مضامین

میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی سب سے زیادہ قدر کرتا ہوں کیوں کہ انہوں نے ہندو مسلم سب کو ملا کر بھارت بنایا

ثمیر الدین قاسمی۔ مانچیسٹر،انگلینڈ

میں ذاتی طور پر تمام علما کی قدر کرتا ہوں، سب سے عقیدت رکھتا ہوں، لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ جو عقیدت، اور محبت ہے وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، سے ہے
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بڑے دار العلوم کے شیخ الحدیث تھے، اس کے باوجود ہندو کے اس زمانے (۷۴۹۱ ؁ ء)کے سب سے بڑے سادھو، محترم شری مہاتما گاندھی صاحب کو ساتھ لیا، ان کو مہاتما گاندھی کا خطاب دیا، اور دونوں نے مل کر پاکستان جانے والے مسلمانوں کو روکا،
مہاتما گاندھی ایک مخلص سادھو تھے، وہ ہندوستان میں ہندو، اور مسلمان کو ساتھ ساتھ رہتے دیکھنا چاہتے تھے ان کا تجربہ یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کو ستائیں گے تو ہندو مسلم لڑیں گے، اور ہندوستان ترقی نہیں کرے گا بلکہ لڑائی میں پڑ کر ہندوستان کے پرخچے اڑ جائیں گے، جس طرح ابھی بہت سارے ملکوں کے لوگ آپس میں لڑے، اور ملک کو تباہ کر دیا، وہ ترقی تو کیا کریں گے، رہی سہی بلڈنگ بھی ختم ہو گئی
اس لئے حضرت مولانا حسین احمد ؒ نے اور لوگوں کے علاوہ خاص طور پر مہاتما گاندھی صاحب کو ساتھ میں لیا، حالانکہ وہ خالص مذہبی آدمی تھے، اور اپنے مذہب پر سختی سے قائم تھے، اور ان کو لیکر ہندوستان کو آباد کیا
ان دونوں حضرات نے کہا کہ یہیں رہو، اسی کو بساو، پاکستان جا کر کیا کرو گے، وہاں کس طرح سیٹ ہو گے، کسی اجنبی جگہ پر جا کر سیٹ ہونا آسان کام نہیں ہے، ایک چوتھائی ہندوستانی باسیوں کے لئے اس ملک میں جگہ بھی نہیں ہے ، وہاں جاوگے تو آپ کے ابا و اجداد کے مدرسے، خانقاہیں، مقابر کا کیا ہوگا، وہ سب ویران ہو جائیں گے، اس بات پر تمام مسلمانوں نے لبیک کہا اور یہیں رہے
محترم مہاتما گاندھی صاحب نے تو مسلمانوں کو بچانے کے لئے اور ان کو حق دینے کے لئے کئی مرتبہ ان سن، بھی کیا، برت پر بھی بیٹھے، اور ان کی حمایت کے لئے آواز اٹھائی، اور چونکہ وہ مسلمانوں کے بھی ہمدرد تھے اس لئے اس دشمنی میں گوڈسے نے ان کو قتل کر دیا
میں محترم مہاتما گاندھی صاحب کے اس اخلاص پر ان کو داد دیتا ہوں، اور دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی، انکے اس خدمت کا بدلہ دے۔ واقعی انہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے مسلمانوں کی جان مال، اور عزت بچائی ہے
انہیں دونوں حضرات کی کوششوں سے محترم بھیم راو امبیٹکر صاحب نے دستور اساسی
(constitution) لکھا، اور اس میں یہ لکھا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، اس میں ہندو مسلم سکھ عیسائی، سبھی دھرم کے لوگ رہیں گے، اور اپنے اپنے مذہب پر آزداگی کے ساتھ عمل کریں گے، اور تمام کے حقوق برار ہوں گے، اس ہنگامہ خیز زمانے میں یہ دستور لکھنا، اور اس کو پارلیمنٹ سے پاس کروانا کوئی آسان کام نہیں تھا، لیکن اور حضرات کے علاوہ سب سے زیادہ کوشش انہیں دو بزرگوں کی رہی ہے، اس لئے یہ تینوں حضرات شکرئے کے مستحق ہیں
اگر آج یہ دستور نہیں ہوتا تو کچھ لوگ ہندوستان میں کیا گل کھلاتے، اور مسلمانوں کو کتنا پریشان کرتے، یہ تصور سے بالا تر ہے
مجھے اس بات پر تعجب ہے، اور رشک بھی کہ کتنے بڑے بڑے بزرگوں نے حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی مخالفت کی، لیکن حضرت اس سب کے باوجود اپنی بات پر ڈٹے رہے، اور ایک سادھو کو گلے لگا کر کروڑوں مسلمانوں کی جان بچا لی، اور ان کو اپنی جائداد، اور اپنے خاندان میں بحال رکھا
مخالفت کے تیز طوفاں میں یہ کام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، لیکن اس مرد قلندرنے یہ کیا، اور میں اسی ادا پر فدا ہوں، اور اسی لئے موجودہ زمانے کے تمام علماء میں سے زیادہ ان سے محبت رکھتا ہوں، اور ان کے لئے دعائیں کرتا رہتاہوں
آج بھی ہندو مسلم مل کر کام کریں گے
تب ہی بھار ت ترقی کرے گا
یہ سوچ بالکل غلط ہے کہ ہم ہندو راسٹر بنائیں گے، کیونکہ اس صورت میں ہندو اور مسلمان آپس میں لڑیں گے، اور پورا ملک تباہ ہو جائے گا، جن جن ملکوں میں یہ کوشش کی گئی کہ صرف فلاں قوم کو بلندی دی جائے گی، وہ آپس میں لڑے، اور اتنی لڑائی ہوئی کہ پورا پورا ملک تباہ ہو گیا
برطانیہ، امریکہ، میں اسی لئے ترقی ہے کہ وہاں کسی قوم کی بر تری نہیں ہے، یہاں کے بسنے والے تمام قوموں کو کام کرنے، سیاست کرنے کا برابر کا حق دیا جاتا ہے، یہاں سب کے ساتھ انصاف ہے، امن ہے، اور ہمہ وقت تمام قوموں کی فلاح کی بات کی جاتی ہے، اور ان کی بھلائی کے بارے میں سوچی جاتی ہے،
آج مجھ غریب الوطن مسلمان کا بیٹا امریکہ میں یونیور سٹی کا پروفیسر ہے، اور اس کے پڑھنے کے تمام اخراجات برطانیہ گورنمنٹ نے دئے ہیں، انہوں نے مسلمان ہونے کی بنا پر کبھی میرے بیٹوں کی فیس نہیں روکی، اور نہ اس میں کوئی کوتاہی کی، اس لئے میں اس گورنمنٹ کا احسان مند ہوں، اور دل سے دعا کرتا ہوں، لیکن اگر یہی بھید بھاو میرے ساتھ کرتے تو میں اور میرے خاندان صرف لڑنے میں رہ جاتا، اور ملک کی کوئی ترقی نہیں کر پاتا،
اس لئے یہ ہمیشہ یاد رکھئے کہ سب قومیں مل کر کام کرنے سے ملک کی ترقی ہوتی ہے، ہندوستان میں ہندو مسلم ملک کر کام کریں گے، اور بھائی چارگی کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تب ہی ترقی ہو گی۔
البتہ یہ بات ضروری ہے کہ اس مل ملاپ میں اسلام مذہب نہ چھوڑیں، شرک اور کفر میں مبتلاء نہ ہوں،مشرکانہ عبادات میں شریک نہ ہوں، البتہ ہر وقت انکو اپنا بھائی سمجھ کر برتاو کریں تو وہ لوگ بھی آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھیں گے، اور اپنا خیر خواہ سمجھ کر برتاو کریں گے
حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے یہ دونوں کام کئے۔ وہ ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر بھی بھارت کو بنایا، اور اپنا مذہب بھی نہیں چھوڑا، بلکہ اسلام کے زبردست داعی رہے، اور شیخ الحدیث رہے
ع در کف جام شریعت، در کف سندان عشق
ان خدمات کو یاد کرکے میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دل سے دعا کرتا رہتا ہوں
اور جناب محترم مہاتما گاندھی، اور جناب محترم بھیم راو امبیٹکر کے لئے احترام پیش کرتا ہوں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: