مضامین

نسل نو اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: زین العابدین ندوی

14/اگست 2020

پوری دنیا بالخصوص ملک عزیز ہندستان میں ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہیں اور افسوسناک بھی، اور یہ ایام ہماری ہی کارستانی اور عیش کوشی کا نتیجہ ہیں، ہماری ہی غیر ذمہ دارانہ، غير منصوبہ بند اور اہداف سے خالی روش زندگی نے آج ہمیں اس کگار پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم اپنے تشخصات کو پامال ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر خاموش تماشائی بننے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا، در اندازیوں کا یہ سلسلہ کسی ایک شعبہ تک محدود نہیں ہے، جب بھی کوئی نیا معاملہ رونما ہوتا تو ہمارا بس ایک ہی رونا ہوتا ہے کہ ہم کیا کریں؟ آخر ہم اس قدر جمود و تعطل کے شکار کیوں ہیں؟ ہماری فکریں مردہ اور قوت ارادی پست کیوں ہوتی جا رہی ہیں؟ اس کی اگر کوئی وجہ ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارا وقتی رد عمل کا اظہار اور دائمی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

حالات سے نبرد آزمائی کے لئے وقتی جوش و جنون فائدہ کے بجائے نقصاندہ ہوا کرتا ہے،انقلابات ایام جس کی بین دلیل ہیں، اس کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی ضرورت درکار ہوتی ہے،ہمارے سامنے اس کی ایک سے زائد مثالیں موجود ہیں، اور یہ خدائی اصول بھی ہے کہ محض تمناوں سے محاذ سر نہیں ہوتے اس کے لئے مسلسل جد وجہد اور عمل پیہم کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور ہم اسی خوبی اور وصف سے کوسوں دور ہیں، ہم کہتے تو ضرور ہیں کہ "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة ” لیکن افسوس کہ ہم نے حضورﷺ کی زندگی کو نہ تو دیکھا پڑھا اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کی، ہمارے مسلم معاشرہ کا تو معاملہ ہی بالکل عجیب ہے جن کے یہاں ترقی کا معیار صرف مال ودولت کے سوا کچھ بھی نہیں،چند ٹکوں کی خاطر دس دس سال کے نو نہالوں کی زندگیاں برباد کرنے کی لت لگ گئی ہے ہمیں، ہم خود اپنے ہاتھوں نسل نو کو ایمان بیزاری اسلام فروشی پر آمادہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جب بات تعلیم کو رواج دینے کی کی جاتی ہے تو ہم معاشی حالات کا رونا روتے ہیں، کیا ہم اپنے مصارف میں اعتدال کا رویہ اپناتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے؟ میں دعویٰ کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ کہ اگر ہم صرف پان مسالہ اور ضرورت سے زائد چاے کے خرچے کو کم کر دیں تو اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکتے ہیں اور نسل نو کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اس قدر مجبور اور تنگ حال ہیں کہ تعلیمی میدان میں پیش قدمی نہیں کر سکتے ہیں۔۔ کر سکتے ہیں اور نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں مگر ہم اپنی حقیر خواہشات کو قربان نہیں کرنا چاہتے۔

اب بھی وقت ہے موقع ہے، حالات کیسے بھی ہوں ہمیں بحیثیت مومن گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لئے ایک ہدف طے کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ جو ہماری کامیابی کا زینہ بھی ہے اور ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے جہاں سے ہماری کتاب قرآن مجید کی شروعات ہے، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری کتاب ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہے اس پر ثبات قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہونا پڑے گا، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: