مضامین

نا ظم اعلی کمیٹی حضرت مولانا خلیل الرحمان صاحب شری چک ؒ

مولانا ثمیر الدین قاسمی مانچسٹر لندن

ولادت 1909تقریبا وفات مارچ 1979 فاضل دیوبند

کو ٹھی گد کا چک ضلع بھا گلپور میں عاجز کی نننہالی قرابت ہے،اسلئے زمانہ طفولیت میں وہاں بڑے ذوق وشوق سے جایا کرتا تھا،حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب کی منجھلی صاحبزادی وہاں منسوب ہے،اسلئے وہ بھی وقفے سے گد کاچک تشریف لایا کرتے تھے،میں نے پہلی مرتبہ وہیں ان کی زیارت کی میانہ قد نحیف جسم،گورابدن کشادہ پیشانی، آنکھیں جھکی ہوئیں، لیکن اس سے علم و ذہانت عیاں،صلحا کے لباس میں ملبوس ہر ایک انکا احترام ولحط کرتے پیر و جواں انکے سامنے اونحی آواز میں گفتگو کرنا سوء ادبی سمجھتے۔
حضرت مولانا نے ۹۰۹۱ء کے ارد گرداس صفحہ ہستی پر قدم رکھا انکا خاندان علمی ذوق سے معمور و آباد تھااس لئے ان کو ابتداء ہی سے تعلیم و تربیت تہذیب واخلاق سے آراستہ کرنے کی کو شش کی گئی،اعلی تعلیم کے لئے آپ نے دارالعلوم دیوبند کا سفر فرمایا اور موقر فاضل بنکر تشریف لائے،آپ خدمت قوم اور دینی جذبے سے سرشار تھے،اسلئے فوری طور پر مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ میں صدرالمدرسین رکھ لئے گئے،آپ نے
کافی سالوں تک مسلسل تدریسی خدمات انجام دی،جس سے ایک بڑی تعدادمیں فضلاء وبا کمال شٰخصیتیں تیار ہوئیں۔
15/جنوری1953ء میں علاقہ گیر پیمانہ پر اعلی کمیٹی کی تحریک شروع ہوئی اس تحریک کو چشم بدنہ لگتی تو یہ عہد سازوزمانہ خیز تحریک سے تعبیر کی جاتی واقعی وہ کمیٹی علاقہ والوں کے لئے دور رس و دیر پا فوائد کے لئے حامل تھی،حضرت مولانا اس با عظمت کمیٹی کے عہدہ نظامت کے لئے زینت بخش ہوئے،آپ کا سحر طراز قلم سیاسی بصیرت وسیع تجربات اور علمی رعب ہمہ وقت یہ سفارش پیش کرتا تھا کہ آپ ہر طرح موزوں اور کلی طور پر کرسی نظامت پر فٹ ہیں،بلکہ اس مقام کو آپ سے زینت تھی،اعلی کمیٹی کے فائلوں کو کھنگا لنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی تمام تحریر یں آپ ہی کے نوک قلم کا شاہکار ہیں آپ کی حیثیت پوری تحریک میں جسم میں دماغ کی حیثیت رکھتی تھی،جو اپنے غور وخوض،حسن تربیت اور حسن انتظام سے ہر عضو کو متحرک رکھتا آپ نے اعلی کمیٹی کے لئے تمام قواعد و ضوابط کو وضع کیا،اس کو تہذیب و تربیت کا جامہ پہنا یا اور اس کے نفاذاور اس پر عمل کروانے کی پوری کو شش کی،اعلی کمیٹی اور علاقہ کمیٹی کے تمام جلسے میں پابندی کے ساتھ شرکت فرماتے اور ترغیبی خطابات سے قلوب میں حرارت پیدا کرتے،کمیٹی کے ہر عضو کی نگرانی و پاسبانی آپ کے ذمہ تھی،آپ ہر خطر ے اور سود وزیان سے بے نیاز ہو کراپنے فرائض کو انجام دیتے اور اس راہ میں کسی لوم لائم کو خاطر میں نہ لاتے،آپ کی یاد داشت تحریر یں اور دفتروں پر طائرانہ نگاہ ڈالنے سے آپ کی عظمت و بلندنگاہی کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا، صد حیف ہے کہ کمیٹی زیادہ دونوں تک زندہ نہ رہ سکی جس کی بنا پر حضرت ناظم صاحب کی امنگیں افسردہ ہوکررہ گئیں۔
حسرت تو ان غنچوں بر ہے جو بن کھلے مرجھاگئے
ان نا کامیوں کی وجہ سے آپ ملی میدان میں نیم جاں ہو گئے تھے،اخیر عمر میں تقاضے کے با وجود بہت سی دلچسپیوں سے کنارہ کش رہنے لگے تھے اور گوشہئ عافیت میں یاد الٰہی کو محبوب مشغلہ بنالیا تھا۔
مارچ 1979ء کو آپ نء داعی اجل کو لبیک کہا اور حقیقت شناس محققین کو یہ پیغام دئے گئے کہ
جان کر منجملہ خاصان میخانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: