مضامین

نامکمل اقدام

فاروق عبداللہ کی رہائی سے اس بات کو یاد دلایاجاتاہے دیگر محروسین جو کشمیرمیں ہیں حکومت کو چاہیے اُن کے لیے بھی ایسا ہی اقدام کرے

اداریہ انڈین ایکسپریس (16/مارچ 2020ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
یہ کافی نہیں ہے کہ ہم جموں کشمیر کے سابق چیف منسٹر اور ممبر پارلیمنٹ کی رہائی کو خوش آمدید کہیں۔ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے کہ سیاسی لیڈروں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے اور ہزاروں لوگ پہلے سے ہی جیلوں میں ہیں۔ کوئی موزوں وجہہ نہیں بتائی گئی کہ وہ نیشنل کانفرنس کے چیئرمین کے خلاف جموں کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کا استعمال کیا گیاہے اور یقینا اُن دو چیف منسٹر اور دیگر سیاستداں کو بھی پبلک سیفٹی کے خطرے کی وجوہات اُن کے خلاف نہیں بتائے گئے ہیں۔ کیوں اور کس وجہہ سے اُن لوگوں کے خلاف پی ایس اے کا استعمال ہوا ہے اور پھر کتنے دنوں تک اُنہیں محروس رکھا جائے گا اور پھر کیا حکومت کے اس اقدام کو اس قانون کے استعمال کے ذریعے سے اُن لوگوں کو باہر بھجادیا گیا ہے، کیا اختیارِ تمیزی اُن کی گرفتاری کے لیے اپنی مرضی کے مطابق تھا؟
فاروق عبداللہ جن کی عمر 80 سال ہے دوران حراست اُن کی دونوں آنکھوں کے موتیاں بند کا آپریشن کیا گیا۔ رہا ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ کھلی اور عام فضاء میں گفتگو ہونی چاہیے۔ اور تبادلہ خیال کی بہت ضرورت ہے۔ تاکہ وہ جموں کشمیر کے بارے میں 5/اگست کو لیے گئے فیصلہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرسکیں۔ وہ کوئی سیاسی بیان دینا نہیں چاہتے۔ ان دنوں جبکہ دیگر محروسین ابھی جیل میں ہیں اور انہیں جو کچھ کہنا ہوگا وہ پارلیمنٹ میں ہی کہیں گے۔ یہ بھی اس کی اطلاع نہیں ہے کہ مرکز آیا کسی قسم کی گفتگو ڈاکٹر عبداللہ سے کی یا اُن تک پہنچ بھی ہوئی کہ اُن سے سمجھ بوجھ کی جاسکے۔ جیساکہ چند حلقوں سے اس بات کی اطلاع ملی ہے۔لیکن جو ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے وہ یہ کہ حکومت کو اب احساس ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر کی نئی سیاسی جماعت اپنی پارٹی ایک متباد ل کی حیثیت سے جموں کشمیرکے لوگوں کے سامنے گفتگو کا آغاز کرسکتی ہے۔ لیکن جب تک کہ جو سیاست داں حراست میں ہیں اُنہیں رہا نہ کیاجائے۔ نیشنل کانفرنس کا علاقہ جموں کشمیر میں سیاست میں زیادہ حصہ رہاہے۔ اس لیے سیاسی کاروبار میں جو پہلے سے دخل رہا ہے اسی طریقے سے اب بھی اس کی ضرورت ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی رہ جاتاہے کہ کس طرح 2000ء میں جموں کشمیر اسمبلی نے خودمختاری کی قراردادمنظور کی تھی۔ اس میں بنیادی طور پر کیا تبدیلی اس معاملہ میں ہوسکتی ہے۔
فاروق عبداللہ نے خود ایسا مطالبہ نہیں کیا ہے کہ دیگر لوگوں کو ابھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے صرف یہ پوچھا کہ وہ لوگ جو سابقہ ریاست جموں کشمیر کے باہر بھیج دیئے گئے ہیں اُنہیں واپس لایا جائے۔ تاکہ اُن کے خاندان کے افراد اُن لوگوں سے مل سکیں۔ جبکہ ان دنوں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے۔ پھر بھی محروس سیاست داں بشمول عبداللہ کے لڑکے عمر اور پی ڈی ایف کی لیڈر محبوبہ مفتی اور دیگر بڑے قائدین اپنے گھروں میں محروس ہیں یا جیلوں میں ہیں اور جموں و کشمیر کے باہر ہیں۔ اب حکومت کو چاہیے کہ دوسرا قدم بغیر کسی وقت کو ضائع کرتے ہوئے اُٹھائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: