اہم خبریں

میں عاشق جمعیت ہوں:‌گلزار دہلوی

محمد یاسین جہازی

جناب گلزار دہلوی کے انتقال کی خبر سے افسوس ہوا۔ موصوف پچھلی گرمی میں غالبا اگست 1919کا مہینہ میں ایک مرتبہ جمعیت علمائے ہند کے دفتر میں آئے تو صدر گیٹ پر ہی ملاقات ہوئی۔ رسمی آداب بجالانے پر مجھ سے پوچھا کہ مجھے پہچانتے ہو؟ میرا جواب تھا کہ اردو کا کونسا عاشق ایسا ہے، جو آپ سے ناواقفیت کی جرات کرسکتا ہے۔ اس جواب پر مسکرائے ۔ بات بات میں میں نے بتایا کہ آپ کی کتاب شعر شعور انگیز سے استفادہ کا شرف حاصل ہے ۔ بہت خوش ہوئے ۔ پھر جمعیت علمائے ہند سے اپنے دیرینہ تعلقات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی ، میرے گہرے دوست تھے اور لال قلعہ کے مشاعرہ کی روایت قائم کرنے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ پھر کہا کہ میں عاشق جمعیت بھی ہوں اور اکابرین جمعیت کا پرستار بھی ہوں۔ اور بھی بہت دل چسپ گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے گزارش کی کہ گیٹ پر کھڑے گفتگو کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا ، آئیے ری سیپشن میں تشریف لائیں اور چائے پلانے کا موقع دیں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ابھی جلدی میں ہوں ۔ ادھر سے گذر رہا تھا تو جمعیت کو دیکھ کر رہا نہیں گیا اور دیدار کے لیے حاضر ہوگیا۔ چائے کے لیے پھر کبھی حاضر ہوں گا۔ پھر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے اور روانہ ہوگئے۔
گلزار صاحب، ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار اور فرقہ پرستی سے انھیں شدید نفرت تھی۔ اسی طرح وہ ہندستان کے موجودہ سیاسی حالات سے بھی بہت زیادہ دکھی تھے۔ کل ملا کر نفرت کے اس دور میں وہ سیکولر اور منصف مزاج خصوصیات کے حامل تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبرو ہمت دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: