اہم خبریں

مگر ایسا کیوں نہیں ۔۔۔؟

سیف ازہر فیکلٹی آف ایجوکیشن جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

اسے بالکل بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ این آر سی اور سی اے اے کیا ہے ۔۔۔ مگر ان دونوں سے اس سے دیش کا کیا ہوگا ۔۔۔؟ دیش کس سے ہے ۔۔۔؟ دیش کیسے بنتا ہے ۔۔۔؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ دیش آپ سے اورہم سے بنتا ہے ۔۔۔ دیش ہم سے ہے ، مودی اور امت شاہ سے نہیں ۔۔۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے یہ دو ویکتی ایسے ہیں جو کڑے فیصلے لے رہے ہیں ۔۔۔ تو آپ کو بتا دیں کہ ہٹلر بھی کڑے فیصلے لیا کرتا تھا ۔۔۔ اس کا حشر ۔۔۔ خیر بتانے کی ضرورت نہیں۔
کسی کو لگتا ہے کہ مودی اور امت شاہ کو کون روک لے گا ۔۔۔ یہ جو چاہیں گے وہی ہوگا ۔۔۔ میاں اندارا گاندھی کو بھی یہی لگتا تھا ۔۔۔ ہمارے والد بتاتے ہیں کہ اس دور میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی اندرا کو ہٹا پائے گا مگر نتیجہ سب کو پتا ہے۔
دنیا کا ایک اصول ہے ۔۔۔ کوئی بھی چیز،ملک ہو، قوم ہو ، نسل ہو یا کچھ بھی ہو اپنے عروج کے بعد پھر زوال کا شکار ہوجاتی ہے ۔۔۔ سوچئے مودی اور شاہ کےلئے اب اس عروج کے بعد کونسا مرحلہ ہے۔۔۔؟
چلئے مان لیتے ہیں این آر سی اور سی اے اے نافذ ہوگیا ۔۔۔ مگر آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ کسی بھی قانون کے ، سکے کی طرح دو پہلو ہوتے ہیں ۔۔۔ ایک قانون بنانے اور نافذ کرنے والے دوسرے قانون کو ماننے اور اس پر عمل کرنے والے ۔۔۔ اگر آپ ماننا چھوڑ دیں ۔۔۔ آپ سے کون منوا لے گا ۔۔۔؟
چلو سی اے اے اور این آرسی پرعمل بھی کرلو مگر آپ کا عمل آرٹیکل 14 کی صریح خلاف ورزی ہے ۔۔۔ ایک طرف سی اےاے اور این آرسی پر عمل دوسری اور آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی چہ معنی دارد۔۔۔؟
اگر یہ صرف شہریت دینے اور ثابت کرنے کا معاملہ ہے تو صرف ایک ہی کمیونٹی کو کیوں باہر رکھا گیا ہے ۔۔۔؟ کیا صرف تین پڑوسی ملکوں میں ہی اقلیت مظلوم ہیں ۔۔۔؟ کیا برما میں کوئی مظلوم نہیں ۔۔۔؟ کیا سری لنکا میں کسی اقلیت پر ظلم نہیں ہوا۔۔۔؟ کیا چائنا میں کسی کے ساتھ اتیاچار نہیں ہوا۔۔۔؟ پڑوسی ملک نیپال میں کسی کو پرتاڑت نہیں کیا گیا۔۔۔؟ ۔۔۔ اگر نہیں ۔۔۔ تو پھر سری لنکا میں دس لاکھ تمل ہندو کون ہیں۔۔۔؟ برما میں 13 لاکھ مسلم کون ہیں ۔۔۔؟ نیپال کے 10 یوں لاکھ مدھیشی ہندو کون ہیں۔۔۔؟
چلئے مان لیتے ہیں یہ سب غلط ہے مگر کیا ضمانت ہے کہ جن لوگوں کو شہریت دی جائے گی ان سے لسانی ، ثقافتی اور دیگرسطحوں پر ٹکراؤ نہیں ہوگا ۔۔۔؟ جس دیش میں کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں فی الحال داخلہ کےلئے انر پرمٹ کی ضرورت ہے وہاں کیسے مینیج ہوگا۔۔۔؟ کیا یہ سب دیش ٹوٹنے کی وجہ نہیں بنے گا۔۔۔؟ اس کی کیا گارنٹی ہے ۔۔۔؟
چلئے ان سب کے باوجود بھی ٹھیک ہے توکوئی شہریت کیوں ثابت کرے ۔۔۔؟ کوئی گھس پیٹھیا ہمارے دیش میں کیسے گھسا ۔۔۔؟ فوج کیا کررہی تھی ۔۔۔؟ خفیہ ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں۔۔۔؟ آپ کے انپڑھ افسران اور کرم چاریوں کی وجہ سے ہمارے دستاویز میں خامیاں ہیں تو ہم کیوں درست کرائیں۔۔۔؟ ایسے انپڑھ لوگ کرمچاری اور افسر کیسے بن گیے ۔۔۔؟ کس نے گھوس کھایا۔۔۔؟ جب سب آپ کا فیلئر ہے تو ہم پر اس کا بوجھ کیوں۔۔۔؟ ہم کیوں ثابت کریں شہریت۔۔؟
چلئے مان لیتے ہیں ۔۔۔ ہندستان ہے ۔۔۔ ایسی باتیں ہوجایا کرتی ہیں ۔۔۔ آپ کو گھس پیٹھئے تلاش کرنا ہے نا ۔۔۔ کوئی نہیں ۔۔۔ جب ہماری پولیس لوگوں کے فریج اور بریانی میں پڑے گوشت کی قسم تلاش کرلیتی ہے تو گھس پیٹھیوں کو کیوں تلاش نہیں کر سکتی ۔۔۔؟ لشکر طیبہ ، حزب المجاہدین اور نہ جانے کن کن آتنکی سنگٹھنوں کے آتنکیوں کے گھستے ہی ہماری خفیہ ایجنسیاں بتا دیتی ہیں کہ ’’فلاں سنگٹھن کے اتنے آتنکی دہلی میں گھسے ‘‘۔۔۔ تو گھس پیٹھیوں کی تعداد بھی گن کے بتا دیں ۔۔۔ کوئی جلدی نہیں ہے ۔۔۔ چھ مہینہ ، سال ، دو سال لے لیں ۔۔۔ کم سے کم این آر سی کے نام پر دیش کا لاکھوں ہزار کروڑ روپیہ برباد ہونے سے تو بچ جائے گا۔۔۔ مگر ایسا کیوں نہیں۔۔؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: