اسلامیات

نجاست غلیظہ اور خفیفہ کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (31) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-مئی-1919_00-جون-1976) نور اللہ مرقدہ

نجاست حقیقہ کی دو قسمیں ہیں: غلیظہ اور خفیفہ۔
جس کی نجاست آیت یا حدیث وغیرہ سے ثابت ہو اور کوئی دوسری آیت یا حدیث اس کے مخالف نہ ہو،تو اس کو نجاست غلیظہ کہتے ہیں ۔ اور جس چیز کو یہ نجاست لگ جائے وہ نجس غلیظہ کہلاتی ہے ۔ اور جس کے نجاست ہونے میں آیت یا حدیث وغیرہ کا ٹکراؤ ہو ۔ اگر ایک آیت یا حدیث سے اس کا پاک ہونا معلوم ہوتا ہو، تو دوسری آیت یا حدیث سے اس کا نجس ہونا معلوم ہوتا ہو، لیکن نجاست کا ثبوت راجح ہوتو اس کو نجاست خفیفہ کہتے ہیں۔ (زیلعی)
نجاست غلیظہ میں یہ چیزیں داخل ہیں: شراب انگوری۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس ۔ (المائدہ،۹۰)
بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر؛ یہ سب گندی چیزیں ہیں۔
مردار جانور کا گوشت۔ چربی پٹھا اور اس کی کچی کھال۔ سور۔ مچھلی، مچھر، پسو اور کھٹمل کے سوا ہر قسم کے جانوروں کا بہتا ہوا خون۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
الا ان تکون میتۃ او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس۔ (الانعام،۱۴۵)
مگر یہ کہ مردار جانور یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت ہو، کیوں کہ وہ بالکل ناپاک ہے۔
معلوم ہوا یہ تینوں چیزیں نجس العین ہیں اور نجاست غلیظہ میں داخل ہیں ، لیکن سور کے علاوہ باقی مردار جانوروں کی ہڈی، بال، سینگ اور کھر پاک ہیں، جب کہ اس میں چکنائی کا اثر نہ ہو۔ یعنی جس کے اندر روح اور خون سرایت نہ کرے، وہ پاک ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے ۔
عن عبد اللّٰہ بن عباس قال سمعت رسولَ اللّٰہ ﷺ قال: قل لا اجد فیما اوحی الیَّ محرما علیٰ طاعم یطعمہ الا کل شئی من المیتۃ حلال الا ما اکل منھا ، فاما الجلد والقرون والشعر والصوف والسن والعظم فکلہ حلال لانہ یذکی۔ (رواہ الدار قطنی)
آں حضرت ﷺ نے فرمایا: کہہ دیجیے کہ جو کچھ تیری طرف وحی کی گئی ہے ، اس میں نہیں پاتا ہوں کہ کھانے والے پر اس کا کھانا حرام کیا گیا ہو، خبردار ہو! مردے میں سے ہر چیز حلال ہے، مگر سوائے اس چیز کے کہ کھائی جاتی ہے ، پس کھال (دباغت دیا ہوا) اور سینگ اور بال اور اون اور دانت اور ہڈی؛ پس کل کے کل حلال ہیں اس لیے کہ وہ ذبح نہیں کیے جاتے ہیں، یعنی اس میں روح نہیں ہوتی ہے۔
اسی طرح جن چوپاؤں کا گوشت کھانا حرام ہے ، ان کا پیشاب اور آدمی کا پیشاب ، خواہ دودھ پیتا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پیشاب کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اذا مسکم شئی فاغسلوہ فانی اظن ان منہ عذاب القبر۔ (رواہ البزار و قال فی التلخیص اسنادہ حسن، آثار السنن)
جب کچھ پیشاب تم کو لگ جائے تو اس کو دھو ڈالو، اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں کہ پیشاب (کے لگنے ) سے عذاب قبر ہوتا ہے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
استنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبر منہ۔ (رواہ الحاکم و قال صحیح علیٰ شرطھما)
پیشاب سے بچو، اس لیے کہ عذاب قبر زیادہ تر اسی سے ہوتا ہے۔
ایک صحابی کو دفن کیا، دفن سے فراغت کے بعد عذاب قبر میں مبتلا ہوا، تو ان کی عورت کے پاس آپﷺ تشریف لائے اور ان کے عمل کے بارے میں پوچھا تو بولی کہ وہ بکریاں چرایا کرتے تھے اور ان کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ حلال گوشت والے جانور کا پیشاب بھی نجاست میں داخل ہے۔
معلوم ہوا پیشاب نجس ہے اور اس نجاست سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب قبر ہوتا ہے، مگر حلال گوشت چوپائے کا پیشاب نجاست غلیظہ میں اس لیے داخل نہیں ہے کہ اس کے بارے میں آں حضرت ﷺ نے فرمایا ہے :
لابأس ببول ما یؤکل لحمہ ، (احمد، دار قطنی)
جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ، اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں ہے ۔
اس دلیل کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس کا پیشاب نجاست خفیفہ میں داخل ہے۔ مرغی، بطخ اور مرغابی کی بیٹ اور آدمی کا پاخانہ اور تمام چوپاؤں کا گوبر، لید نجاست غلیظہ میں داخل ہے ۔ آں حضرت ﷺ نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو استنجے کے لیے پتھر لانے کو کہا تو انھوں نے دو پتھر لائے اور تیسرا پتھر نہ ملنے پر ایک لید کا ٹکڑا اٹھالائے۔ آپ ﷺ نے دونوں پتھر کو لیا اور لیدکو پھینک دیا اور فرمایا:
ھذا رکس ۔ (بخاری)
یہ نجس ہے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
لاتستنجوا بالروث۔ (نسائی)
لید سے استنجا نہ کرو۔
معلوم ہوا : گو، گوبر، لید؛ سب نجس ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث بھی نہیں ہے۔
جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے، ان چوپاؤں کا گوشت اور لعاب اور پسینہ نجاست غلیظہ میں داخل ہے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
طھور اناء احدکم اذا ولغ فیہ الکلب ان یغسلہ سبع مرات اولھن بالتراب۔ (مسلم)
جب برتن میں کتا منھ ڈالے تو برتن کو اس طرح پاک کرے کہ اس کو سات مربتہ دھوئے اور پہلی مرتبہ اس کو مٹی سے مانجھے۔
معلوم ہوا کتا کا لعاب ایسا نجس ہے کہ اس کی نجاست کو دور کرنے کے لیے مٹی سے مانجھنے کی ضرورت ہے ۔ اور کتا حرام ہے، تو باقی حرام گوشت جانور کا یہی حکم ہوگا۔ اور لعاب کی نجاست گوشت کی نجاست اور گوشت کی نجاست پسینہ کی نجاست پر دلالت کرتی ہے، اس لیے ان جانوروں کا پسینہ بھی نجس ہوگا ، مگر گدھے اور خچر کا پسینہ پاک ہے ، چوں کہ وہ سواری کا جانور ہے ، اس لیے دفع حرج کے لیے پاک فرمایا، جس طرح بلی کا جھوٹا دفع حرج کی وجہ سے پاک ہوا۔
ہر وہ چیز جو ناقض وضو یا موجب غسل ہو، وہ بھی نجاست غلیظہ میں داخل ہے ، جیسے منھ بھر قے، زخم کا بہتا ہوا خون، پیپ، منی ، مذی وغیرہ۔ مگر ہوا پاک ہے۔
عن عمار بن یاسرقال: اتیٰ علیَّ رسول اللّٰہ ﷺ و انا علیٰ بئر ادلو ماء فی رکوۃ قال: یا عمار! ما تصنع، قلت: یا رسول اللّٰہ ﷺ بابی انت و امی اغسلُ ثوبی من نخامۃ اصابتہ، فقال: یا عمار! انما یغسل الثوب من خمس من الغائط والبول والقئی والدم والمنی، یا عمار ما نخامتک و دموع عینک والماء الذی فی رکوتک الا سواء۔ (رواہ الدار قطنی)
اور یہ چیزیں نجاست خفیفہ میں داخل ہیں: حلال گوشت چوپائے کا پیشاب، گھوڑے کا پیشاب۔ اور حرام گوشت پرندوں کی بیٹ۔ مرغی ، بطخ، مرغابی کے علاوہ باقی حلال گوشت پرندوں کی بیٹ پاک ہے۔ اسی طرح حلال گوشت چوپاؤں کا لعاب اور پسینہ پاک ہے ۔ حضرت عمرو بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منی میں خطبہ دیا اور آپ ﷺ اونٹ پر سوار تھے اور اس کا لعاب میرے مونڈھے پر بہتاتھا ۔ (احمد، ترمذی، ترمذی نے اس کی تصحیح کی)
نجاست غلیظہ اگر گاڑھی ہو، تو ساڑھے چار ماشہ وزن تک معاف ہے اور اگر پتلی ہو تو ہتھیلی کی گہرائی کی مقدار معاف ہے ، یعنی اگر اس کے رہتے ہوئے نماز پڑھے گا ، تو نماز ہوجائے گی، لیکن مکروہ تحریمی ہوگی، اس لیے اس کا دھونا واجب ہوگا۔ اور اگر اس سے کم ہے تو نماز مکروہ تنزیہی ہوگی، اس لیے اس کا دھونا مسنون ہوگا۔ اور اگر مقدار عضو سے زائد ہو یعنی ساڑھے چار ماشہ وزن سے زائد یا مقدار ہتھیلی سے زائد ہو تو نماز نہیں ہوگی اور اس کا دھونا فرض ہے ۔ (در مختار)۔
اور نجاست خفیفہ اگر کسی عضو پر ہو تو چوتھائی عضو سے کم اور کپڑے پر ہو تو اس کپڑے کی چوتھائی سے کم اور اگر کسی چیز پر ہو تو اس چیز کی چوتھائی سے کم ہو تو معاف ہے ، یعنی اس کے رہتے ہوئے نماز پڑھ لے تو نماز ہوجائے گی۔ چوتھائی اور اس سے زیادہ معاف نہیں ہے ۔ اس کا دھونا فرض ہے۔ نجاست خفیفہ اگر پانی میں پڑجائے تو پانی نجس ہوجائے گا، اگرچہ قلیل پڑے۔ پیشاب کی چھینٹ سوئی کی نوک کے برابر بدن یا کپڑے میں پڑے تو معاف ہے ، اس لیے کہ ایسی چھینٹوں سے بچنا مشکل ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: