مضامین

میرے ابو داؤد کے ایک عظیم استاذ رخصت ہو گئے

*میرے ابو داؤد کے ایک عظیم استاذ رخصت ہو گئے*

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس
جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

ملک میں تین عظیم دینی درسگاہیں ہیں، (1) مادر علمی دارالعلوم دیوبند، (2) جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، (3) اور مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ،اور تینوں ہی صوبہ یوپی میں واقع ہیں۔
الحمدللہ! اس کے علاوہ بھی
ملک کے طول و عرض میں بے شمار اچھے اور عظیم دینی درسگاہیں ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں طالبان علوم نبوت علمی پیاس بجھاتے ہیں تاہم مذکورہ بالا تینوں اداروں میں اکثر و بیشتر طلباء کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ وہاں بھی کچھ وقت گذارے۔
بحمداللہ! کاتب السطور کو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دارالعلوم دیوبند دونوں اداروں میں وہاں کے آفتاب و ماہتاب اساتذہ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کی سعادت حاصل ہے، پہلے عالمیت دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے کیا، اس کے بعد اپنے مشفق ومربی استاذ حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر اشتیاق احمد قاسمی صاحب دامت برکاتہم (استاذ دارالعلوم دیوبند وسرپرست ماہنامہ "السعید” برقی مجلہ) کے حکم پر دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں”دورۂ حدیث شریف” وہاں کے جبال العلم اساتذہ کرام سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
دارالعلوم دیوبند میں جن اساتذہ کرام سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا،ان میں ایک *حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی قدس سرہٗ* کی عبقری شخصیت بھی ہے جو وہاں اور باہر بھی فضلاء دارالعلوم دیوبند کی زبان زد "ابن حجر ثانی” سے مشہور و معروف رہے۔
جب یہ دل دہلا دینے والا خبر ملی کہ حضرت الاستاذ مولانا حبیب الرحمن اعظمی صاحب قدس سرہٗ (استاذ حدیث:دارالعلوم دیوبند) بھی مسافران آخرت میں شامل ہوگئے۔
تو کلمہ ترجیع زبان پر بے ساختہ جاری ہوا:
انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه وادخله في فسيح جناتك ياارحم الراحمين.
خبر پڑھ کر دل بیٹھ گیا، فدوی کو حضرت رح سے "ابوداؤد شریف” پڑھنے کا شرف حاصل ہے اور اسی کے ساتھ ایک اور شرف وہ یہ کہ حضرت کے پڑوس میں ایک سال رہنے کا موقع ملا، اور قریب سے حضرت کو دیکھا اور سنا،ان کی سادگی زندگی دیکھ کر دل بھر آتا تھا۔دارالعلوم دیوبند کے "اعظمی منزل” کے(فرسٹ فلور) کمرہ نمبر 48/میں احقر کا قیام تھا اور اس سے متصل ہی حضرت رح کا حجرہ و کمرہ کیا بلکہ لائبریری تھی جہاں حضرت کا قیام تھا۔
آپ رحمہ اللہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے آپ رح حدیث میں جرح و تعدیل کے امام مانے جاتے تھے، درس ابوداؤد میں راویوں پر خوب کلام کیا کرتے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میزان الاعتدال، اصابہ وغیرہ سامنے رکھی ہوئی ہے۔
حضرت رح کے پوتا بھی کمرہ نمبر 48/ میں ہی رہتا تھا،اس وجہ سے کئی مرتبہ حضرت رح کے ہاتھ سے بنی ہوئی سبزی وغیرہ بھی کھانے کا شرف ہے، یاد رہے ہمارے تعلیمی سال 1435/34 ھ مطابق 2014/ میں حضرت رح کی فیملی دیوبند میں نہیں تھی، پہلے یا بعد میں رہی ہو معلوم نہیں، اس وجہ حضرت رح کھانا خود ہی بنایا کرتے تھے سبزی وغیرہ سامنے جانب مغرب گیلری میں بیٹھ کر ہی کاٹا کرتے تھے، میں حضرت رح کی خدمت میں بھی حاضر ہوا کرتا تھا، میں نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ حضرت:
مکہ مکرمہ میں بوہری حضرات حی العزيزية میں اپنی فلک بوس عمارت بنالیا ہے، آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، آپ رح نے کہا کہ میں کیا کہوں یہ شیعہ ہی کا ایک فرقہ ہے لیکن شیعہ حضرات بھی خود اس کو کافر کہتا ہے پھر اس کے کفر کے بارے میں کیا شک ہے، میں نے کہا کہ اگر یہ کافر ہے تو پھر حج کی اجازت کیوں؟
حضرت رح نے کہا کہ جاؤ تم روکو!
جس کے پاس طاقت ہے پہنچ ہے ان کو روکنا چاہئے۔
اور بھی خدمت میں حاضری کی گفتگو ہے پھر کبھی ذہن کے پردہ سے اتار کر الفاظ کے قالب میں ڈھالا جائے گا۔ ان شاءاللہ
بحمداللہ! احقر العباد کو دومرتبہ دو استاذ حدیث سے "ابوداؤد شریف” پڑھنے کا موقع ملا، ایک مرتبہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں حضرت مولانا حسیب اللہ صاحب ندوی دامت برکاتہم سے، اللہ تعالی! ان کا سایہ ہم پر تادیر قائم دائم رکھے (آمین)
اور دوسری مرتبہ حضرت مولانا اعظمی رح سے، مولانا ندوی صاحب دامت برکاتہم حدیث کے ترجمہ اور مختصر تشریح کیا کرتے تھے ، جبکہ مولانا اعظمی رح راویوں پر زیادہ کلام کیا کرتے تھے، اور علوم و معارف کے دریا بہایا کرتے تھے۔
آہ! 30/رمضان المبارک، 1442/ھ، مطابق 13/مئ، 2021/ء کو حضرت اعظمی رح ہمیشہ ہمیش کے لئے ہم سے جدا ہوگئے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close