مضامین

میں پوچھتا ہوں وہ تیسرا آدمی کون ہے؟

محمد یاسین جہازی

کورونا وائرس کی روک تھام کے بہانے حکمت و مصلحت سے خالی اچانک لاک ڈاون کردینے کی وجہ سے محنت کش اور مزدور طبقے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ پہلی بار جب اکیس دن کا لاک ڈاون لگایا گیا، تو مزدوروں نے کسی طرح صبر کرکے وقت گذار لیا، لیکن اس کے بعد پھر انیس دن کا اضافہ کردیا۔ اور ابھی اضافہ کے یہ دن پورے نہیں ہوئے تھے کہ پھر چودہ دن اور بڑھادیا۔ اور ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ یہ تیسرا اضافہ آخری اضافہ ہوگا۔ بار بار لاک ڈاون بڑھانے کی وجہ سے مزدوروں کے پیسے اور کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئیں، تو ان کا صبر ٹوٹنے لگا اور انھوں نے خالی پیٹ اور ننگے پیر سفر کرنا شروع کردیا اور اپنے گاوں پہنچنے کی کوشش کرنے لگے۔ چنانچہ پہلے انھوں نے سڑک اور ہائیوے کا سہارا لیا، تو پولیس کے تشددکے نشانہ بننے لگے۔پھر انھوں نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈالتے ہوئے ریل پٹریوں کو راستہ بنایا، تو یہاں بھی پولیس کی لاٹھی ڈنڈوں نے ان کا استقبال کیا۔ان تمام دشواریوں کے باوجود مزدوروں نے اپنی ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسی سلسلہ کے سترہ مسافروں نے مہاراشٹر کے شہر جالنا سے پٹری پٹری چلتے ہوئے مدھیہ پردیش آنے کا فیصلہ کیا۔ اور ساتھ میں ایک سو پچاس روٹی اور دال زاد سفر رکھ لیا۔ ریل کی پتھریلی زمین پر، بھوک اور دھوپ کی سختی کو برداشت کرتے ہوئے جالنا سے پینتیس کلو میٹر پیدل چلتے چلتے جب تھک کر چور ہوگئے تو کچھ روٹیاں کھاکر ریل کی پٹری کو تکیہ بناکر سو گئے۔
8مئی 2020کو جمعہ کے دن صبح کاذب کے وقت گڑگڑاتی ہوئی ایک مال ریل گاڑی آئی اور ان پچاس روٹی والے سترہ مزدوروں میں سے سولہ مزدوروں کو روندتی ہوئی چلی گئی۔ ٹرین گذرنے کے بعد کیمرے نے جو مناظر قید کیے، وہ یہ تھے کہ چاروں طرف خون کے چھینٹوں سے زمین لالہ زار ہوچکی تھی،جگہ جگہ گوشت کے لتھڑے بھیانک درندگی کے وحشت انگیزنظارہ پیش کر رہے تھے، چند روٹیاں اوربکھری دال کے دانے مزدوروں کی داستان بے ستون بیان کر رہے تھے۔ یہ مزدور جن روٹیوں کی تلاش کے لیے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دیار غیر گئے تھے، اور وہاں سے ایک سو پچاس روٹیوں کی گھٹری لے کر اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھے، وہ روٹی بھی ان کو نصیب نہ ہوسکی۔
جب سے لاک ڈاون ہوا ہے، تب سے اس قسم کے کئی بھیانک مناظر سامنے آچکے ہیں، جہاں مزدور طبقہ بھوک سے مرجانے کے خوف سے ہزاروں کلو میٹر بھوکا پیاسا پیدل چلنے پر مجبور ہے۔ اس طبقہ کے لیے نہ تو سرکارکی طرف سے دو وقت کھانے کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی ان کے گھر تک پہنچانے کے لیے کسی معقول سواری کا انتظام ہے، جس کے نتیجے میں ہائیوے کے کنارے پیدل چلنے کی وجہ سے ٹرک ان کی جان لے رہے ہیں اور ریل پٹری پر چلنے سے ریل گاڑیاں ان کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔ میڈیا کے توسط سے ہزاروں کی تعداد میں فیڈ بیک ملنے کے باوجود سرکار کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر ان مزدور طبقوں کا اصلی دشمن کون ہے، جو ان کے خوفناک حالات کو دیکھنے کے باوجود ان کے تحفظات کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھارہا ہے۔ سوداما پانڈے دھومل لکھتے ہیں کہ
ایک آدمی روٹی بیلتا ہے
ایک آدمی روٹی کھاتا ہے
ایک تیسرا آدمی بھی ہے
جو نہ روٹی بیلتا ہے، نہ روٹی کھاتا ہے
وہ صرف روٹی سے کھیلتا ہے
میں پوچھتا ہوں
یہ تیسرا آدمی کون ہے؟
میرے دیش کی سنسد مون ہے
بس جواب مل گیا کہ ان تمام حادثوں اور خوفناک مناظر کا اصلی ذمہ دار بھارت کا سسٹم ہے۔ بھارت کی موجودہ بی جے پی کی سرکار ہے، جو شہروں کو روٹی فراہم کرنے والے مزدوروں کی روٹیوں سے کھیلواڑ کر رہی ہے۔یہ سرکار حکومت کے نشے میں اتنے چور اور مغرور ہوگئی ہے کہ اسے مزدوروں کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اتنا غرور بھی اچھا نہیں ہے۔ان مزدوروں اور بے سہاروں کی آہ سے ڈریے اور ان کے کھانے پینے اور آمدورفت کا معقول انتظام کیجیے؛ ورنہ ایک دن ان مظلوموں کی آہ تمھارے وجود کو خاکستر کرکے رکھ دے گی؛ کیوں کہ یہی قانون فطرت ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: