مضامین

نصاب تعلیم دارالعلوم دیوبند

عبداللہ ممتاز

چند روز قبل دارالعلوم نے فیصلہ لیا کہ دارالعلوم کے طلبہ کو اوپن اسکول سے دسویں بارھویں کرایا جائے گا۔ اس کے مثبت ومنفی رد عمل آئے، خصوصا ان لوگوں نے خوب غوغا کیاجنھوں نے ایک مدت سے مسلمانوں کی تمام تر ناکامیوں کا ذمے دار "نصاب دارالعلوم” کو مانا ہوا ہے۔
مدارس کےنصاب تعلیم کو اپڈیٹ کرکے زمانے کے دوش بدوش لاکھڑا کرنے کی بات کوئی نئی نہیں ہے، وقتا فوقتامختلف علماء اور دانشوران کی جانب سے ایسے مطالبے ہوتے رہے ہیں کہ مدارس کے نصاب کو اس ڈھنگ سے مرتب کیا جائے کہ یہاں کا فاضل بیک وقت مذہبی تعلیم کا ماہر اور دنیوی تعلیم سے آراستہ ہو۔ بعض حضرات نے اپنے طور پر کوششیں بھی کیں؛ چناں چہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے قیام کا مقصد ہی "قدیم نافع، جدید صالح”یعنی دیوبند اور علی گڑھ کےدرمیان کی خلیج کو پاٹ کر دینی وعصری تعلیم کا امتزاج پیدا کرنا تھا۔مدرسۃ الاصلاح اور جامعۃ الفلاح نے بھی اپنی سی کوششیں کیں۔ یہ ادارے اپنے مقصد میں کتنے کامیاب رہے یہ جانیں؛ البتہ دارالعلوم دیوبند کا اپنا ایک مشن، مزاج اور مقصد ہے۔ دارالعلوم دیوبند اپنے قیام کے روز اول سے ہی بانی دارالعلوم دیوبند کے گائیڈ لائن کے مطابق اپنے مشن پر کام کر رہا ہے؛ ہاں دوسرے حضرات جو الگ انداز سے کام کرنا چاہیں، یعنی اپنا کوئی الگ نصاب تعلیم بنائیں، ان کی مخالفت بھی نہیں کی ۔
اب آئیے سمجھتے ہیں کہ دارالعلوم کا مقصد کیا ہے؟ دارالعلوم دیوبند کا مقصد محض تعلیم کو فروغ دینااور مسلمانوں کی تعلیمی زبوں حالی دور کرنا نہیں ہے، اس مقصدکے لیے سرسید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے دارالعلوم سے وابستگی کے باوجود جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصدخالص ٹھیٹھ دینی ومذہبی تعلیم دینا ہے۔خود بانی دارالعلوم حضرت نانوتویؒ فرماتے ہیں: سو اہل عقل پر روشن ہے کہ آج کل تعلیم علوم جدیدہ تو بوجہ کثرت مدارس سرکاری اس ترقی پر ہے کہ علوم قدیمہ کو سلاطین زمانہ سابقہ میں بھی ترقی نہ ہوئی ہوگی؛ ہاں علوم نقلیہ (خالص دینی واسلامی علوم )کا یہ تنزل ہوا کہ ایسا تنزل کبھی کسی کارخانہ میں نہ ہوا ہوگا۔ایسے وقت میں رعایا کو مدارس علوم جدیدہ کا بنانا تحصیل حاصل نظر آیا”) سوانح قاسمی : 2/ 279)۔یعنی عصری علوم پر سرکار کی بھرپور توجہ اور ہزاروں لاکھوں عصری ادارے موجود ہونے کے باوجود، دارالعلوم میں بھی عصری تعلیم دینے کا کوئی مطلب نہیں ہے، دارالعلوم کا مقصد تو خالص دینی ومذہبی تعلیم ہے ۔ پھر اس نصاب میں عصری فنون شامل نہ کرنے کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ”زمانہ واحد میں علوم کثیرہ کی تحصیل سب علوم کے حق میں باعث نقصان استعداد رہتی ہے” (سوانح قاسمی : 2/ 283) یعنی دونوں نصاب پڑھنے سے آدمی ڈھنگ کا عالم بن پائے گا اور نہ ہی عصری فنون میں سے کسی میں مہارت حاصل کرسکے گا؛ البتہ حضرت نانوتوی طلباء مدارس کے لیے عصری علوم کو شجر ممنوعہ نہیں سمجھتے تھے؛ بلکہ فرماتے ہیں کہ (اس نصاب کے پڑھنے سے) "استعداد علوم جدیدہ یقینا حاصل ہوتی ہے "اس کے بعد (یعنی دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی نصاب سے فارغ ہونے کےبعد) اگر طلبہ مدرسہ ہذا، مدارس سرکاری میں جاکر علوم جدیدہ کو حاصل کریں تو ان کے کمال میں بات زیادہ مؤید ثابت ہوگی” (سوانح قاسمی:2/281)
گویا عصری فنون کے پیوندکاری کی ضرورت ہرکسی نے محسوس کی ؛ البتہ یہ پیوند کہاں لگےیہ ایک مسئلہ ہے، بانی دارالعلوم کا نظریہ ہے کہ دارالعلوم میں مکمل یکسوئی ویکجہتی سے دینی تعلیم حاصل کریں اور پھر یہاں سے فراغت کے بعد عصری فنون میں کمال حاصل کریں۔اس مقصد سے دارالعلوم نے اپنے تعلیمی میعاد کو بھی کم کردیا تھا ۔مولانا گیلانی فرماتے ہیں:”دارالعلوم کی رودادوں سے اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ شروع میں مدرسہ کی تعلیمی مدت دس سال مقرر کی گئی تھی؛ لیکن دو سال گزرنے کے بعد 1286ھ میں ہم دیکھتے ہیں نصاب اور تعلیمی مدت وغیرہ پر نظر ثانی کرنے کے لیے ایک مجلس مقرر کی گئی، جس نے من جملہ دوسری تجویزوں کے ایک تجویز یہ بھی پیش کی کہ "کل میعاد مدت تمام کتب اسباق ثلاثہ کےچھ سال معین ہوے” ۔( سوانح قاسمی: 2/286)
اس پر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں، پہلے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ دارالعلوم کے حالیہ فیصلے میں عصری تعلیم کو شامل نصاب کرکے فکری نانوتوی کی مخالفت کی گئی؟
جواب: دارالعلوم دیوبند کے حالیہ فیصلے میں دونوں نصاب کو ضم کرنے کی تجویز پیش نہیں کی گئی ہے؛ بلکہ دارالعلوم میں دینیات کے پانچ درجات ہیں۔ ان پانچ درجات میں دسویں کے امتحان میں کامیابی کے لیے بنیادی کتابیں پڑھا کر اوپن اسکول سے دسویں کا امتحان دلوانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔عربی اول تا دورہ حدیث شریف کے نصاب میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ حسب سابق اور حضرت نانوتوی کے منشا کے مطابق اس میں خالص دینی تعلیم دی جائے گی۔
2۔ فارسی کے دو سال اور عربی کے آٹھ سال، عالمیت کے لیے کل دس سال ہوتے ہیں۔ اتنا طویل عرصہ لگانے کے بعد کسی یونیورسٹی میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کی عمر نہیں رہتی ۔
جواب: یہ بالکل صحیح ہے، اس لیے مکررات اور ان کتابوں کو حذف کرکے سال کم کیا جانا چاہیے جو تشحیض اذہان میں تو معاون ہے؛ لیکن قرآن وحدیث فہمی کے لیے ان کتابوں کا بنیادی کردار نہیں ہے۔ مولانا گیلانی کے حوالے سے ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ دارالعلوم نے پہلے بھی ایسا کیا تھا کہ تعلیمی مدت کم کردی تھی؛ لیکن پھر بعض وجوہ سے دارالعلوم کی مدت تعلیم بڑھا دی گئی۔ اس پر مزید غور کیا جاسکتا ہے۔
3۔ اتنا طویل عرصہ مدرسہ میں گزارنے کے باوجود ہم دسویں کی سند سے بھی محروم رہے، جس کی وجہ سے عصری اداروں میں جاکر تعلیم حاصل کرنا مشکل ہے۔
جواب: اس میں یقینا دارالعلوم نے جانے انجانے میں کوتاہی کی ہے۔ چند فارمیلیٹی کی کتابیں رکھ کر ہی سہی؛ اپنے سند کی ویلیو حکومت ہند سے تسلیم کرانا چاہیے تھا۔ خیر دیر سے سہی؛ دارالعلوم نے دینیات کے پانچویں جماعت تک دسویں کرانے کا جو فیصلہ کیا ہے، یہ خوش آئند ہے۔
4۔ دارالعلوم نے یوگی حکومت سے خوف کھا کر دسویں جماعت کا امتحان دلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جواب: اپنی اپنی اصطلاحات ہیں، آپ چاہیں اسے ڈر اور خوف کا نام دیں؛ البتہ میرے نزدیک اسٹریٹجی بدلنا ہے ۔ جب 1857ء کی جنگ میں شکست کھائے تھے تو اسٹریٹجی بدل کر دارالعلوم قائم کیا تھا۔اب جب کہ حکومت؛ مدارس اسلامیہ ہندیہ کی بندش کے درپے ہے تو ایسی کوئی ترتیب بنانا ضروری تھا جس سے دارالعلوم پر آنچ نہ آئے۔ 2009 ء میں رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ آیا تھا، جس کی رو سے چھ سال سے پندرہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو اسکول میں تعلیم دلانا ضروری ہے۔ اس وقت کانگریس کی حکومت تھی جس سےمولانا مدنی مدرسے کا استثناء کرانے میں کامیاب ہوگئے؛ لیکن موجودہ حکومت سے اندیشہ ظاہر ہے کہ اس استثناء کو ختم کرکے مدارس پر تالا لگوا دے۔چودہ پندرہ سال تک مکمل اسکولی نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم بھلا پندرہ سال کی عمر میں مدرسہ کیوں آئے گا؟ اس لیے یہ اقدام کرنا ضروری تھا تاکہ دینیات اور فارسی کے سال تک دارالعلوم ؛ اسکول کے معیار کو پورا کرے اور چودہ سال کی عمر تک کے بچوں کو دینی تعلیم دے سکے جو بعد میں درجات عربی میں داخل ہوکر دینی علوم وفنون میں مہارت حاصل کرے۔1857ء کے بعد قیام دارالعلوم کا فیصلہ بھی تحفظ دین کے مقصد سے تھا اور دسویں/بارھویں تک اسکولی نصاب کی بنیادی کتابوں کو شامل کرا کر اوپن اسکول سے سند دلانے کا فیصلہ بھی تحفظ دین کے مقصد سے ہے۔ دارالعلوم کا مقصد کل بھی روزگار فراہم کرنا نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔
ناقدین کی طرف سے، سب سے زیادہ جس چیز کا مطالبہ ہوتا ہے وہ یہی کہ دارالعلوم کے نصاب کو عصری جامعات کے معیار پر لاکھڑا کریں۔ جب کہ یہ بنیادی طور پر دارالعلوم کے مقصد ہی کے خلاف ہے، اس لیے بھلا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کا مقصد محض تعلیم اور روزگار کے اسباب پیدا کرنا ہے تو عصری ادارے قائم کیجیے۔ ویسے بھی مدارس میں پانچ سات فیصد سے زیادہ بچے نہیں آتے ۔ باقی کے نوے بانوے فیصد کے لیے بھی مدرسہ ہی کھولیں اور انھیں مدرسہ میں ڈال کر "دینی وعصری علوم” کا ملغوبہ تیار کرکے انھیں پروسیں، یہ ضروری تو نہیں ہے۔
علامہ اقبال کے دیرینہ رفیق حکیم احمد شجاع نے ایک مکتب کو "ماڈرن اسکول” میں بدلنے کی ان تھک کوشش کی؛ بالآخر ناکامی کے بعد علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر روداد سنائی۔ علامہ اپنی آنکھیں بند کرکے دیر تک سوچتے رہے اور پھر فرمانے لگے:
جب میں تمھاری طرح جوان تھا ۔ تو میرے قلب کی کیفیت بھی ایسی ہو تھی ۔ میں بھی وہی کچھ چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو ۔انقلاب ! ایک ایسا انقلاب جو ہندوستان کے مسلمانوں کو مغرب کی مہذب اور متمدن قوموں کے دوش بدوش کھڑا کر دے ۔ یورپ کو دیکھنے کے بعد میری رائے بدل گئی ہے۔ ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو۔ غریب مسلمانوں کے بچوں کو انھیں مکتبوں میں پڑھنے دو ۔ اگر یہ ملا اور یہ درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہو گا ؟ جو کچھ ہو گا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں ۔ اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈراورالحمراء اور باب الاخوتین کے سوا اسلام کے پیرووں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا ،ہندوستان میں بھی آگرے کےتاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا”۔(خون بہا/ 455)
اس لیے دارالعلوم کو "دارالعلوم” ہی رہنے میں عافیت ہے، عصری فنون کے لیے ہزاروں؛ بلکہ لاکھوں ادارے قائم ہیں؛ لیکن ہمیں احساس ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی زبوں حالی دور کرنے کے لیے بڑی محنتوں کی ضرورت ہے۔ مزید ادارے قائم کیے جائیں اور مدارس کے علاوہ جو نوے بانوے فیصد میں سے چالیس پچاس فیصد تو مدرسہ اسکول کہیں نہیں جاتے اوراسکول جانے والوں میں سے بمشکل دس پندرہ فیصد مسلم بچے ہائی اسکول کے بعد اپنی تعلیم آگےجاری رکھ پاتے ہیں، ان پر محنت کی ضرورت ہے۔
اللہ کرے دارالعلوم؛ چشم بد سے محفوظ ، مستقبل میں بھی اپنے مشن پر کام کرتا رہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: