اسلامیات

نبی اکرم ﷺ نے بقرعید کا دن کیسے گذارا؟

محمد یاسین جہازی

نبی اکرم ﷺ نے بقرعید کا دن کیسے گذارا؟
محمد یاسین جہازی
ہندستان میں بروز بدھ مطابق 21 جولائی 2021 بقرعید کا دن ہے۔ جہازی میڈیا سبھی حضرات کو بقرعید کی مبارک باد پیش کرتا ہے۔ عید کے دن کے لیے ایک مسلمان کے لیےسب سے حسین اور قیمتی جو تحفہ ہوسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسے نبی کریم ﷺ کا معمول معلوم ہو۔ ذیل کی سطروں میں آخری حج کے موقع پر بقرعید کا دن کس طرح گذارا اختصار کےساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
نویں ذی الحجہ کی رات آپ نے مزدلفہ میں گذاری۔10؍ ذی الحجہ بروز سنیچر بعد نماز فجر طلوع آفتاب سے قبل آپ ﷺ مزدلفہ سے پھر منیٰ کے لیے روانہ ہوگئے۔جب بطن محسر کے پاس پہنچے ، تو سواری کی رفتار تیز کردی۔ راستے میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک مسئلہ دریافت کرنے آئی کہ کیا میں اپنے کمزور باپ کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ نے ہاں میں جواب دیا۔ حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے ہمراہ تھے، وہ اس عورت کو دیکھ رہے تھے ، توآپ ﷺ نے ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔مزدلفہ سے سیدھے جمرہ عقبہ پر پہنچے۔ شیطان کو سات کنکریاں ماریں اور واپس منیٰ کے میدان میں تشریف لائے ، دھوپ تیز تھی ۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے کپڑا تان کر سایہ کیا۔ حضرت بلال حبشیؓ آپ کے ناقہ کے مہار تھامے کھڑے تھے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں مہاجرین و انصار ، قریش اور دیگر قبائل کھڑے تھے۔ ایسے میں زبان اقدس و مطہر سے یہ جملے ارشاد ہوئے کہ اس وقت حج کے مسائل سیکھ لو ، شاید اس کے بعد دوبارہ اس کی نوبت نہ آئے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ آج کونسا دن ہے؟
حسب معمول صحابہ نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔
طویل خاموشی کے بعد پھر سوال کیا کہ
کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے؟
صحابہ کا جواب تھا کہ بیشک آج قربانی کا دن ہے۔
پھر سوال ہوا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟
حسب دستور صحابہ کا وہی جواب تھا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔
طویل خاموشی کے بعد ارشاد ہوا کہ کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟
مسلمانوں کا جواب تھا کہ بیشک یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔ پھر سوال ہوا کہ یہ کونسا شہر ہے؟
صحابہ کا وہی جواب تھا ۔
طویل خاموشی کے بعد پیغمبر انسانیت ﷺنے کہا کہ
کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے؟
مجمع کا بیک زبان یہی جواب تھا کہ
بیشک یہ بلدۃ الحرام ہے۔
اس کے بعد ارشاد عالی مقام ہوا کہ
مسلمانو!
تمھارا خون،
تمھارا مال،
تمھاری آبرو
اسی طرح قابل حرمت ہیں،
جس طرح
یہ دن،
یہ مہینہ
اور یہ شہر محترم ہیں۔
دیکھو!
تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
خطبہ میں سرکار دوعالم ﷺ نے مزید چند باتیں ارشاد فرمائیں۔ خطبہ کی تکمیل کے بعد کئی صحابہ نے الگ الگ مسائل دریافت کیے، سب کے جواب میں آپ نے یہی ارشاد فرمایا کہ افعل ولا حرج، کرو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ خطبہ سے فراغت کے بعد قربانی کی جگہ پر تشریف لائے اورسو اونٹوں کی قربانی فرمائی، جس میں اپنی عمر کے مطابق تریسٹھ اونٹوں کو خود ذبح فرمایا بقیہ 37؍ اونٹوں کو حضرت علیؓ نے قربان کیا۔قربانی کے بعد اعلان کرادیا کہ جس کاجی چاہے ، ان قربانیوں سے گوشت لے جائے اور حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک قربانی سے ایک ایک بوٹی لے کر آو۔چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی ۔ حضورﷺ نے اس سالن کا شوربا نوش فرمایا۔ اس سفر میں چوں کہ9؍ ازواج مطہرات ساتھ تھیں، اس لیے ان کی طرف سے آپ ﷺ نے گائے کی قربانی پیش کی۔قربانی سے فراغت کے بعد حضرت معمر یا حضرت خراشؓ کو بلایا گیا اور سرمنڈوائے اور ناخن ترشوائے ، جنھیں بطور تبریک حاجیوں میں تقسیم کردیا گیا ۔اس کے بعد احرام کی چادریں اتار دیں اور کپڑے زیب تن فرمالیے اور خوشبو بھی لگائی۔جب ظہر کا وقت ہوا تو مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہاں نماز ظہر ادا کی اور طواف فرمایا۔ اس کے بعد زمزم کے کنویں پر تشریف لائے اور زمزم نوش فرمایا اور واپس منی ٰ تشریف لے آئے۔ بعدہ تین دن منیٰ ہی میں قیام فرمایا، جس میں روزانہ زوال کے بعد رمی جمار کیا کرتے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: