مضامین

نام کے واسطے

اگر کرایہ کے مکان کی تلاش ہو تو آپ کے نام کی وجہ سے یہ معاملہ کس قدر مشکل ہوجاتا ہے

جگ سوریہ (3/جنوری ٹائمز آف انڈیا)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
یہ 1987ء کے گرما کا واقعہ ہے۔ جب میں اور بنی کا یہاں کوئی مکان نہ تھا۔ بس ہم تب ہی کلکتہ سے دہلی منتقل ہوئے تھے۔ جہاں ہمیں اب رہنا تھا۔ اس لیے کہ ہم دونوں کو یہاں کام کاج مل چکا تھا۔ میں ٹائمز آف انڈیا میں بحیثیت اسسٹنٹ سینئر ایڈیٹر اور بنی کو اوگلی اور ماتھر کمپنی میں اشتہاری ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام مل چکا تھا۔
ہم نے عارضی طور پر ٹائمز آف انڈیا کے گیسٹ ہاؤز میں ڈیرا ڈال رکھا تھا اور پھر ایک نئے مکان کی تلاش میں ایک نوجوان پراپرٹی بروکر انیل کے ذریعہ تلاش شروع کی۔
لیکن جب بھی ہم اس معاملہ میں پیشرفت کرتے کچھ مسئلہ آجاتا۔ ایک سے دو تین جگہ ہمیں یہ دیکھتے رہے ہماری گفتگو ہورہی، ہم اپنے نئے مالک مکان یا مالکن سے کرتے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک چلتا رہتا کہ کتنا کرایہ ہوگا، کتنا سیکوریٹی ڈپازٹ دینا ہوگا؟ سب باتیں طے ہوجاتی تھیں۔ لیکن مسئلہ پیدا ہوتا تھا صرف میرے نام کی وجہ سے۔
تمام ہی مالک و مالکن مکان یہ کہہ کر جواب دے دیتے کہ ان کا کوئی لڑکا یا لڑکی امریکہ میں ہے اور پھر وہ واپس آرہے ہیں یا پھر ایسا ہی کوئی بہانہ کر ڈالتے۔
میں اور بنی چاندنی میں ہی اپنے خیالی باتھ روم، کچن روم وغیرہ کے بارے میں ہم سوچتے نہیں تھے؟
کیا مسئلہ ہے؟ میں نے انیل سے پوچھا۔ اس نے کہا ”تمہارا نام“ اس لیے کہ جگ کا مطلب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ثریا کے تلفظ سے مسلمان معلوم ہوتے ہو۔ اس نے کہا ”کیا تمہارا کوئی دوسرا نام نہیں ہوسکتا؟“
ہاں یہ نام کا معاملہ ہے، جب میں پیدا ہوا تھا تب میرا نام جگدیش تھا۔ لیکن اس کے بعد مجھے اس نام سے کسی نے بھی نہیں پکارا۔ ہاں میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں جگدیش ہوں۔ انیل نے تعجب کیا۔ ہاں یہ مناسب ہندو نام ہے؟ یہ آپ نے اس سے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
اُس کے دوسرے ہی دن دوسری جگہ ہم انیل کے ساتھ ایک مالکن مکان کے پاس پہنچے۔ جہاں انیل نے میرا تعارف اس طرح کروایا کہ میں مسٹر جگدیش ہوں۔ فوری مالکن نے تسلیم کیا کہ وہ مجھے اور بنی کو بحیثیت کرایہ دار قبول کرلے گی۔ ہم نے چین کی سانس لی اور کرایہ کے بارے میں کچھ بھی احتجاج نہیں کیا۔ گوکہ ان دنوں میں کرایہ چار ہزار روپئے تھا۔ جو اس وقت ان دنوں کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا۔ جبکہ فلیٹ 2BHkبرساتی لاچبت نگر نمبر 2 میں تھا۔
اس طرح کئی برسوں کے بعد جب واقعہ ہوچکا تھا اُس کے بعد ہم اس کرایہ کے مکان سے نکل کر دہلی میں اپنے خود کے مکان گُڈگاؤں منتقل ہوگئے۔ لیکن یہاں کے کرخت شور شرابے کے ماحول میں جب CAA اور NRC وغیرہ غلطیوں کی آوازیں اب بھی میرے نام سے جڑی ہوئی ہیں۔ جو میرے نام میں کوئی مدد نہیں کرسکتی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنیادی طورپر نام کے واسطے اس ملک میں شہری ہوں۔ اور اب انڈیا میں میں بتدریج اپنے آپ کو اس سے علیحدہ محسوس کررہا ہوں۔ میں پھر سے ایک مرتبہ اپنے آپ میں بے گھر ہونے کا احساس پیداہوتا جارہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close