مضامین

میں موجودہ حکومت ہوں، رواداری مجھے پسند نہیں

مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

ہاں میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہوں مجھے۔ شارٹ کٹ۔ میں۔ بی جے پی۔ کہتے ہیں، اس وقت میں ہی ہند کا خدا ہوں یہاں کے ذرہ ذرہ پر میری حکومت ہے،یہاں کا چپہ چپہ میری عظمت کے گن گاتا ہے، چرند و پرند میری مدح سرائی میں رطب اللسان ہے، یہاں کی فضا میری خوشبو سے معطر ہے، چہار جانب خوبصورتی و دلکشی رعنائی و جلوہ سامانی مسکراہٹ و چہل پہل میرے ہی دم سے ہے، میرا دعویٰ ہے کہ میں نے ہی اس ملک کو سنوارا ترقی کے بام عروج پر پہنچایا اس ملک کے کرسی اقتدار پر جلوہ افروز ہو کر اس ملک کو زینت بخشی، ہاں میں ہی وہ پارٹی ہوں جس کا دعویٰ ہے کہ اس ملک پر فقط میری حکومت ہے یہ میرے باپ کی جاگیر ہے اس چمن پر کسی تیسرے کا حق نہیں، ہاں میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہوں جس کی سرشت میں اخوت و محبت الفت و رواداری، یکجھتی و ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارہ کی کوئی جگہ نہیں،
جی ہاں میں ہی ہوں جس کو ظلم و زیادتی، نفرت و عداوت، فرقہ پرستی ونسل پرستی قومیت آپسی اختلاف ، باہمی تفرقہ، فساد، قتل و غارتگری، لوٹ کھسوٹ، چوری ڈکیتی سے حد درجہ دلچسپی ہے،
ارے میں ہی تو ہوں جس نے گجرات میں زلزلہ بپا کیا تھا اور گجرات کی پرامن زمین کو مسلمانوں کے خون سے لالہ زار کردیا تھا خون کی ندیاں بہ رہی تھیں انسانیت مارے شرم کے بل میں چلی گئی تھی،ہر طرف سانپ اور اژدہے رینگ رہے تھے بھیڑئیے غرا رہے تھے اور یہ منظر دیکھ کر شیطان کھڑا مسکرا رہا تھا، کیا بھول گئے میں وہی پارٹی ہوں جس نے مابلنچنگ کو فیشن بنایا اور اسے غنڈوں کیلے راحت رسانی کا سامان بنایا، معصوموں کی عزت کو کھلونا بنایا نوجوان لڑکیوں کو درندوں کے حوالے کیا اور اس کی آبرو ریزی کی کھلی چھوٹ دے دی،
جی ہاں میں ہی ہوں وہ جس نے غریبوں سے روزگاری چھین لی جوانوں سے نوکریاں لے لی اسکولوں سے تعلیم ختم کردی، بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا یتیموں مسکینوں کو بے گھر کیا، پڑھا لکھا تعلیم یافتہ معاشرہ کو جہالت میں تبدیل کیا، اور سچ کہوں کہ مجھے تعلیم و ترقی پاکی و صفائ سے بہت تنفر ہے،
مجھے بھول مت جانا میں ہوں جس کو جمہوریت سے سخت نفرت ہے سیکولرازم سے کوسوں دور ہوں اور قریب بھی بھٹکنا میرے لئے زیبا نہیں اسی لئے تو میں نے اس ملک میں جمہوریت کو ختم کرنے کی ٹھانی ہے شروعات ہو چکی ہے اور مناظر سب کے مشاہدہ میں ہے،
ہاں میں ہی وہ پارٹی جس کو عظمتوں کی پاسداری نہیں آتی جس کے اندر مقدس مقامات کا احترام نہیں ہے، اسلاف کی نشانیوں سے سخت بیزاری ہے، جس کو اجداد کی قربانیاں ایک بلبلہ معلوم ہوتی ہیں، پرکھوں کی محنت ان کی جفا کشی ان کا ایثار ایک قصہ نظر آتا ہے اسی لئے تو میری نظر میں ان کی عظمتوں کی کوئی حیثیت نہیں اور تو اور ان کی نشانیوں کو بھی میں نے بیچ دیا آخر لا قلعہ ہمارے قبضہ میں کیوں نہیں؟ تاج محل اب ہمارے حصہ میں نہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ملک بھی فروخت کر دیا جائیگا،
جی ہاں میں ہو جس نے دو مہینہ پہلے Nrc. Npr caa کے جنجال میں ملک کو ڈال دیا پورے عوام کو اسی میں الجھا دیا آج پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے عورتیں گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آتر آئ ہیں کتنی کی تو جانیں چلی گئیں عورتیں میرے خلاف میری حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی ہیں لیکن میرے ان بے حیا کانوں کوکچھ اثر نہیں ہوتا کیونکہ میں نے ٹھان لیا ہے کہ اس ملک کو ڈکٹیٹر میں تبدیل کرنا ہے اور کھلے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کا صفایا کرنا ہے،
ہاں میں ہوں جس کو صرف پاکستان عمران خان نظر آتا ہے، میری ہر تقریر پاکستان پر ہوتی ہے مجھے اپنے ملک کے حالات پر کچھ بولنا نہیں آتا پاکستان ہی میرا موضوع سخن ہے اسی کو ڈرانا دھمکانا اچھا لگتا ہے اپنے ملک کے غنڈوں کی سرزنشت سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ان کے خلاف دو بول میرے لئے باعث شرم ہے مجھے وہ بہت عزیز ہیں کیونکہ کہ غنڈہ گردی میری فطرت ہے میری پیاس معصوموں کے خون سے بجھتی ہے ان کی آہ و بکا میرے لئے باعث تسکین ہے اسی لئے تو میں وقفہ وقفہ سے اس طرح کے واردات انجام دے کر دل کو سکون فراہم کرتا ہوں،
ارے میں ہی ہوں جس نے ابھی حالیہ دنوں دہلی میں فسادات کرواے جوانوں کو سرعام پیٹ پیٹ کر جانیں لی کتنے سہاگ کو اجاڑ دیا کتنوں کو یتیم کیا ہنستی کھیلتی زندگی کو گولیوں سے بھون دیا ہزاروں گھر جلا دیے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جمہوریت کو شرمسار کیا انسانیت کو مات دیکر حیوانیت کو جیوت کیا اور کیا بیان کروں پوری دنیا نے دیکھا اور میری ظلم و بربریت کا اعتراف کیا یہ بھی بتادوں اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں یہ میری عادت ہے اور فطرت میں داخل ہے لہذا فطرت سے بغاوت میرے لئے باعث شرم ہے، یہ جانکاری بھی دے دوں جتنے لوگ مابلنچنگ میں مارے گئے چاہیے تبریز ہوں، جنید ہوں یا اور جو مارے گئے ان کو مارنے والے میرے ہر دل عزیز غنڈے تھے اور مجھے اس وقت سب سے بڑی کامیابی ملی جب مجرموں کو باعزت رہا کردیا گیا اور اپنے اپنے کام پر دوبارہ بحال ہو گئے،
یہ سب میری کہانی ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ میرے ہی دم سے ہر طرف خوشی ہے خوبصورتی ہے وغیرہ وغیرہ میرے نزدیک اسی طرح کے کارنامے کو خوبصورتی چہل پہل کامیابی ترقی و غیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے،
اب آئیے میرا وجود میری پیدائش کی تاریخ بھی سنتے جائیے،
میرا حسب نامہ ہٹلر، مسو لینی ، تلک، مونجے سے جاکر ملتا ہے، ہٹلر کا نام سنتے ہی سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، بدن لرزنے لگتا ہے، خوف و ہراس کا سماں بندھ جاتا ہے اور کیوں نہ ہو اس جیسا انسانیت کش انسانیت دشمنی تاریخ میں بہت کم ملتا ہے، جس کا مشغلہ ہی ہو خون بہانا اور جس کے رگ رگ میں انسانیت دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہو تو یہ اثر نسلوں میں منتقل ہونا یقینی ہے، ہٹلر کی نسلیں بہت چلی لیکن سب سے کامیاب نسل میں ہی ہوں ،
مختصر یہ کہ 1925 سے میرے پرکھوں نے باقاعدہ ایک تنظیم بنائی اول مرحلہ میں تو بے حیثیت رہی کئی بار ناامیدی ہاتھ لگی حتی کہ دردر کی ٹھوکریں بھی کھانی پڑی لیکن قربان جاؤں اپنے اجداد پر کہ جنہوں نے عزم و استقلال کا ایسا مظاہرہ کیا دنیا عش عش کرتی رہی ، زمانہ گزرتا گیا اور میرے لوگ مسلسل محنت کرتے رہے مخالف آندھیاں چلتی رہیں لیکن وہ پہاڑ کی مانند ڈٹے رہے ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی جنبش نہیں آئ پھر ایک دن وہ آیا کہ ان کی محنتوں کا پھل ان کی آنکھوں کے سامنے منڈلا نے لگا اب ضرورت تھی اس پھل کو توڑ کر ملک کے گوشہ گوشہ تک پہچانے کی وہیں سے میرا نشو نما شروع ہو گیا مختلف مراحل سے گزرتا ہوا آخر کار 2014 میں میرا سورج طلوع ہوگیا اور پورے ملک میں اس کی کرنیں پھوٹ پڑی اور اب تو پوچھنا کیا گویا کہ میں اس ملک کا خدا ہوں اپنی مرضی سے ہر کام انجام دینا میرے لئے سہل کام ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اب میرا سورج کبھی غروب ہوگا،
اخیر میں ایک اچھی بات یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میری زندگی دوسروں کیلئے ایک سبق ہے خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جو احساس کمتری کا شکار ہیں وہ یہ کہ دنیا میں اپنا پرچم لہرانے کیلئے اور اپنی شان و شوکت کیلئے سخت محنت کی ضرورت ہے اگر آپ کامیاب بننا چاہتے ہیں تو اپنے مقصد سے کبھی پیچھے ہٹنا نہیں ہوگا لاکھ طوفاں آے آندھی چلے آپ کو عزم و ثبات کا دامن تھامے رکھنا ہوگا، سخت مشکلات کا سامنا ہوگا دشوار گزار مراحل طے کرنا ہوگا سخت چٹانوں سے بھی ٹکرانا ہوگا اس وقت اگر بزدلی کا ذرا بھی احساس ہوا تو آپ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور وہیں سے آپ کا وجود ختم ہو جائے گا ،
میری کامیابی و کامرانی اور میرے عروج کے پیچھے بہت سی قربانیاں ہیں اگر قربانیاں نہ ہوتی تو شاید آس مقام پر پہچنا نا ممکن تھا،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: