اہم خبریںمضامین

مہتمم حضرات سے مؤدبانہ گزارش

مفتی محمد سفیان القاسمی
مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے بتایا کہ میرے مدرسہ میں تعمیری کام چل رہا ہے اسی نسبت سے فراہمی ء مالیات کے لئے میں چندہ میں نکلا ہوا ہوں. اس پر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی کمر ٹوٹ رہی ہے، لوگ بتا رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے بعد اگر مدارس کھلتے ہیں تو یہ سال مدارس کے لئے مالی اعتبار سے بڑی مشقت والا ہوگا. تعمیری کام تو دور کی بات خود مدارس کے طلبہ کے طعام و قیام اور اساتذہ کی تنخواہ کا انتظام بھی مشکل ہوگا، کیوں کہ رمضان کے موقع سے جو لوگ زکوٰۃ کی رقم مدارس کو دیتے تھے اس مرتبہ اس کا بڑا حصہ لاک ڈاؤن سے پریشان غریبوں کو چلا گیا اور کارو بار بند رہنے اور صحیح طور پر نہ چلنے کی وجہ سے پہلے کی طرح مدارس کو تعاون نہیں مل سکے گا. ظاہر ہے مسئلہ کا حل اب یہی نکالنا ہوگا کہ مدرسہ کا جو سالانہ بجٹ ہوتا تھا اس میں کٹوتی کی جائے اور اس کی شکل یہی ہو سکتی ہے کہ تعمیراتی کام نہ کیا جائے.

مگر مہتمم صاحب کے تعمیری جذبہ کو دیکھتے ہوئے مجھے لگا کہ ہو سکتا ہے ان کے پاس خطیر رقم ہوگی اور ان کو پورا اطمینان ہوگا کہ طلبہ کے اخراجات اور اساتذہ کی تنخواہ کے بعد بھی بڑی رقم بچ جائے گی اس لئے تعمیری کام شروع کر دیا گیا ہے مگر مزید استفسار سے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے. پھر میں نے سوچا کہ مہتمم صاحب سے ہی رابطہ کر لوں اور پوچھ کر معلوم کر لوں کہ ابھی تعمیری کام کرنا کیا ضروری ہے مگر ذہن میں آیا کہ یہی ایک مہتمم نہیں ہیں اور بھی بہت سے مہتمم ہیں جو تعمیری کام کروا رہے ہیں یا عنقریب کروانے جا رہے ہیں اس لئے ان سبھی کی خدمت میں گزارش کروں اسی غرض سے یہ تحریر ان کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں

مگر گزارش کیا کروں؟ . کیا ان سے تعمیری کام روکنے کی درخواست کروں؟ نہیں ہرگز نہیں میں کون ہوتا ہوں ان کو ایسا مشورہ دینے والا، وہ خود حالات سے واقف ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ تمام نشیب و فراز سے باخبر ہیں، البتہ ہم جیسے لوگوں کو بھی کچھ واقفیت ہوجاتی کہ ایسے وقت تعمیری کام کروانے میں کیا مصلحت و دور اندیشی ہے تو ہمیں بھی اطمینان حاصل ہوتا، تاہم ان سے مؤدبانہ التماس ہے کہ وہ اپنے تعمیراتی عزائم پر نظر ثانی فرمائیں، اگر ان کے پاس طلبہ کے طعام و قیام اور اساتذہ کی تنخواہ سے زائد رقم ہو تو ضرور تعمیراتی کام کروائیں ورنہ اگر کوئی حرج نہ ہو تو اس سال تعمیراتی کام نہ کروائیں، اور اگر تعمیراتی کام کی وجہ سے اساتذہ یا طلبہ کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو میرے خیال میں یہ اچھی بات نہیں ہوگی. امید ہے کہ وہ اس پہلو پر غور فرمائیں گے ، اللہ تعالیٰ ان حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے اور ان کی ذات سے ملت اسلامیہ کو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچاءے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: