اہم خبریں

نریندر مودی این آرسی اور سی اے اے پر ملک کو گمراہ کر ہے ہیں : مولانا محمد ولی رحمانی

تحریک جاری رہے گی،جھانسے میں نھیں آئیں گے

ملک گیر احتجاج اور عالمی سطح پر بدنامی کو دیکھتے ہوئے گمراہ کیا جارہاہے
پٹنہ
امیر شریعت بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں سی اے اور این آ ر سی کے تعلق سے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کل ہی رام لیلا میدان دہلی میں منعقد ایک ریلی میں یہ اعلان کیا کہ بی جے پی حکومت نے این آر سی پر کبھی کوئی گفتگو نہیں کی ہے نہ تو کبھی کیبینٹ کی میٹنگ میں او ر نہ کبھی پارلیا منٹ میں ،صرف آسام میں سپریم کورٹ کے آرڈر کی وجہ سے این آرسی کرانی پڑی، ان کا پورے ملک میں این آر سی کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جب کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیامنٹ کے اندر اور باہر کہا ہے کہ پورے ملک میں این آر سی ہو گا۔سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ملک گیر احتجاج او ر عالمی سطح پر حکومت کی ہورہی بدنامی کی وجہ سے اب وزیرا عظم ایسی بات کہہ رہے ہیں ،اسی کا ثبوت رام لیلا میدان میں وزیرر اعظم کا دیا ہوا بیان ہے اور اسی کی ایک کڑی انگریزی اخباروں میں سی اے اے اور این آر سی کے تعلق سے حکومت کی طرف سے شائع کردہ سوال وجواب کی فہرست اورا شتہارہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سی اے اے اور این آر سی الگ الگ ہیں ،این آرسی صرف آسام میں سپریم کورٹ کے آرڈر اور آسام اکورڈ کے مینڈیٹ کی وجہ سے کرایا گیا تھا ، پورے ملک میں ابھی این آر سی کا کوئی خاکہ تیار نہیں ہوا ہے ۔ سی اے اے اور این آر سی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے ، این آر سی ہندوستان کے ہر شہری کے لیے ہے ، یہ شہریت کا رجسٹر ہے ، جس میں سبھی شہریوں کے ناموں کا اندراج کیا جائے گا۔این آر سی مذہبی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی کو مذہبی بنیاد پر این آر سی سے نکالاجائے گا۔این آر سی کے دوران پرانے دستاویزات نہیں طلب کیے جائیں گے بلکہ یہ ووٹر لسٹ میں شمولیت کے لیے اور آدھار کارڈ بنوانے کے لیے جن کاغذات کی ضرورت پڑتی ہے انہیں کی بنیاد پر سٹیزن شپ رجسٹر میں ان کا نام درج ہو جائے گا۔شہریت کے ثابت کرنے کا جو طریقہ کار سٹیزن شپ ایکٹ ۱۹۵۵ء اور سٹیزن شپ رولز۲۰۰۹ء میں درج ہیں، انہیں کی بنیاد پر شہریت کا فیصلہ کیا جائے گا جو پانچ قسموں کے ہیں(۱)پیدائیش کی بنیادپر شہریت(۲)نسل کی بنیاد پر شہریت(۳)رجسٹریشن کے ذریعہ شہریت(۴)اہلیت کی بنیاد پر شہریت(غیر ملکیوں کو متعینہ شرائط پورے کرنے پر شہریت دینا)(۵)شرکت کی بنیاد پر شہریت(اگر کوئی علاقہ ہندوستانی حکومت کے دائرہ اختیار میں آ جائے تو اس کے شہریوں کو ہندوستانی شہریت اس بنیاد پر دی جائے گی)این آر سی میں نام شامل کرنے کے لیے وہ دستاویزات کافی ہیں جس میں تاریخ پیدائش ، مقام پیدائش درج ہو اور اگر کسی کے پاس کوئی ایسا دستاویز نہ ہو تو اس کو اپنے والدین کے ایسے دستاویزات جمع کرنے ہوں گے جن میں ان کی تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش درج ہو ، وہ کون کون سے دستاویزات ہوں گے یہ ابھی متعین نہیں ہے تاہم امید ہے کہ وہ پاسپورٹس ، ووٹر آئی کارڈ، آدھار کارڈ، لائسنس، انشورنس پیپر، برتھ سرٹیفکٹ ، اسکول لونگ سرٹیفکٹ، زمین ، مکان وغیرہ سے متعلق دستاویزات یا اسی طرح کے حکومت سے جاری کردہ دستاویزات ہوں گے۔ کسی کو۱۹۷۱ء سے پہلے کے دستاویزات پیش نہیں کرنے ہوں گے۔

امیر شریعت نے مزید کہا کہ مودی کے بیان کے علاوہ اوپر لکھی تمام باتیں حکومت کے اشتہار کے ذریعہ واضح کی گئی ہیں، اس سلسلہ میں میری بات صاف ہے کہ نریندر مودی نے رام لیلا میدان میں اپنے بیان میںجھوٹ بولا ہے اور اس اخباری اشتہار کے ذریعہ بھی لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔کیوں کہ ہوم منسٹر امت شاہ بار باراس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ این آر سی پورے ملک میں لاگو کریں گے اور ایک ایک گھس پیٹھئے کو ملک سے باہر کریں گے ۔ پارلیامنٹ میں بھی وہ کہہ چکے ہیں ، اپنے انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹر آئی کارڈ، آدھار کارڈ ، لینڈ ڈیڈ اور پین کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے ۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم ایک بار پھر اپنے جھوٹ سے لوگوں کو جھانسہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

حضر ت امیر شریعت نے کہا کہ میں صاف طور پر یہ کہتا ہوں کہ حکومت کے جھانسے میں نہ آئیں اور سی اے اے اور این آر سی کے تعلق سے جو تحریک چل رہی ہے اس کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں ،جو پارٹیاں ، ادارے اور تنظیمیں احتجاج اور مظاہرہ کر رہی ہیں ان کا بھر پور تعاون دیں اوران کی تحریک کو مضبوط کریں اور یہ لڑائی اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ یہ حکومت اس غیر آئینی اور غیر دستوری قانون کوواپس لینے پر مجبو ر نہ ہو جائے اورملک کے باشندوں کو پریشان کرنے کی پالیسی بدل نہ جائے ، یہ اقدام مسلمانوں کے بعد ایس سی ایس ٹی ، سکھ بھائیوں ، عیسائی بھائیوں کے لیے بھی بی جے پی کی پالیسی میں شامل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: