مکالمہ، تاریخی مکالمہ، مزاحیہ مکالمہ،علمی مکالمہ، سائنسی مکالمہ، مناظراتی مکالمہ وغیرہ وغیرہ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: