مضامین

میڈیا کا متعصبانہ کردار ملک کو جلا کر راکھ کر دے گی!

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

بطور تمہید میڈیا اور اس کے اقسام ذہین نشیں رکھیں
میڈیا سے مراد ذرائع ابلاغ ہے یعنی وہ وسائل و ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں؛ اردو میں *ذرائع ابلاغ* ، انگریزی میں *میڈیا* اور عربی میں *اعلام* کہتے ہیں
اس کی *دو قسمیں* ہیں (1) ورقی (2)برقی
*ورقی ذرائع ابلاغ*:اس میں وہ تمام ذرائع شامل ہیں جن کی بدولت ہم آپس میں ایک دوسرے سے لکھ کر بات چیت کرتے ہیں جیسے اخبار، مجلے، میگزین، رسائل وغیرہ ؛اسے پرنٹ میڈیا کا نام دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو لسانی بھی کہا جاتا ہے

(2) *برقی ذرائع ابلاغ* : ان میں وہ تمام ذرائع داخل ہیں جن کے ذریعہ بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے برقی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اسے الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے ، پھر اسے دو خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے (1) *مرئی* :جس کا تعلق دیکھنے سے ہے مثلاً ٹیلی ویژن، وی سی آر وغیرہ

(2) *سمعی* :جس کا تعلق سننے سے ہے جیسے ریڈیو، آڈیو کیسٹ وغیرہ
میڈیا اس کرہ ارض کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے اختیارات ہیں جن کی بدولت یہ قانون کی نظر میں مجرم کو غیر مجرم اور غیر مجرم کو مجرم ثابت کر سکتا ہے؛ *دور جدید میں میڈیا کو مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون* قرار دیا جاتا ہے، اس کو عوام الناس کے اذہان پر دسترس حاصل ہے، اسے معاشرہ اور سماج کا آئینہ تصور کیا جاتا ہے، معاشرے میں رونما ہونے والے تمام افعال( خواہ اچھے ہوں یا برے) کے بارے میں عامیوں تک اطلاعات کی فراہمی کے علاوہ افراد کی ذہن سازی کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے؛ ملک میں امن و امان کی بحالی، جمہوریت کی بالادستی اور معاشی ترقی کے لیے میڈیا کا غیر جانبدار ہونا نہایت ضروری ہے؛ تعلیم کے فروغ میں میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، تعلیم کی درست کوریج سے سوسائٹی میں مثبت اقدار کو فروغ ملتا ہے

آج میڈیا کی اہمیت و افادیت سے کون صرف نظر کر سکتا ہے، شعبہائے حیات کا کونسا گوشہ ہے جو اس سے مستغنی ہے اگر یوں کہا جائے کہ نسل نو کی زندگی کا آغاز ہی میڈیا سے ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا لیکن دور حاضر میں میڈیا بجائے مثبت کردار ادا کرنے کے، منفی کردار ادا کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے خیالات و احساسات میڈیا کے سلسلے میں منفی ہوتے جا رہے ہیں،طرح طرح کے *بھونڈے اور مکروہ القاب* سے میڈیا کو نواز گیا ہے، کبھی *گودی میڈیا* تو کبھی *بکاؤ میڈیا* وغیرہ وغیرہ؛ گودی میڈیا کی اصطلاح کسی بھی ملک کے ذرائع ابلاغ کے ایسے طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے جو ہمہ وقت حکومت کی چاپلوسی اور اس کی چوکھٹ پر سر دھنتے نظر آئے ، حکمراں طبقہ کی مدح سرائی اور اس کے ہر اقدام کو درست قرار دینے کی کوشش کرے مگر ان خبروں کو جن میں ملک کی ترقی کے لیے سجھاؤ، مشورہ یا حکومت کے فیصلے سے واضح دلائل کی بنیاد پر اختلاف رائے کا اظہار کیا گیا ہو انہیں حکومت کے خلاف بتا کر قابل اعتناء نہ سمجھا جائے یا پھر ایسی خبروں کو شاذ و نادر ہی اہم خبروں کے بیچ میں جگہ دی جائے یاد رہے یہ رویہ ذرائع ابلاغ کے ان حلقوں میں پایا جاتا ہے جو فکری ہم آہنگی کی وجہ سے حکومت کا ساتھ دیتا ہے یا انہیں حکومت کی جانب سے کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے ؛ رویش کمار، ابھیشار شرما، پونیا پرسون واجپائی اور کرن تھاپڑ جیسے چند صحافیوں کو چھوڑ کر جو متوازن تنقید اور بھید بھاؤ کو بالائے طاق رکھ کر صحافتی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں؛ بیشتر میڈیا اور ٹی وی اینکر مودی حکومت کے دربار میں چاپلوسی کے سجدہ میں ہی لگے رہتے ہیں
درباری اور گودی میڈیا کے روئیے سے ملک کے باشندگان کو عظیم خسارے اور نقصانات سے دو چار ہونا پڑتا ہے، ہر لمحہ *حزب اختلاف کی کردار کشی، اس کی آراء کو منفی انداز میں پیش کرنا، اہم خبروں کو شائع نہ کرنا یا نہ دکھایا جانا، غیر جانبداری تحریر سے گریز* اور حکومت کی ہر بات اور ہر فیصلے کی مدح سرائی خواہ ملک کے لئے کتنا ہی نقصان دہ ہو
اس وقت ذرائع ابلاغ کی جانب داری بھی آسمان کو چھو رہی ہے، جانبداری ایسی صورت حال کو کہا جاتا ہے جس میں میڈیا خواہ وہ اخبار ہو یا ریڈیو، ٹیلی ویژن ہو یا انٹرنیٹ یا تو کسی کے اثر و رسوخ سے دب کر کام کرے یا پھر کسی ذاتی مفاد اور طمع کے سبب کسی کی طرف جھکاؤ اور یک گونہ رجحان کا مظاہرہ کرے؛ موجودہ وقت میں جتنے ذرائع ابلاغ کام کر رہے ہیں، ان پر چند با اثر افراد یا سیاستدانوں کا کنٹرول ہے، آج کل کے اخبارات کارپوریٹ گھرانے نکالتے ہیں اور نیوز چینلز پر بھی انہیں کا مالکانہ کنٹرول ہے جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے سمجھوتہ کر کے ان کی تشہیر اور حمایت میں فضا ساز گار بنانے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس کے بدلے ان سے موٹی رقم اینٹھتے ہیں اس وقت یہاں کی تمام میڈیا اس فعل بد میں مبتلا ہیں بالخصوص *” آج تک ” انڈیا ٹی وی "زی نیوز” اے بی پی نیوز "نیوز 18 انڈیا” وغیرہ* یہ سب وہ چینلز ایسے ہیں جو ملک کے اہم ایشوز پر کم اور ہندو مسلم پر زیادہ ڈیبیٹ کرتے ہیں؛ مشہور صحافی سنتوش بھارتی کی مانیں تو آج کا میڈیا صرف اسی خبر کو مشتہر کرتا ہے جس سے اس کے مخالف کی دل شکنی اور اس کی حمایتی کے لیے راہ ہموار ہو، موجودہ عہد میں صحافی اور رپورٹر ان خبروں کو منظر عام پر لانے سے گھبراتا ہے جو کسی با اثر افراد سے تعلق رکھتی ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ آج مودی حکومت کی بد انتظامی پر درباری میڈیا اور بکاؤ اینکروں کے ذریعہ سوال نہیں اٹھایا جاتا، الٹا ہر آڑے ٹیڑھے فیصلے کو زبردستی عوام کے سروں پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے، میڈیا کو چاہیے کہ اپنے اس رویئے سے باز آئے اور ان ڈاکٹروں کے لئے آواز بلند کرے جو کرونا وائرس جیسی مہلک اور خطرناک بیماری سے نمٹنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں حالانکہ اس وبائی بیماری سے لڑنے کے لیے جن اشیاء کی ضرورت ہے وہ بھی مکمل طور پر موجود نہیں مثلاً ppe وغیرہ، اس وقت یہاں اس جان لیوا وائرس سے نمٹنے کے لیے جو افراد اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کی جانی چاہیے خواہ وہ ڈاکٹر ہو یا نرس، ایمبولینس کا ڈرائیور ہو یا صفائی ستھرائی کرنے والے کرمچاری، ان سب کے لیے بھی وہی سہولیات مہیا ہوں جو ایک ڈاکٹر کو حاصل ہے؛ مدھیہ پردیش میں ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے لیے سورکشا انتظامات ادنیٰ درجے کے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ادھیکاریوں نے وہ سارے انتظامات اپنے لیے کر لیے ہیں اسی وجہ سے ڈاکٹروں کو اپنی گاڑیوں میں سڑک پر رات بیتانی پڑ رہی ہے بکاؤ میڈیا کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے، ان لوگوں کے علاوہ باقی جتنے بھی انتظامیہ ٹیوٹر پر بزی نظر آ رہے ہیں وہ سب کاغذات پر کام کر رہے ہیں،

*میڈیا کو چاہیے کہ اس حساس مسئلہ میں مودی حکومت سے اس کی ناکامی کو چھپانے کے بجائے، سوال کرے، جس صوبے میں کوتاہی ہو رہی ہے اس کو اپنی خبروں میں جگہ دے، مگر حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان زر خرید اینکروں نے اس بیماری کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر نفرت کا تماشا شروع کر دیا ہے جو ہنوز جاری ہے اور یہ تاثر بد دینے کی مذموم کوشش کی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی وجہ سے کورونا پھیلا ہے*، میڈیا وائرس کے ذریعہ پورے ملک میں جمہوریت کی دیوار کو منہدم کرنے کے لیے فرقہ وار آب و ہوا، سموم و صر صر سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے اسی وجہ سے ایسے نفرت انگیز پیغام ارسال کیا جا رہا ہے، جسے کان سننے سے إباء کرتا ہے، جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے بڑا ہی خطرناک ہے، یہ اس ملک کی جڑ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، ہمارا ہر دن سچ سے دور ہوتا جا رہا ہے،

اس وقت ہندوستان میں میڈیا وائرس صرف بارود ہی نہیں لا رہا ہے بلکہ ماچس بھی لگا رہا ہے، اس کے بعد اس سے ہونے والے دھماکے کو شوٹ بھی کر رہا ہے اور ٹی آر پی بھی بٹور رہا ہے پھر کہتا ہے دیکھو کیا ہورہا ہے؛ مجھے بہت سارے گلے ہیں میڈیا سے اور سارے ہی میڈیا سے؛

اس ملک کے اندر میڈیا وائرس کی ناپاک کوشش ہے کہ اس مہلک بیماری کی آڑ میں فرضی خبریں پھیلا کر ہندو مسلم دنگا کرا دیا جائے، اسی کو لے کر مہاراشٹر نواسی سوئم ملا کی شکایت پر مہاراشٹر پولیس نے اے بی پی نیوز کے اینکر اشوک، روبینہ امتیاز خان، روبیکا لیاقت، انڈیا ٹی وی کے رجت شرما، زی نیوز کے سدھیر چوہدری پر فرضی خبر دکھانے کے باعث کیس درج کر لیا ہے

جمعیت علمائے ہند کی جانب سے بھی ان دریدہ دہن اینکروں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے جو اینٹی نیشنل میڈیا پر قدغن لگانے کے لیے بر وقت اٹھا گیا ایک مستحسن قدم ہے اسی طرح تحریک مسلم شبان نے بھی ان شر انگیز اینکروں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے چادر گھاٹ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرنے کی درخواست دی ہے، درباری میڈیا نے حکومت کی ناکامی اور بدعنوانی پر چادر ڈالنےکےلیے یہ گھناؤنا کھیل شروع کیا ہے اور تبلیغی جماعت کا سہارا لے کر مکمل طور پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم سازش کی ہے آپ دیکھیے تو سہی کورونا کو مسلمانوں سے جوڑ نے کے لیے کیسے کیسے بھونڈے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، کورونا بم مولانا سعد، کورونا ہیومن بم، کورونا جہادی، تبلیغی وائرس، طالبان، ٹیررازم یہ اور ان جیسے دوسرے الفاظ جنہیں سن کر بے انتہا افسوس ہوتا ہے؛ *یہ ناپاک اور گھناؤنا کھیل مسلمانوں کے ساتھ ایک خاص نظریہ اور سوچ کے تحت جاری ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب مودی کے اشارے اور اس کی پشت پناہی میں ہو رہا ہے، ساتھ ہی کیجروال کا بھر پور تعاون ان اینکروں کو مل رہا ہے ورنہ اس سلسلے میں ضرور کوئی بیان جاری کیا جاتا کیونکہ یہ ننگا ناچ اس کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، مودی کی خاموشی ہی سب سے بڑی دلیل ہے، ہم یہاں پر حکومت کی چوکھٹ پر سر رگڑنے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ ہندوستان کے میں کورونا کا سب سے پہلا کیس کیا مسلمانوں میں پایا گیا تھا ؟ جب پہلی دفعہ 30 جنوری 2020کو کیس سامنے آیا تھا اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو تمہیں ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی اسے مسلمانوں کی منسوب کرنے میں، *یہی مودی سرکار سے چوک ہوئی ہے*، اسی وقت اس سلسلے میں مثبت کارروائی کی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا *لیکن اس وقت مودی جی ڈونالڈ ٹرمپ کی آمد کے نشے میں مکمل مد ہوش تھے، گرد و پیش کی بالکل خبر نہیں تھی* *لہذا میرا ماننا ہے کہ اس سلسلے میں سب بڑی غلطی مودی سرکار سے ہوئی ہے*، اسی لیے مودی سرکار سے اپیل ہے کہ گودی میڈیا کے ذریعہ اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے اور سیاسی روٹی سینکنے کے لیے ملک کی یکجہتی، امن و امان اور ہندو مسلم اتحاد میں زہر گھول کر پارہ پارہ کرنے کی کوشش نہ کریں، آپ تو محفوظ رہتے ہیں اور ہم آپس میں لڑ کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں

اخیر میں ہندوستان کے ہر ریاست کے *مسلم تنظیموں کے نمائندوں* سے درخواست کی جاتی ہے کہ ان فتنہ پرور، شر انگیز، بکاؤ اور درباری میڈیا اور ان کے اینکروں کے خلاف اپنی اپنی ریاستوں کے اندر، تھانوں میں کیس درج کرائیں، اس طرح حکومت کے تلوے چاٹنے والوں کے خلاف لڑائی کی ابتداء کریں، *محسوس ہو تو ہائی کورٹ جائیں ، ضرورت پڑے تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، پریس انفارمیشن کونسل میں درخواست پیش کریں، پریسیڈنٹ آف انڈیا کو بھی خط لکھیں* اور ایسا نہیں کہ ان اسلام دشمن عناصر کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا؛ کیا جاسکتا ہے چونکہ ان ظالموں نے یہاں کی فضا کو نفرت کا کاروبار کرکے زہر آلود کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اس ملک کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی سازش کی ہے جس پر بین دلائل موجود ہیں اس لیے مقدمہ درج ہو سکتا ہے؛ کئی مواقع پر یہ لوگ مسلمانوں پر الزام تراشیاں کرتے ہیں، کورونا ایک جان لیوا بیماری ہے، ایک وائرس ہے اور ایک خطرناک وبا ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہے ہرملک والے اس سے بچاؤ کی تدبیریں کر رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ ہندوستان میں اس بیماری کو بھی ان چاٹو کاروں نے ہندو مسلم میں بانٹ کر اپنی نااہلی اور ناکامی کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا ہے آج عالم یہ ہے کہ ٹوپی، کرتا پہن کر کوئی گزرتا ہے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہ میڈیا وائرس کے ذریعہ پھیلائی گئی نفرت کا نتیجہ ہے،؛ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے چینلوں کا مکمل بائیکاٹ کریں،ایسے اخبارات سے گریز کریں اور دوست احباب کو ان کے خلاف بائیکاٹ پر ابھاریں اگر یہ *قوم اب بھی بیدار نہیں ہوئی تو آنے والی نسل انہیں معاف نہیں کرے گی 🌹 ::::::::::::::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: