اہم خبریں

مگر تیری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

شریک غم: مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

کاروانِ آخرت برق رفتاری کے ساتھ دن بدن اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے اوریہ اپنے ساتھ ایسے ایسے لعل و گوہر سے زیادہ قیمتی مشاہیر شخصیات اور علماء کو بہا لے جارہا ہے کہ جس کی نظیر و مثیل کا دوبارہ ملنا اس عہد زوال اور علمی قحط الرجال میں نا ممکن نظر آتا ہے، بحر فنا کی ہر ایک موج ہم سے کیسے کیسے غواصانِ فکر و دانش چھین کے لے جارہی ہے اسکا اسے اندازہ نہیں ہے ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ دستِ اجل کے مضراب سے نغمہ تارحیات مسلسل کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس سے ہر لمحہ اول وآخر فنا،باطن و ظاہر فنا کے نوحے پھوٹ رہے ہیں۔ کار جہاں کی بے ثباتی کا ثبوت تو ازل سے سب کے سامنے آشکارا ہے لیکن جب ‏آسمان علم و عمل کا درخشندہ ستارہ،علوم ولی اللہی کا امین، فکر قاسمیت کا نیر تاباں، تحقیق و تدقیق کا ماہِ ضوفشاں، قدوةالمفسرين، رئیس المحدثین، فخر المتکلمین،زبدۃ العارفين،استاذی مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری نور اللہ مرقدہ جیسی علمی و عبقری شخصیت داغ مفارقت دے جاتی ہے تو اس دنیا کے فانی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا، اور ایسی مفارقت پر جس قدر نوحہ و ماتم گریہ و افسوس کیا جائے کم ہے
شورش کاشمیری کا شعر آج حرف بحرف صادق آرہا ہے
عجب قیامت کا حادثہ ہے اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبیں نہیں ہے
تیرے جدائی سے مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
آج حزن و یاس کی الگ کیفیت طاری ہے، انگلیاں سرد،قلم اداس اور دل افسردہ ہے وجود پر یاس و حسرت کی فضا چھائی ہوئی ہے،کہ اخلاص وللہیت کا پیکر، دیانت وامانت کا خوگر، علم و عمل کا پاسبان، سینکڑوں دلوں کی دھڑکن،دار العلوم دیوبند کے مسند حدیث ہر جلوہ افروز ہونے والا بے مثال محدث و مفسر، بے نظیر فقیہ اور منطقی، سرخیلِ دیوبندیت ترجمانِ حنفیت بتاریخ ٢٦ رمضان المبارک ١٤٤١ ھ، 19 مئی 2020ء کو جدائی کا غم دے گیا ہے
انا لله وانا اليه راجعون، ان الله ما اخذ وله مااعطى وكل شئ عنده باجل مسمى.

شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری نور اللہ مرقدہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھی درس و تدریس،تصنیف و تالیف،وعظ و نصیحت،افتاء و ارشاد،ترغیب و ترہیب، تذکیر و تزکیہ،انذار و تبشیر،امر بالمعروف و نہی عن المنکر غرض کہ دین متین کے ہر شعبہ میں حفاطت شریعت کے ہر میدان میں آپ نے وہ انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ تاریخ کے صفحات پر آپ کا نام نامی اسم گرامی سنہرے حروف سے لکھا جائے گا
آپ کی ذات والا صفات گوناگوں صفات کی حامل اور مختلف و متنوع صلاحیتوں کے جامع تھی آپ جہاں کامیاب مدرس و معلم تھے وہیں بہترین مصنف اور مؤلف بھی جہاں آپ قابل قدر مصلح و داعی تھے وہیں آپ قابلِ فخر مفسر و محدث بھی تھے جہاں خود شناسی و خدا شناسی کا ہنر جانتے تھے وہیں مردم گری اور رجال سازی میں بھی بے نظیر تھے، جہاں اپنی ذات میں بے پناہ رعب و دبدبہ رکھتے تھے وہیں ظریفانہ طبع کے بھی مالک تھے فیاض قدرت نے خلف اور متقدمین کے علوم کو اس ایک شخصیت میں جمع کردیا تھا کسے خبر تھی کہ 1940 ء کو جناب یوسف صاحبؒ کے گھر کالیڑہ، شمالی گجرات (پالنپور) میں پیدا ہونے والا یہ لڑکا ایک دن مسند قاسمیت پر جلوہ افروز ہوکر لاکھوں تشنگان علوم و فنون کی علمی پیاس کو بجھائے گا اور یہ کس نے سوچا تھا کہ مئی 2020 کو اسی سالہ حیات کی تکمیل کرکے لاکھوں سوگواروں کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے یوں جاملے گا
آپ کے لاکھوں شاگرد اقطائے عالم میں جہاں دین متین کی خدمات سے وابستہ ہیں اور آپ کی مایہ ناز تصنیفات اور کے تمام علمی و عملی خدمات آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہیں
میں آپ کی کیا تعزیت کروں میں جبال علم عرفان کے لاکھوں سوگواروں کی تسلی کے لیے کیا لکھوں بلکہ مادر علمی اور دار الحدیث کے در دیوار چمنستان قاسمیت کے ایک ایک پھول اور غنچہ کو کیسے دلاسہ دوں؟ اس المناک اور دردناک موقع پر حضرت الاستاذ کی رحلت پر میں خود مستحق تعزیت ہوں
ان العين لتدمع وإن القلب ليخشع
وانا بفراقك يا شيخنا لمحزونون
اللہ تعالی تمام شاگردوں کو خاص طور پر مادر علمی دار العلوم دیوبند اور اس سے وابستہ تمام افراد کو اور حضرت والا کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
رب ذوالجلال آپ کے جملہ حسنات کو قبول فرمائے، سیات کو حسنات سے مبدل فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: