اسلامیات

مہر کے احکام ، اقسام اور مسائل

ازقلم : *محمد ہاشم اعظمی مصباحی*
نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی
اسلام ایک مکمل دین اور کامل ضابطہ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اس کے پاکیزہ اصول و ضوابط سےپہلوتہی کرنا بہت سی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے مذہب اسلام میں نکاح ازدواجی زندگی کے لئے شرط لازم قرار دیا گیا ہے جس میں مہر کو وجوب کے درجہ میں رکھا گیا ہے.
*مہر کی اصطلاحی تعریف* نکاح کے وقت جو مخصوص رقم مرد کی طرف سے عورت کے لئے طے کی جاتی ہے خواہ وہ نقدی کی شکل میں ہو یا بعد میں ادائیگی کے وعدہ کی صورت میں ہو وہ مہر کہلاتی ہے اسلام نے مرد پر گھر کے خارجی اور مالی امور کی ذمہ داری رکھی ہے اور عورت پر گھر کے داخلی امور کی ذمہ داری رکھی ہے مرد اصولی لحاظ سے عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہے اور نکاح کو اسی ذمہ داری کے تحت قبول کرتا ہے اور اس کے قبولیت کی نشانی مہر ہے مہر کو اس لیے ازدواجی مسئلہ کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے کہ اس کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے: عورتوں کو ان کے مہر ادا کر دو عورتوں کو خوش دلی سے ان کے مہر ادا کرو مردوں کو چاہئے کہ اس کے ادا کرنے کا پورا پورا خیال رکھیں (النساء)
*مہر کی تین قسمیں ہیں* :(1) مہر معجل جو خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو (2) مہر مؤجل جسکے لئے کوئی میعاد مقرر ہو (3) مہر مطلق جسکے لئے ان دونوں صورتوں میں سے کچھ نہ ہو (بہار شریعت ح ۷ مہر کا بیان ص۱۵۸)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : معجل جو پیش از رخصت دینا قرار پایا ہو تو اس صورت میں عورت کو اختیار ہے کہ جب تک وصول نہ کرلے رخصت نہ ہو یا رخصت تو ہو جاۓ لیکن وہ جب چاہے طلب کرسکتی ہے یا اپنے نفس کو شوہر سے روک لے اگرچہ رخصت کو بیس سال گذر جاۓ. دوسرا مؤجل جسکی میعاد قرار پائی ہو اس سال بیس سال وغیرہ اس میں وقت میعاد تک عورت مطالبہ وغیرہ نہیں کرسکتی ہے بعد میعاد جب چاہے مطالبہ کرسکتی ہے تیسرا مطلق یا مؤخر جسکے لئے کوئی میعاد مقرر نہ ہو اس میں تاوقتیکہ موت یا طلاق نہ ہو عورت کو مطالبہ کا اختیار نہیں(فتاویٰ رضویہ ج۱۲ ص۱۰۱ مہر کا بیان)
*مہر کی شرعی مقدار* : اب رہا یہ سوال کہ مہر کتنی ہونی چاہئے اس کی مقدار کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مہر کی زیادتی کا اسلام نے کوئی تعین نہیں کیا ہے لیکن مہر کی اقل مقدار متعین کیا ہے.
اعلی حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : مہر در شرع مطہر جانب کمی حدے معین ست یعنی دہ درہم جانب زیادت ہیچ تحدید نیست ہر چہ کہ بستہ شود ہماں قدر بحکم شرع محمد لازم آید صلی اللہ علیہ وسلم ترجمہ : شریعت پاک میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم مقرر ہے لیکن زیادہ سے زیادہ کی کوئی مقدار نہیں بلکہ جتنا بھی مقرر کر دیا جائے وہ شریعت محمدی میں لازم ہوگا صلی اللہ علیہ وسلم(فتاوی رضویہ ج١٢ باب المہر ص ١٢٣) صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں:مہر کم سے کم دس درہم ہے اس سے کم نہیں ہو سکتا جس کی مقدار آج کل کے حساب سے دو تولہ ساڑھے سات ماشہ گرام چاندی یا اس کی قیمت ہے (بہارشریعت ج ٢ح ٧ ص ٦۴ مطبوعہ مکتبة المدینہ ) فتاوی فقیہ ملت میں ہے : دس درہم کی موجودہ حیثیت دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی کے برابر ہے جو کہ موجودہ وزن کے حساب سے ٣٠ گرام ٦١٨ ملی گرام ہے(ج ١ص ۴٢١ )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہر کی اکثر مقدار میں کوئی تعین نہیں جتنا چاہے اتنا دیں لیکن جتنا مقرر کردیں گے اتنا دینا واجب ہوگا اور مہر کی اقل مقدار کم سے کم دس درہم ہے کہ اس سے کم مہر نہ ہوگا دس درہم کی موجودہ حیثیت دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے جس کا وزن ٣٠ گرام ٦١٨ ملی گرام ہے اس سے کم مہر نہ ہوگا لھذا آج کے دور میں جس نے سات سو چھیاسی یا گیارہ سو روپئے مہر مقرر کیا یہ مہر نہ ہوگا جس نے پانچ ہزار مقرر کیا یہ صحیح ہے واضح رہے کہ مہر کا ذکر نکاح کے لئے شرط نہیں ہے لھذا اگر کسی نے مہر مقدار سے کم مقرر کیا یا مہر مقرر ہی نہیں کیا مہر ذکر ہی نہیں کیا تب بھی نکاح ہو جائے گا فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: رہا اس مقدار یعنی دس درہم سے کم مہر مقرر کرنا تو اس صورت میں بھی نکاح ہو جائے گا بلکہ مہر نہ مقرر کرنے سے بھی نکاح صحیح ہوگا ایسی صورت میں مہر مثل لازم ہوگا کیوں ذکر مہر نکاح کے لئے شرط نہیں(فتاوی مرکز تربیت ج اول باب المہر ص۵٦٠ )
*مہر مثل کی شرعی حیثیت* : اب رہا یہ سوال کہ مہر مثل کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو مہر عورت کے خاندان میں اس جیسی عورت کا ہو وہ مہرمثل ہے جیسے اس کی حقیقی بہن ،چچازاد، تایازاد یا پھوپھی زاد بہن کا مہر۔ماں یا خالہ کا مہر اس کے لیے مہر مثل نہیں جب کہ وہ دوسری برادری یا خاندان کی ہو البتہ اگر ماں اسی خاندان کی ہے مثلاً اس کے باپ کی چچا زاد بہن ہے تو اس کا مہر بھی اس کے لیے مہر مثل ہے مہر مثل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں عورتیں عمر،خوب صورتی اور مال میں برابر ہوں دونوں ایک ملک اور ایک زمانے کی ہوں،عقل و سلیقہ ، پارسائی اور علم وادب میں بھی دونوں یکساں ہوں دونوں کنواری ہوں یا دونوں ثیبہ ہوں ہم مختصر لفظوں میں مہر مثل کی یہ تعریف بھی کرسکتے ہیں کہ جو مہر لڑکی کے پدری رشتے دارعورتوں میں اس جیسی لڑکی کا ہواورآبائی خاندان کی لڑکیوں کے شوہروں اور اس لڑکی کے شوہر میں قابل ذکر مناسبت موجود ہو تو وہ مہر مثل کہلاتا ہے مذکورہ عورتوں کی جو مقررہ مہر ہے اتنا مہر مثل کے طور پر ادا کرنا واجب ہوگا عورت کا اصل حق یہی مہر مثل ہے البتہ زوجین باہمی رضامندی سے کوئی اور مقدار بھی مقرر کرسکتے ہیں۔ یہ مہراس وقت واجب ہوتا ہے کہ جب نکاح مہر نہ ہونے کی شرط پر کیا گیاہو یا مہر مقررہی نہ کیاگیا ہو یا کوئی ایسی چیز بطور مہر مقررکی گئی ہو جو مہر بننے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو یا نکاح فاسد ہو مہر بھی مقررنہ کیا گیا ہو اورزوجین میں زن شوئی کا تعلق بھی قائم ہوگیا ہو وغیرہ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: