اسلامیات

نبی اکرم کے تجارتی مشن

محمد یاسین جہازی

نبی اکرم ﷺ کو وراث میں صرف 5 اونٹ، چند بکریاں اور ایک باندی ملی جن کا نام ام ایمن تھا۔
نبی اکرم ﷺ کی معاشی زندگی
(1) بکریاں چرانا
نبوت سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلے بچپن میں بکری چرانے کا کام کیا۔ آج بھی اپنے گاوں اور آس پاس کے علاقہ میں یہ رسم دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ ماہانہ اجرت پر دوسروں کے جانوروں کو چرانے کا کام کرتے ہیں اور بڑا نفع کماتے ہیں۔
(2) پہلا سفر :ملک شام کی طرف
اس کے بعد جب نبی اکرم ﷺ کی عمر مبارک 12 سال ہوئی تو تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام کا سفر کیا۔ لیکن ایک راہب کی پیشن گوئی کی وجہ سے راستہ سے ہی مکہ واپس بھیج دیا۔
(3) دوسرا سفر: ملک شام کی طرف
اس کے بعد ملک شام کا دوسرا سفر کیا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک تقریبا 25 سال تھی۔ یہ تجارتی سفر تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کے مال سے ڈبل اجرت پر تجارت کیا اور خوب منافع کمائے۔ اس معاملے میں نبی اکرم ﷺ کی صداقت، امانت، دیانت اور حسن اخلاق کو دیکھ کر جہاں تمام تاجر برادری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، وہیں ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی شریک سفر بننے کا فیصلہ کیا اور نکاح کا پیغام بھیجا۔ اور اس طرح آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوگیا۔
(4) تیسرا سفر : ملک یمن کی طرف پہلا سفر
یہ سفر بھی تجارتی مقصد سے تھا، جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال تھا اور نفع میں آپ کی شراکت تھی۔
(5) چوتھا سفر: ملک یمن کی طرف دوسرا سفر
اس سفر میں بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال میں شراکت کے ساتھ آپ ﷺ نے تجارت کیا۔
(6) پانچوں سفر: ملک بحرین کی طرف
بحرین کے سفر میں آپ ﷺ نے حضرت قیس اور حضرت عبد اللہ ابن سائب رضی اللہ عنہما کے مال میں شراکت فرمائی۔
نبی اکرم ﷺ کی یہ عملی زندگی امت مسلمہ کے لیے بالخصوص باعث عبرت ہے کہ زندگی میں حلال ذریعہ معاش میں بہترین ذریعہ تجارت ہی ہے ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ
تسعة اعشار الرزق في التجارة
نو فی صد ذرائع آمدنی تجارت میں ہے بقیہ ایک فی صد دنیا کے سبھی دیگر کاموں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے اس عملی زندگی پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: