اہم خبریں

مہگاواں گڈا میں امارت شرعیہ کے زیر اہتمام خصوصی مشاورتی اجلاس اختتام پذیر

گڈا جھارکھنڈ / رپورٹ : مفتی سفیان ظفر قاسمی

مدرسہ بدر العلوم مہگاواں میں ایک خصوصی مشاورتی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا، یہ اجلاس امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی ہدایت پر امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے زیر اہتمام منعقد ہوا، اجلاس کا عنوان تھا،، بنیادی دینی تعلیم کا فروغ، معیاری عصری اداروں کا قیام اور اردو زبان کا تحفظ،، جس کی صدارت مفتی سہیل اختر قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ نے فرمائی اور نظامت کے فرائض مولانا مزمل قاسمی مبلغ امارت شرعیہ نے انجام دیئے،

مجلس کا آغاز دس بجے دن میں قاری محمد سرور کی تلاوت سے ہوا بارگاہ رسالت میں مفتی مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ نذرانہ عقیدت پیش کیا، مذکورہ موضوع پر کئی علماء کرام و دانشوران قوم و ملت نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع سے مفتی سفیان ظفر قاسمی گڈاوی نے اردو زبان کی عظمت پر ایک نظم پیش کی.

مہمان خصوصی مولانا سعید اسعد قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ آسنسول نے اپنے تمہیدی خطاب میں تینوں موضوعات پر بصیرت افروز تقریر کی، صدرِ اجلاس مفتی محمد سہیل اختر قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ پٹنہ نے کہا، دینی تعلیم کے فروغ کے لئے مدارس حد سے زائد قائم ہو چکے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ہر گاؤں محلہ میں مکاتب کا قیام عمل میں لایا جائے، بنیادی تعلیم کے لئے اس کی بے حد ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ عصری تعلیم کے لئے امارت شرعیہ بہت فکر مند ہے اور اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ جہاں بھی اچھی خاصی مسلم آبادی ہو وہاں جلد سے جلد اسکول قائم ہو اس کے لئے امارت جد جہد کر رہی ہے، اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور گورگاواں اور نرینی کے بیچ اسکول کا قیام جلد ہی عمل میں آءے گا، صاحب خیر نے زمین وقف کر دی ہے، امارت شرعیہ جلد ہی تعمیری کام شروع کروانے جا رہی ہے، مفتی سہیل اختر قاسمی نے کہا کہ جہاں تک اردو کی بات ہے تو اس کی زبوں حالی کے لئے مسلمان بھی کم ذمہ دار نہیں ، سرکار کی جانب سے اردو کے فروغ کے لئے کئی اسکیمیں چل رہی ہیں اور رقومات بھی خرچ کر رہی ہے مگر جو مسلمان ان شعبوں سے منسلک ہیں وہ خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے ہیں. انھوں نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے جہاں اردو دوسری سرکاری زبان ہو وہاں سرکاری آفسوں میں اردو میں درخواست دی جا سکتی ہے مگر اردو میں کوئی درخواست ہی نہیں آتی، ایسے میں بتائیے کہ ذمہ دار کون ہے سرکار یا خود مسلمان.

اس اجلاس کے شرکاء اور آراء پیش کرنے والوں میں مولانا محمد سرفراز قاسمی، مولانا سلیم الدین مظاہری ،مولانا عبد الستار رحمانی، مولانا محمد ہاشم، مولانا شمس پرویز مظاہری ، مولانا قمر الزماں ندوی، عطاء الرحمن صدیقی قاری فہیم، صادق ایڈووکیٹ، افسر حسنین ایڈووکیٹ، کلیم اللہ پروانہ، مولانا صدیق مظاہری، مولانا محمد آصف، مولانا بدر الدین، محمد خورشید، محمد اکرم فیاض صاحب وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: