مضامین

نظریہ ٔامارت کی شرعی حیثیت-حدوداورمعیار

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

نظریہ ٔامارت کی شرعی حیثیت-حدوداورمعیار
حضرت مولاناسجادؒنےتحریک امارت شروع کی توگوکہ ہندوستان میں ان کی فکرکی بنیادحضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ کےفتویٰ پرتھی،جس کاانہوں نےاپنے مضامین اور خطوط میں بارہااظہارفرمایا،اوراس کی تائیدبھی بہت سےاہم علماء کی طرف سےکی گئی ،لیکن اس کےباوجودکئی حلقوں سےان کوسخت مخالفتوں کاسامناکرناپڑا،اورانہی مخالفتوں کی بنیادپرکل ہندسطح پرامارت شرعیہ قائم نہ ہوسکی،اوراس کےقیام میں جس تیزی کےوہ متقاضی تھے، اور اس کوامت پرایک اہم فرض تصورفرماتےتھے،وہ حساسیت امت کے اکثرحصے میں مفقود تھی،گوکہ اب یہ اختلافات داستان ماضی بن چکے ہیں،اور قائلین امارت کی مضبوط ترجمانی کے نتیجےمیں مخالف دلائل کازورٹوٹ چکاہے،لیکن تاریخی سرمایہ کےطور پراس کامختصرتذکرہ کرنامناسب معلوم ہوتاہے:

نظریۂ امارت پربعض کتابیں
اس موضوع پرسب سےمضبوط اورمستندتحریرات خودبانیٔ امارت شرعیہ حضرت مولانا محمدسجادؒاورامیرشریعت اول حضرت فیاض المسلمین شاہ بدرالدین پھلوارویؒ کی ہیں،جو حضرت مولاناشاہ قیام الدین عبدالباری فرنگی محلیؒ کےشبہات کےجواب میں لکھی گئی ہیں،یہ تحریرات پہلےخانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ سے”لمعات بدریہ”(مجموعۂ مکاتیب شاہ بدرالدینؒ)کاجزء بن کرشائع ہوئیں،پھربعدمیں حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی تحقیق وتعلیق کےساتھ امارت شرعیہ پٹنہ سےمستقل طورپربھی شائع ہوئیں۔
اس موضوع پردوسری سب سےمبسوط اورمدلل کتاب حضرت مولاناعبدالصمد رحمانی نائب امیرشریعت پھلواری شریف پٹنہ کی کتاب”ہندوستان اورمسئلۂ امارت”ہے،جو انہوں نے خودبانی امارت شرعیہ کی ہدایات و افادات کی روشنی میں مرتب کی تھی ،لیکن اس کی اشاعت بانی امارت شرعیہ کےوصال کےبعد پہلی بار۱۳۵۹؁ھ/۱۹۴۰؁ء میں جمعیۃ علماء ہندکی طرف سے عمل میں آئی۔
اس موضوع پرایک اوراہم کتاب حضرت الاستاذمولانامفتی محمدظفیرالدین مفتاحی ؒ کی ہے”امارت شرعیہ دینی جدوجہدکاروشن باب "،گوکہ اس کتاب کاموضوع تاریخ ہےلیکن امارت سے متعلق ضروری نکات بھی زیربحث آئے ہیں،یہ کتاب پہلی بارربیع الاول ۱۳۹۴؁ھ /اپریل ۱۹۷۴؁ء میں مکتبہ امارت شرعیہ پٹنہ سےشائع ہوئی۔
ان کےعلاوہ اس موضوع پراوربھی کئی علمی تحریرات موجودہیں ،جن سےیہ مسئلہ اب پوری طرح منقح ہوچکاہے،تطویل سےبچتےہوئے اس بحث کےضروری نکات پیش کئے جاتےہیں۔
تنظیم واجتماعیت اسلام میں مطلوب ہے
٭اسلام میں تنظیم واجتماعیت کی بڑی اہمیت ہے،اسلام مسلمانوں کومنظم دیکھناچاہتا ہے،اسلام کی تعلیم یہ ہےکہ مسلمان روئے زمین کےکسی بھی حصہ پررہیں،جماعتی زندگی گذاریں،انتشاراورانارکی سےبچیں،اس میں دارالاسلام اوردارالکفرکی تخصیص نہیں ہے، اسلام کی یہ تعلیم اسی طرح امرمطلق ہےجس طرح نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ،ایمان،شہادت، نکاح،طلاق،طہارت ،نجاست وغیرہ احکام دارالاسلام اوردارالکفرکےحدودسےبالاتراورروئے زمین کےتمام مسلمانوں پرنافذہوتےہیں،خواہ وہ حالت غلبہ میں ہوں یاحالت مغلوبیت میں، اگرکسی مقام پرچند مسلمان بھی ہوں تواسلام کی ہدایت یہ ہےکہ وہ ایک کوامیربنالیں ، اگرسفرمیں بھی چندلوگ ساتھ ہوں توان میں بھی ایک کوامیرسفربنالیاجائے،اوراس کی ماتحتی میں سفرطے کیاجائے،تفرق وانتشارسےبچنااورمسلمانوں میں ارکان خاندان سےبھی زیادہ اخوت ایمانی قائم کرنااسلام کانصب العین ہے،اوراسلام کایہ نصب العین حالات کےمطابق ہرجگہ قابل عمل ہے،نصرت باہمی اوراتحادواتفاق کی اساس یہی ہے۔
اجتماعیت ایک کلی تصورہے،یعنی جہاں جس طرح کی اجتماعیت ممکن ہوقائم کی جائےگی ،جب مسلمان مکہ مکرمہ میں مغلوبانہ زندگی گذاررہےتھے،اس زمانے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ
ترجمہ:دین کوقائم کرواورباہم اختلاف نہ کرو۔
اورمدینہ منورہ میں جب غلبہ کادورآیاتویہ آیت کریمہ نازل ہوئی :
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُواالآیۃ
ترجمہ:اللہ کی رسی کوسب مل کر مضبوطی کےساتھ پکڑلو،اورانتشارسےبچو۔
دونوں آیات کےمضمون میں کوئی فرق نہیں ہے،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جماعتی زندگی ہرحال میں اسلام کومطلوب ہے،بلکہ قرآن کریم سےمعلوم ہوتاہےکہ سابقہ نبیوں سےبھی یہ عہدلیاگیاتھا:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَاإِلَيْكَ وَمَاوَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ
اس کی تفسیرمیں علامہ نیشاپوری ؒ لکھتےہیں:
{ شرع لكم } بيَّن وأظهر لكم { من الدين ما وصَّى به } أمر {
نوحاً } ثمَّ بيَّن ذلك فقال : { أن أقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه } والله يبعث
الأنبياء كلَّهم بإقامة الدِّين وترك الفرقة
علامہ دمشقیؒ رقمطراز ہیں:
أَنْ أَقِيمُواْ الدين وَلاَ تَتَفَرَّقُواْ فِيهِ } بعث الأنبياء كلهم بإقامة الدين
والألفة والجماعة وترك الفرقة والمخالفة
اوربھی کئی مفسرین نے اس مضمون کونقل کیاہے
اسلام اجتماعیت کےبغیراوراجتماعیت امارت کےبغیرقائم نہیں رہ سکتی
اسی لئےخلیفۂ دوم حضرت عمربن الخطابؒ نےواضح اعلان فرمایا:
لا إسلام الا بجماعة ولا جماعة الا بإمارة ولا إمارة إلا بطاعة
یعنی اسلام کی بنیادہی جماعت پرہے،اورجماعت کےلئےامارت ضروری ہے،
اورامارت بغیراطاعت کےوجودمیں نہیں آسکتی۔
اس سےمعلوم ہوتاہےکہ اسلام میں جماعت کاایک خاص اصطلاحی مفہوم ہے،چند لوگوں کامحض جمع ہوجاناکافی نہیں ہے،بلکہ نظام امارت کےتحت جمع ہونےکانام جماعت ہے،قرآن کریم سے بھی یہی روشنی ملتی ہےکہ قیام جماعت کےلئےاولوالامرکی اطاعت ضروری ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواأَطِيعُوااللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
ترجمہ:اےایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواوررسول کی اطاعت کرواوران کی جوتم میں سےاولوالامرہوں،اگرکسی امرمیں تمہارےدرمیان اختلاف ہوجائے تواللہ اوررسول کی طرف رجوع کرو،اگرتم اللہ اوریوم آخرت پرایمان رکھتے ہو،یہ بہترہےاوراس کاانجام اوربدلہ بھی بہترین ہے۔
ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہےکہ جماعت کےلئےامام لازم ہے:
حَدَّثَنِى أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم-عَنِ الْخَيْرِ،وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِى . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِى جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ ، فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ « نَعَمْ » . قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ « نَعَمْ ، وَفِيهِ دَخَنٌ » . قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ « قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِى تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ » . قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ « نَعَمْ دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا » . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ « هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا » قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِى إِنْ أَدْرَكَنِى ذَلِكَ قَالَ « تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ » . قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ « فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا
ترجمہ:ابوادریس خولانی ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ نےفرمایاکہ لوگ رسول اللہ ﷺسے امورخیرکےبارے میں سوالات کرتے تھے اورمیں اکثرآنے والےفتنوں اور شرکےبارے میں دریافت کرتاتھا،تاکہ اپنےآپ کوان سےبچاسکوں،ایک دن میں نےعرض کیاکہ یارسول اللہ!ہم جہالت وشرمیں مبتلاتھے،پھراسلام ہمارے پاس خیرلےکرآیا،توکیااس خیرکےبعد بھی کوئی شرآنےوالاہے؟ارشادہوا،ہاں،میں نےعرض کیاکہ کیااس شرکےبعدپھر خیرآئےگا؟ فرمایا،ہاں ،اوراس میں کچھ بگاڑہوگا،میں نےعرض کیا،کیابگاڑہوگا؟فرمایاکچھ ایسےلوگ ہونگےجومیرےطریقے کےخلاف چلیں گے،اورمیری روش سےالگ روش اختیارکریں گے،تم ان میں اچھی بات بھی پاؤگے اوربری بات بھی،میں نےعرض کیا،پھراس اچھائی کےبعدبرائی آئےگی؟آپ نےفرمایا،ہاں ،بہت سےداعی پیداہونگےجوجہنم کی طرف بلائیں گے،جوان کی بات مانیں گےجہنم رسیدہونگے،میں نے عرض کیا،یارسول اللہ!ان کی صفات بیان فرمائیے،ارشادفرمایا:وہ ہماری ہی قوم کےہونگے،اورہماری ہی زبان میں بات کریں گے،میں نےعرض کیا،اگروہ وقت میری زندگی میں آجائے تومیرے لئے کیاحکم ہے؟فرمایامسلمانوں کی جماعت اوران کےامام کولازم پکڑو،میں نےعرض کیا،اگرمسلمانوں کی جماعت اورامام موجودنہ ہو؟آپ نےفرمایا،پھران تمام فرقوں سےالگ ہوجاؤ۔
اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ جس گروہ کاامیرنہ ہووہ محض فرقہ ہے جماعت نہیں۔
ایک روایت میں ہےکہ جس کی موت اس حالت میں آئےکہ اس کی جماعت کاکوئی امام نہ ہوتواس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی:
عن ابن عمر:أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من خرج من الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه حتى يراجعه قال : و من مات و ليس عليه إمام جماعة فإن موتته موتة جاهلية(هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقدحدث به الحجاج بن محمدأيضاعن الليث ولم يخرجاه تعليق الذهبي
قي التلخيص:على شرطهما
ایک روایت میں ارشادنبوی ہےکہ مؤمن کی کوئی صبح وشام ایسی نہیں گذرنی چاہئےجس میں اس کاکوئی امیرنہ ہو:
مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا،وَلَايُصْبِحَ صَبَاحًا،وَلَايُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ
اس مضمون کی بےشمارروایات کتب حدیث میں موجودہیں جن سے نصب امام اور
قیام امارت کاصریح اورلازمی حکم نکلتاہے۔یہاں تک کہ سفر میں بھی چندلوگ ساتھ ہوں توحکم ہے کہ ایک کوامیرچن لیاجائےاور سفراس کی ماتحتی میں کیاجائے:
عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ« إِذَا خَرَجَ ثَلاَثَةٌ فِى سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ
رسول اللہ ﷺنے مختلف علاقوں کےلئےمختلف امراء مقررفرمائےاوران کی اطاعت کواپنی اطاعت قراردیا:
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ-صلى الله عليه وسلم-أَنَّهُ قَالَ«مَنْ
أَطَاعَنِى فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِى فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ
أَطَاعَنِى وَمَنْ عَصَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِى
اس سے معلوم ہوتاہےکہ اطاعت صرف امیرالمؤمنین ہی کی نہیں بلکہ نظام امارت کےقیام اوربقاکےلئےاصول کےمطابق ہرچھوٹےبڑے امیرکی اطاعت واجب ہے،خواہ وہ امیرسفر ہی کیوں نہ ہواورخواہ اس کاتقرر امیرالمؤمنین کی جانب سے ہویاوہ عام مسلمانوں کی طرف سےمنتخب کردہ ہو۔
سمعت أبا أمامة يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب في حجةالوداع فقال اتقوا الله [ ربكم ] وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وأدوا زكاة أموالكم وأطيعوا ذا أمركم تدخلوا جنة ربكم قال فقلت لأبي أمامة منذ كم سمعت [ من رسول الله صلى الله عليه و سلم ] هذا الحديث ؟ قال سمعته وأناابن ثلاثين سنة قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح
نصب امیرکےلئےمملکت کاوجودضروری نہیں
یہ تصورقطعی درست نہیں کہ قیام جماعت اورنصب امیرکےلئےاسلامی مملکت کاوجودشرط ہے، اس لئے کہ ایک روایت میں ہےکہ چھوٹی سےچھوٹی جگہ پررہنےوالوں کی بھی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنےلئےامیرکاانتخاب کریں:
ولا يحل لثلاثة نفر يكونون بأرض فلاة الا أمروا عليهم أحدهم
اس میں کوئی قیدنہیں کہ وہ خطۂ ارض کہاں واقع ہے،مسلم اقتدارکےعلاقےمیں یا غیرمسلم اقتدارکےعلاقےمیں،”ارض فلاۃ” کالفظ ظاہرکرتاہےکہ یہ حکم جغرافیائی حدودکا پابندنہیں ہے،علاقےکےفرق سےامارت کےمعیاراورحدودمیں تفاوت ہوسکتاہے،اور امارت کی مختلف قسموں کی تطبیق میں فرق ہوسکتاہے،لیکن نفس امارت کےحکم پراس کااثر نہیں پڑےگا،اگرامارت کی ایک صورت ممکن نہ ہوتوجوصورت ممکن ہواس کو نافذکرنالازم ہوگا۔
مغلوبانہ حالات میں بیعت امارت
جہاں تک خاص مغلوبانہ حالات میں بیعت امارت کاتعلق ہےتواس کی مثالیں بھی
قرآن وحدیث اورتصریحات فقہاءمیں موجودہیں:
دارالکفرمیں بحیثیت امیرحضرت طالوت کاتقرر
٭اس کی ایک مثال حضرت شمویلؑ(پیغمبر)کےزیرقیادت حضرت طالوت کا بحیثیت امیرتقرر ہے ،قرآن کریم میں اس واقعہ کاذکرکیاگیاہے:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَامَلِكًانُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُواقَالُواوَمَالَنَاأَلَّانُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَامِنْ دِيَارِنَاوَأَبْنَائِنَافَلَمَّاكُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاإِلَّاقَلِيلًامِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ(246) وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًاقَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
ترجمہ:کیاآپ نےموسیٰ کےبعدبنی اسرائیل کی اس جماعت کونہیں دیکھاجس نے اپنےنبی سےفرمائش کی تھی کہ ہمارے لئےکوئی امیرمقررفرمادیں جن کےزیرقیادت ہم جہاد فی سبیل اللہ کافریضہ انجام دے سکیں ،نبیؑ نے ارشادفرمایا:کہیں ایساتونہیں ہوگاکہ جب تم پر جہادفرض کردیاجائے توتم جہادسے مکرجاؤ،انہوں نے کہا: ہم کیوں جہاد سے اعراض کریں گےجب کہ ہمیں اپنے گھروں اورخاندان سے نکال دیاگیا،لیکن جب ان پرجہادفرض کردیا گیا توچندکوچھوڑکراکثرلوگوں نےاس سے اعراض کیا،اللہ پاک کوان ظالموں کی خبر ہے،ان کے نبی ؑ نےان سے کہاکہ طالوت کوتمہاراامیرمقررکیاگیاہے،توانہوں نےان پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہماراامیرکیونکر ہوسکتاہے،امارت کےتو ہم زیادہ حقدار ہیں ،اس کے پاس تومالی وسعت بھی نہیں ہے،نبی علیہ السلام نے ارشادفرمایاکہ یہ انتخاب اللہ کی جانب سے ہے،علاوہ طالوت کوعلم ووجاہت کی دولت بھی حاصل ہے، اللہ پاک جسے چاہتے ہیں امارت وحکومت سے سرفرازکرتے ہیں،وہی وسعت وعلم والا ہے۔
اللہ کے حکم پرنبیؑ کی طرف سےامیرکایہ تقررایسے حالات میں ہواجب بنی اسرائیل جالوت جیسے ظالم بادشاہ کےزیراقتدارانتہائی مغلوبانہ حالات سےدوچارتھے،ان کےبیشتر افرادقیدوبندکی زندگی گذارنےپرمجبورتھے،ان پرجزیہ عائدکردیاگیاتھا،بنی اسرائیل کے شاہی خاندان کےچارسوچالیس(۴۴۰)نفوس قیدکرلئےگئےتھے،یہاں تک کہ ان کی مذہبی کتاب تورات بھی ان کے ہاتھوں سےچھین لی گئی تھی،ان میں ایک شخص بھی ایسانہیں چھوڑاگیاتھا جوقومی اوراجتماعی معاملات کے نظم وانتظام کاشعور رکھتاہو،خاندان نبوت کے تمام لوگ (ایک حاملہ عورت کوچھوڑکرجس سے بعدمیں حضرت شمویلؑ پیداہوئے) شہیدکردئیے گئے تھے۔علامہ بغویؒ لکھتے ہیں:
وهم قوم جالوت كانوا يسكنون ساحل بحر الروم بين مصر وفلسطين وهم العمالقة فظهروا على 42/أ بني إسرائيل وغلبوا على كثير من أرضهم وسبواكثيرا من ذراريهم وأسروا من أبناء ملوكهم أربعين وأربعمائة غلاما، فضربواعليهم الجزية وأخذوا توراتهم، ولقي بنو إسرائيل منهم بلاء وشدة ولم يكن لهم نبي يدير أمرهم،وكان سبط النبوة قد هلكوا، فلم يبق منهم إلا امرأة حبلى فحبسوها في بيت رهبة أن تلد جارية فتبدلها بغلام لما ترى من رغبة بني إسرائيل في ولدها وجعلت المرأة تدعو الله أن يرزقها غلاما فولدت غلاما،
فسمته أشمويل
مفسرابوالسعودالعمادیؒ رقمطرازہیں:
وذلك أن جالوت رأسَ العمالقةِ وملكهم وهو جبارٌ من أولاد عمليق بن عاد كان هو ومن معه من العمالقة يسكنون ساحلَ بحرِ الرومِ بين مصر و فلسطين وظهرواعلى بني إسرائيلَ وأخذواديارَهم وسبَوْاأولادهم وأسرُوامن
أبناء ملوكهم أربعَمائة وأربعين نفساًوضربواعليهم الجزيةَ وأخذواتوراتَهم
اس طرح دارالکفرمیں قیام امارت کے حکم پرخدااوررسول دونوں کی مہرلگ گئی ،پھر قرآن کریم نےاس واقعہ کونقل کرکےاس امت کےلئےبھی اس کوقانونی حیثیت عطاکردی ہے۔
حالت مغلوبی میں بیعت عقبہ
٭دارالکفرمیں نصب امیرکی دوسری نظیرخودعہدنبوی میں بیعت عقبہ ہے،جس میں حضور ﷺ نےمکہ مکرمہ میں ہجرت سے قبل قبیلۂ اوس وخزرج کےچندمسلمانوں سے سمع وطاعت کی بیعت لی تھی،یہ بیعت دومرحلوں میں لی گئی تھی،پہلی بیعت کوبیعۃ عقبۂ اولیٰ کہتے ہیں ،جس میں بارہ (۱۲)افرادشریک تھے،اوردوسری بیعت اس کے ایک سال کے بعد لی گئی جس کوبیعت عقبۂ ثانیہ کہاجاتاہے،اس میں اوس وخزرج کے تہتر (۷۳)مرداور دو(۲) عورتیں شامل ہوئیں،بیعت عقبۂ ثانیہ(ذی الحجہ)ہجرت (ربیع الاول )سے چند ماہ پیشتر لی گئی ، کتب سیرو حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں:
ولم يختلفوا أنهم اثنا عشر رجلا وهم الذين بايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم في العقبة الأولى وكان بينها وبين العقبة الثانية عام أو نحوه وكانوا في بيعة العقبة الثانية ثلاثا وسبعين رجلا فيما ذكر ابن إسحاق وامرأتين وكانت العقبة الثانية قبل الهجرة بأشهر يسيرة
جب کہ اس وقت مسلمان انتہائی چھوٹی اقلیت میں تھے،عرب کے صرف چندقبائل
نےاسلام قبول کیاتھا،اوروہ بھی یکجانہیں تھے بلکہ مختلف آبادیوں میں پھیلے ہوئے تھے،مثلاً: یمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کاخاندان اورطفیل بن عمردوسیؓ کا پوراقبیلہ مسلمان ہوچکاتھا، ازوشنوہ کاپوراقبیلہ حضرت ضمادبن ثعلبہؓ کےہاتھ پراورغفارکانصف قبیلہ حضرت ابوذرغفاریؓ کےہاتھ پرمسلمان ہوچکاتھا،اوران ہی کےاثرسےقبیلۂ اسلم بھی مسلمان ہوگیاتھاجو قبیلۂ غفار سےقربت رکھتاتھا،مہاجرین حبش کےواسطہ سےاسلام کی آوازغیرقوموں اور ملکوں تک پہونچ چکی تھی،مدینہ منورہ کےقبائل اوس وخزرج کےاکثرگھرانےبھی مسلمان ہوچکے تھے ۔
لیکن ہرجگہ ان کےلئےرکاوٹوں کاسامناتھا، ریگستان عرب میں اطمینان کی سانس لیناان کےلئےمشکل تھا،وہ کلیتاً مغلوبانہ اور محکومانہ زندگی گذاررہے تھے ،خود قرآن کریم کا بیان ہے:
وَاذْكُرُواإِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاس
ترجمہ:یادکروجب تم ملک میں تھوڑےتھےاورکمزورتھےاورڈرتےتھےکہ لوگ تم کواچک نہ لیں ۔
بلکہ ہجرت کے بعدبھی کافی عرصہ تک یہی صورت حال رہی،انتہائی خوف ودہشت کاماحول تھا،خودذات رسالت مآب ﷺبھی شب میں اطمینان کے ساتھ آرام نہیں فرما سکتے تھے،ہتھیاربندسپاہی حجرۂ شریفہ کے باہرتعینات کئے جاتے تھے،بخاری شریف میں حضرت عائشہ ؓکا بیان نقل کیاگیاہے:
كان النبي صلى الله عليه وسلم سهرفلما قدم المدينة قال(ليت رجلا
من أصحابي صالحا يحرسني الليلة
نسائی شریف میں ہے:
عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في أول ما قدم المدينة يسهر من الليل
عن أبي بن كعب رضي الله عنه قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحابه المدينة و آوتهم الأنصار رمتهم العرب عن قوس واحدة كانوالايبيتون إلابالسلاح ولايصبحون إلافيه
لیکن ان حالات میں بھی رسول اللہ ﷺنےمسلمانوں کواجتماعی زندگی گذارنے کی تلقین فرمائی،اوران سےسمع وطاعت کی بیعت لی،آپ نےان کویہ بھی ہدایت فرمائی کہ امارت کے معاملےمیں کوئی اختلاف پیدانہ کریں بلکہ اجتماعی وحدت کاثبوت دیں:
عن عبادة بن الصامت قال:بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع و الطاعة في المنشط والمكره وأن لاننازع الأمرأهله وأن نقوم أو نقول بالحق حيثماكنالانخاف في الله لومة لائم ۔
عہدنبوت میں دوسرے غیرمسلم علاقوں میں تقررامیر
٭دوسرے غیرمسلم علاقوں میں بھی آپ ﷺکےارشادعالی کےمطابق امراء کاتقرر عمل میں آیا،مثلاً:مہاجرین حبش کےامیرحضرت جعفرطیارؓ مقررکئےگئے،جب کہ حبشہ دار الکفر تھا،اوروہاں کابادشاہ نصرانی تھا، سیرت ابن ہشام میں یہ واقعہ تفصیل کےساتھ مذکورہے۔
٭دارالکفرمیں تقررامیرکی ایک نظیرخودعہدنبوت میں شام کی سرزمین پر(جو اس وقت تک اسلامی مفتوحات میں شامل نہیں ہواتھا)غزوۂ موتہ کےموقعہ پرقوم کی طرف سے حضرت خالدبن الولیدؓ کابحیثیت امیرتقرر ہے،جس پرنبی کریم ﷺنے کوئی نکیرنہیں فرمائی ،
بلکہ پیرایۂ مدح میں آپ نےامت کے سامنے یہ پورا واقعہ بیان فرمایا، صحیح بخاری میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه:أن النبي صلى الله عليه و سلم نعى زيداو جعفراوابن رواحة للناس قبل أن يأتيهم خبرهم فقال(أخذ الراية زيدفأصيب ثم أخذجعفرفأصيب ثم أخذابن رواحة فأصيب).وعيناه تذرفان(حتى أخذ الراية سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم)
نسائی شریف میں اس روایت کےساتھ یہ استدلال بھی نقل کیاگیاہےکہ عام مسلمانوں کےانتخاب سےبھی امارت قائم ہوجاتی ہے:
عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث زيدا و جعفرا وعبد الله بن رواحة ودفع الراية إلى زيد فأصيبوا جميعا قال أنس فنعاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الناس قبل أن يجيء الخبر قال أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذ جعفر فأصيب ثم أخذ عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذ الراية بعد سيف من سيوف الله خالد بن الوليد قال فجعل يحدث الناس وعيناه تذرفان رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب وأحمد بن واقد عن حماد وفيه دلالة على أن الناس إذا لم يكن عليهم أمير ولا خليفة أمير فقام بإمارتهم من هو صالح للأمارة وانقادوا له انعقدت ولايته حيث استحسن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما فعل خالدبن الوليدمن أخذه الراية وتأمره عليهم دون أمر النبي صلى الله عليه و سلم ودون استخلاف من مضى من
أمراء النبي صلى الله عليه و سلم إياه والله أعلم
حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس حدیث سےیہی استدلال کیاہے:
ثم أخذاللواء خالدبن الوليدولم يكن من الأمراء وهو أمير نفسه ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم انه سيف من سيوفك فأنت تنصره فمن يومئذ سمى سيف الله وفي حديث عبد الله بن جعفر ثم أخذها سيف من سيوف الله خالد بن الوليد ففتح الله عليهم وتقدم حديث الباب في الجهاد من وجه آخر عن أيوب فأخذها خالد بن الوليد من غير إمرة والمراد نفي كونه كان
منصوصا عليه وإلا فقد ثبت أنهم اتفقوا عليه
دارالحرب یمامہ میں انتخاب امیر
٭زمانۂ نبوت کےایک اورواقعہ سےبھی اس پرروشنی پڑتی ہےجس کاتذکرہ ابن خلدون وغیرہ نے بہت تفصیل کےساتھ کیاہےکہ”عہدرسالت کے آخری زمانہ میں جب یمامہ میں اسودعنسی نے نبوت کادعویٰ کیا،اوربہت سے لوگ اس کے متبع ہوگئے،تورسول اللہﷺ کےمقررکردہ عامل شہیدکردئیےگئے،بہت سے مسلمان ڈرکر وہاں سےبھاگ نکلے،لیکن بہت سےلوگ ایمان کوچھپاکروہیں رہے،یمامہ دارالاسلام سےدار الحرب ہوگیا ،یہاں تک کہ اذانیں بند ہوگئیں اورعلی الاعلان کوئی شخص اللہ کانام لینےوالانہ رہا،ایک دن انہی پوشیدہ مسلمانوں میں سے کسی نے رات میں مدعی نبوت کوقتل کردیا،اورصبح کووہاں موجود مسلمانوں نے حضرت معاذؓکواپناامیرمنتخب کیااور مرتدین سے مقابلہ کیا،اللہ پاک کی نصرت سے وہ کامیاب ہوئے اور یمامہ پھر دارالاسلام میں تبدیل ہوگیا،درباررسالت میں اس بشارت کولےکرقاصدبھیجاگیا، مگر وہ ایسے وقت مدینہ منورہ پہونچاجب سرکاردوعالمﷺ رفیق اعلیٰ کواختیارفرماچکےتھے، اورحضرت صدیق اکبر ؓ مسندخلافت پرمتمکن تھے،کسی صحابی سےاس واقعہ پر کوئی نکیرمنقول نہیں ہے، یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ دارالحرب میں امیرکا انتخاب اجماع صحابہ سے بھی ثابت ہے ۔
فقہی تصریحات
علاوہ کتب فقہ میں یہ تصریحات موجودہیں کہ مسلمانوں کےلئےبےامیررہناکسی
مقام پردرست نہیں،خواہ وہ دارالاسلام ہویادارالحرب،امام سرخسیؒ لکھتےہیں:
لا يجوز ترك المسلمين سدى ليس عليهم من يدبرأمورهم في دار الإسلام ولافي دارالحرب
یہی بات مبسوط میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
ففي القول بما قالوا يؤدي إلى أن يكون الناس سدى لا والي لهم
جن علاقوں پرکفارکاغلبہ ہوجائے،اوروہاں کوئی مسلم حاکم موجود نہ ہوتووہاں کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہےکہ اتفاق باہم سےاپنامسلم امیرمنتخب کریں،تاکہ جمعہ وعیدین اور قضا کانظام متأثر نہ ہو،امیرکوئی قاضی مقرر کرے یاخود کارقضاسنبھالے،یعنی اس حالت میں بھی اجتماعیت کےتحفظ کےلئےنصب امیرکاحکم مرتفع نہیں ہوتا،البتہ فقہاء نےیہ تصریح بھی کی ہےکہ جب تک یہ صورت ممکن نہ ہوان پرلازم ہے کہ باہمی مشورہ سے جمعہ وعیدین کانظام قائم کریں،اور قاضی کاتعین کریں ،تاکہ بہت سےعائلی اوراجتماعی مسائل جن میں قضائے قاضی کی ضرورت ہوتی ہے،کےحل میں دشواری پیدانہ ہو، فقہاء نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ مسلمانوں کے باہمی اتفاق سے جو قاضی مقررہوتاہےشرعاً اس کا بھی اعتبارہےاوروہ شرعی قاضی قرارپاتاہے:
امام سرخسی ؒ نےامام کی عدم موجودگی میں قوم کی طرف سےنصب امام کااعتبارکیا ہے،اوراس کی نظیرحضرت عثمان ؓ کی عدم موجودگی(حالت محاصرہ ) میں حضرت علی ؓکی امامت جمعہ ہے:
لَوْ مَاتَ مَنْ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ بِالنَّاسِ فَاجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ فَصَلَّى بِهِمْ الْجُمُعَةَ هَلْ يُجْزِئُهُمْ ؟ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يُجْزِئُهُمْ فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ رُسْتُمَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَوْ مَاتَ عَامِلُ إفْرِيقِيَّةَ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ فَصَلَّى بِهِمْ الْجُمُعَةَ أَجْزَأَهُمْ لِأَنَّ عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَمَّا حُصِرَ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِهِمْ الْجُمُعَةَ وَلِأَنَّ الْخَلِيفَةَ إنَّمَا يَأْمُرُ بِذَلِكَ نَظَرًا مِنْهُ لَهُمْ فَإِذَا نَظَرُوا لِأَنْفُسِهِمْ وَاتَّفَقُوا عَلَيْهِ كَانَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ أَمْرِالْخَلِيفَةِ إيَّاهُ
علامہ ابن ہمامؒ رقمطرازہیں:
وإذا لم يكن سلطان ولامن يجوز التقلد منه كما هو في بعض بلاد
المسلمين غلب عليهم الكفاركقرطبة في بلاد المغرب الآن وبلنسية وبلاد الحبشة وأقرواالمسلمين عندهم على مال يؤخذمنهم يجب عليهم أن يتفقواعلى واحد منهم يجعلونه واليافيولى قاضياأويكون هوالذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا لهم إماما يصلي بهم الجمعة
علامہ ابن نجیمؒ لکھتے ہیں:
وَأَمَّا في بِلَادٍ عليها وُلَاةُ الكفارة(الكفار) فَيَجُوزُ لِلْمُسْلِمِينَ إقَامَةُ
الْجُمَعِ وَالْأَعْيَادِوَيَصِيرُ الْقَاضِي قَاضِيًا بِتَرَاضِي الْمُسْلِمِينَ وَيَجِبُ عليهم طَلَبُ
وَالٍ مُسْلِمٍ ا هـ
علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
وأمابلادعليهاولاة كفار فيجوزللمسلمين إقامة الجمع والأعيادو يصيرالقاضي قاضيابتراضي المسلمين فيجب عليهم أن يلتمسواواليامسلما
منهم اهـ وعزاه مسكين في شرحه إلى الأصل ونحوه في جامع الفصولين
مطلب في حكم تولية القضاء في بلاد تغلب عليها الكفار وفي الفتح وإذا لم يكن سلطان ولا من يجوز التقلد منه كما هو في بعض بلاد المسلمين غلب عليهم الكفاركقرطبة الآن يجب على المسلمين أن يتفقوا على واحد منهم يجعلونه واليا فيولي قاضيا ويكون هو الذي يقضي بينهم وكذا ينصبوا إماما يصلي بهم الجمعة ا هـ وهذا هو الذي تطمئن النفس إليه تأمل ثم إن الظاهر أن البلادالتي ليست تحت حكم سلطان بل لهم أمير منهم مستقل بالحكم عليهم بالتغلب أوباتفاقهم عليه يكون ذلك الأميرفي حكم السلطان فيصح منه تولية القاضي عليهم
حاشیۂ مراقی الفلاح میں ہے:
وفي مفتاح السعادةعن مجمع الفتاوي غلب على المسلمين ولاة الكفاريجوزللمسلمين إقامةالجمع والأعيادويصيرالقاضي قاضيابتراضي المسلمين ويجب عليهم أن يلتمسواواليامسلمااه ولو مات الخليفة وله ولاة على أمور العامةكان لهم أن يقيمواالجمعة لأنهم أقيموالأمورالمسلمين فكانواعلى حالهم ما لم يعزلواحلبي
قوت قاہرہ کے بغیربھی امارت قائم ہوسکتی ہے
ظاہرہےکہ غیرمسلم اقتدارمیں رہنےوالے مسلمانوں کی طرف سے جو امیرمقرر ہوگااسے قوت قاہرہ حاصل نہ ہوگی،یعنی وہ طاقت کےبل پرکوئی حکم نافذکرناچاہےتونہیں کرسکتااس لئے کہ وہ سیاسی اورفوجی اقتدارسے محروم ہے،اس کے باوجودعلماء اور فقہاء کاقیام امارت پراصرار کرنااس بات کی دلیل ہے کہ امارت کے بھی درجات ہیں ،اور اجتماعیت کے تحفظ اورملی وعائلی مسائل کےحل کےلئے ہمیشہ امارت کاملہ ہی ضروری نہیں ہے بلکہ بعض حالات میں اس کی جگہ پرامارت ممکنہ بھی کافی ہوتی ہے،یہ بات مذکورہ بالا واقعات وروایات اور فقہی تصریحات کے تناظرمیں نکھرکرسامنےآتی ہے،بعض علماء نےبڑی صراحت کےساتھ بھی یہ بات لکھی ہےمثلاً:
علامہ ابن تیمیہؒ تحریرفرماتے ہیں:
الفصل الثامن:[وجوب اتخاذ الإمارة]يجب أن يعرف أن ولاية الناس من أعظم واجبات الدين بل لا قيام للدين إلا بها،فإن بني آدم لا تتم مصلحتهم إلا بالاجتماع لحاجة بعضهم إلى بعض، ولا بد لهم عند الاجتماع من رأس، حتى قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمرواأحدهم”، رواه أبو داود، من حديث أبي سعيد وأبي هريرة. [2608، أحمد 2/176 ] .وروى الإمام أحمد في المسند عن عبد الله بن عمرو،أن النبي قال: "لا يحل لثلاثة يكونون بفلاة من الأرض إلاأمرواعليهم أحدهم”[أحمد:2/177]. فأوجب صلى الله عليه وسلم تأمير الواحد في الاجتماع القليل العارض في السفر، تنبيها على سائر أنواع الاجتماع،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالواجب على المسلم أن يجتهد في ذلك بحسب وسعه، فمن ولي ولاية يقصد بها طاعة الله، وإقامة ما يمكنه من دينه، ومصالح المسلمين، وأقام فيها ما يمكنه من ترك المحرمات، لم يؤاخذ بما يعجز عنه، فإن تولية الأبرار خير للأمة من تولية الفجار. ومن كان عاجزا عن إقامة الدين بالسلطان والجهاد، ففعل ما يقدر عليه، من النصيحة بقلبه، والدعاء للأمة،ومحبة الخير،وفعل ما يقدرعليه من الخير،لم يكلف ما يعجز عنه،فإن قوام الدين الكتاب الهادي
حضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ نےاس نظریہ کی تائیدمیں مختلف مسالک وادوارکے
اکابرعلماء ومفتیان کے فتاویٰ بھی نقل فرمائے ہیں تفصیل کے لئے ان کی کتاب "ہندوستان اور
مسئلۂ امارت "کی طرف رجوع کیاجائے ۔
البتہ خاص ہندوستانی تناظر میں انگریزی تسلط کے بعدنصب امیر اورنظام قضاکے قیام کاپہلا فتوی حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے دیا،۱۲۳۹؁ھ مطابق ۱۸۲۳؁ء میں حضرت شاہ صاحبؒ نے ہندوستان کےدارالحرب ہونے کافتویٰ جاری کیا ،اور اپنے فتاویٰ میں اس بات پر زور دیاکہ مسلمان خود اپناامیر منتخب کریں ،جس کی ماتحتی میں وہ تمام ملی اور اجتماعی امور انجام دئیے جائیں جوامیروقاضی کے بغیرروبہ عمل نہیں آسکتے ہیں:
"اقامت جمعہ در دارالحرب اگرازطرف کفاروالی مسلمان درمکانے
منصوب باشدباذن اودرست است، والا مسلماناں رابایدکہ یک کس را
کہ امین ومتدین باشدرئیس قراردہندکہ باجازت و حضور اواقامت جمعہ
واعیادوانکاح من لاولی من الصغار،وحفظ مال غائب ،وایتام وقسمت ترکات
متنازع فیہاعلیٰ حسب السہام می نمودہ باشد،بےآنکہ درامورملکی تصرف
کندومداخلت نماید ۔
ترجمہ :اگردارالحرب میں کفارکی طرف سے کسی مقام پرمسلمان والی مقرر ہوتواس کی اجازت سے جمعہ قائم کرنادرست ہے ورنہ مسلمانوں کوچاہئےکہ کسی معتبراوردیندارشخص کواپناامیرمنتخب کرلیں ،اوراس کے حکم سےجن نابالغوں کاکوئی ولی نہ ہوان کانکاح کریں ، اورغائب و یتیم کے اموال کی حفاظت کی جائے،اور حصۂ شرعی کے مطابق ان ترکات کی تقسیم
کی جائے جن میں نزاع ہو،البتہ یہ امیر ملکی معاملات میں مداخلت سےگریز کرے۔
ملکی معاملات میں مداخلت سے گریزکی تلقین بطور مصلحت کے ہے اس لئے کہ اس دور میں انگریزی استبدادکے بالمقابل یہ ایک پرخطرچیزتھی ،لیکن اگرجمہوری حکومتوں میں اظہاررائےکی آزادی میسرہواورامیرکی مداخلت سےمسلمانوں کانفع متوقع ہوتو ملکی اورسیاسی معاملات میں مداخلت میں کچھ حرج نہیں ۔
حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ کے بعد حضرت مولاناعبدالحی فرنگی محلی ؒ نے بھی اسی مضمون کافتویٰ جاری کیاتھا ۔
اس تفصیل سے ظاہر ہوتاہے کہ ہندوستان کےاضطراری حالات میں امارت شرعیہ کی فکرکوئی بدعت یاحضرت مولاناسجادؒ کی ایجادبندہ نہیں تھی بلکہ یہ شریعت اسلامیہ کی فقہ الاقلیات کا ایک حصہ ہے،جس سےامت مسلمہ نے ہمیشہ ایسے وقت میں استفادہ کیاہے جب وہ سیاسی اعتبارسےادباروتنزل کی شکار ہوئی،اور یہ تنہاہندوستان کاقصہ نہیں بلکہ تاریخ اسلامی میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں:
اسلامی تاریخ میں مغلوبانہ امارت کےنظائر
علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ نے اپنے خطبۂ صدارت اجلاس ہفتم جمعیۃ علماء ہندکلکتہ میں کتب تاریخ سے ایسی کئی مثالیں پیش کی ہیں ،مثلاً:
٭سلیمان تاجر نے اپنے تیسری صدی ہجری کے سفرنامہ میں غیراسلامی ملک چین کے شہر "خانقو”کاحال لکھاہے جہاں مسلمان تاجروں (جوزیادہ ترعراق سے آئے تھے )کی نو آبادی تھی ،وہاں شاہ چین نےان کی عیداور جمعہ نیزفصل احکام کے لئے انہی میں سے ایک شخص کو امیراورفیصل مقررکردیاتھا،اورکوئی مسلمان تاجر اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا تھا:
"ان بخانقووھومجمع التجاررجلاًمسلماًیولیہ صاحب الصین الحکم بین المسلمین الذین یقصدون الیٰ تلک الناحیۃ یتوخی ملک الصین ذلک واذاکان فی العیدصلی بالمسلمین وخطب ودعالسلطان المسلمین وان التجارالعراقیین لاینکرون من ولایتہ شیئافی احکام وبمافی کتاب اللہ عزوجل واحکام الاسلام
ترجمہ :شہرخانقو(چین)میں مسلمان تاجروں کاایک مرکزہے،ایک مسلمان ہے جس کوشاہ چین ان مسلمانوں کے درمیان فصل احکام کےلئےمقررکرتاہے،جواس ملک میں جاتے ہیں،شاہ چین اس چیزکوپسند کرتاہےاورعیدجب آتی ہےتووالی مسلمانوں کی نمازکی امامت کرتا ہے،اور خطبہ پڑھتاہے،اوربادشاہ اسلام کےلئےدعاکرتاہے،اورعراقی تاجر مسلم والی کی ولایت کےکسی حکم اورعمل بالحق کاانکارنہیں کرتے اورنہ ان حکموں سے سرتابی کرتے ہیں جو اس والی نے کتاب الٰہی اوراحکام اسلام کے موافق جاری کیاہو”
قدیم فارسی میں والی وقاضی کےلئےہنرمند(یاہنرمن )کی اصطلاح
٭عراقیوں کی فارسی زبان میں والی اورقاضی کوہنرمندکہاجاتاتھاجوعام استعمال میں ہنرمن بولاجاتاتھا،خودہندوستان کے مختلف ساحلی شہروں میں جہاں جہاں مسلمان آبادیاں تھیں ،غیراسلامی سلطنتوں میں اسلامی تنظیم وقضاکے ذمہ دارافرادکو ہنرمند کہاجاتاتھا
٭چوتھی صدی ہجری کےجہازراں بزرگ ابن شہریارنےاپنےسفرنامہ "عجائب الہند”میں صیمور(مدراس کےقریب )میں عباس بن ہامان سیرافی ہنرمندکاذکرکیاہے:
انہ کان بصیموررجل من اھل سیراف یقال لہ العباس ابن ھامان وکان ھنر من للمسلمین بصیمورذووجہ البلدوالمنضوی الیہ من المسلمین(ص ۴۲)
ترجمہ :صیمورمیں سیراف کاایک شخص تھا،جس کوعباس بن ہامان کہاجاتاتھا، اورجو وہاں کےمسلمانوں کاہنرمندتھا،اورشہرکاذی وجاہت شخص اوروہاں کےپناہ گزیں مسلمانوں کا مرکزتھا۔
٭اسی مقام پر۳۰۴؁ھ میں مشہورسیاح مسعودی بھی پہونچاتھا،اس نے اس دورکی صورت حال بیان کرتے ہوئے تحریرکیا:
علی الھنرمنۃ یومئذابوسعیدمعروف ابن زکریاوالھنرمنۃ یرادبہ رئیس المسلمین وذلک ان الملک یملک علی المسلمین رجلاًمن رؤسائھم تکون احکامھم مصروفۃ الیہ
٭چھٹی صدی ہجری میں جب کافرتاتاریوں نے ایران وخراسان وترکستان پر قبضہ کرلیا ،تووہاں کےعلماء وقت نےاپنے لئےمسلم والی کامطالبہ پیش کیاتھا،جو ہماری کتب فتاویٰ کا ایک باب ہے۔
٭خودہندوستان میں سلاطین کے عہدمیں صدرجہاں کےنام سے اس قسم کاعہدہ قائم تھا،جس کےماتحت تمام قضاۃ ومحتسب ائمہ ہوتے تھے،تاتاری کافروں کےاستیلاء کے زمانہ میں اس عہدکےعلماء نے اسی بناپرمسلمان والی کےپہلوپرزوردیاتھا۔
٭بولشویک روس کےمسلمان قازان کی مجلس دینیہ اسلامیہ کےماتحت زندگی بسر کرتے ہیں۔
٭فلپائن ،اسٹریا،ہنگری،بلگیریا،ازیکوسلیویا،اوریونان میں مسلمان بے حداقلیت
میں ہیں،تاہم ان کےتمام قومی ومذہبی صیغےمفتی اعظم کےماتحت منظم اورباقاعدہ ہیں۔
٭دسمبر (۱۹۲۶؁ء)کےاخیرہفتہ کی رپورٹ ہےکہ پولینڈ کےتمام مسلمانوں نے جمع ہوکر تریپن(۵۳)ارکان کی ایک مجلس ترتیب دی ہے،اور اس میں چندکارکن منتخب کئےگئے ہیں،اور ایک صدرکاانتخاب کیاگیاہے،تاکہ وہ اس وحدت تنظیمی کےسایہ میں اپنی اسلامی زندگی کوقائم رکھ سکیں ۔
٭مولانامسعودعالم ندویؒ لکھتے ہیں:
"فلسطین میں”مسلم سپریم کونسل”(المجلس الاسلامی الاعلیٰ)اسی قسم کی
دوسری شکل تھی ،چندصدی پہلےصقلیہ میں اورآج کل یوگوسلاویہ میں
اس قسم کےاسلامی نظام کےاداروں کاکامیاب تجربہ ہوچکاہےاورہورہا
ہے”
امارت شرعیہ کاتصوراسلامی تاریخ میں نیانہیں
مذکورہ مثالیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ کسی غیراسلامی ملک میں امارت شرعیہ کا تصورکاکوئی نیانہیں ہے کہ اس کوبدعت سئیہ قراردے کرمستردکردیا جائے۔
ڈاکٹرسیدمحمودصاحب ایم اے،پی ایچ ڈی سابق وزیرتعلیم لکھتے ہیں:
"وہ(مولاناسجادؒ)مسلمانوں کےلئے ایک الگ نظام کےحامی تھے،ہندوستان
کامستقبل ان کی آنکھوں کےسامنے روشن تھا،وہ اندھیرےمیں ہاتھ پاؤں
مارنےکےعادی نہیں تھے دل کےساتھ ان کادماغ بھی روشن تھا،البانیہ،
پولینڈ، یوگوسلاویہ کی مثالیں ان کےسامنے تھیں وہ ڈرتے تھےکہ آگے
چل کریہ ملک بھی کہیں مسلمانوں کےلئےایک بڑاراجپوتانہ نہ بن جائے
،اس لئے وہ ہندوستان کی سب سےبڑی قومی سیاسی جماعت کاساتھ دیکر
اس سےاپنی انفرادیت منواناچاہتےتھے،یہی ان کامقصدتھا،اوراسی کے
لئےوہ پچیس سال سےکچھ اوپرسرگرم کاررہے،امارت شرعیہ،جمعیۃ علماء
اوردوسری تحریکیں سب اسی مقصدکےحصول کاذریعہ تھیں” ۔
شریعت میں قیام امارت کےلئےقوت قاہرہ شرط نہیں ہے
نیزان فقہی وتاریخی نظائرسےیہ بھی ثابت ہوتاہےکہ غیراسلامی ملک میں جو امارت شرعی یاولایت دینی قائم ہوتی ہے اس میں قوت قاہرہ شرط نہیں ہے،اس لئے کہ مقہوریت کے ساتھ قاہریت جمع نہیں ہوسکتی ،جب مسلمان غیراسلامی اقتدارمیں خود محکوم و مغلوب ہیں توان سے غالبیت کامطالبہ کرناایک بے معنیٰ سی بات ہے ،اسلام کامقصد اس امارت سے جبر وقہر نہیں بلکہ مسلمانوں کی تنظیم ہے،یعنی مسلمان جہاں بھی رہیں اجتماعیت کےساتھ مربوط رہیں اور یہ تنظیمیت مسلم اقتدارمیں قوت وقہر سے حاصل ہوتی ہےجبکہ غیراسلامی نظام میں دینی اوراخلاقی بنیادوں پر ،اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس کے اصول ونظریات بھی آفاقی ہیں ،روئے زمین کے ہر حصہ میں یہ قابل عمل ہیں ،البتہ جہاں جوصورت ممکن ہوگی اس کواختیار کرنالازم ہوگا،امارت وولایت کااصل مقصودتنظیم ہے،اگر قوت وقہر میسر نہ ہوتو اس کےانتظارمیں گوہرمقصودضائع نہیں کیاجائےگا،بلکہ وحدت واجتماعیت کےلئے دوسری
ضروری بنیادیں تلاش کی جائیں گی ۔
اہلیت امارت کےلئےمطلوبہ معیار
اس باب میں قرآن وحدیث کے مطالعہ سےاسلام کامزاج یہ معلوم ہوتاہےکہ ولایت کےلئےاصل معیارقوت وامانت ہے،جیساکہ آیات ذیل سے مستفادہوتا ہے:
٭إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ۔
٭إنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
٭إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ، ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ، مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
قوت سے مرادقوت فیصلہ،انسان کےپاس علم اورقوت ارادی دونوں موجودہوں تو قوت فیصلہ بھی حاصل ہوجاتی ہے۔
اورامانت سے مرادخوف خداوندی اوراحساس ذمہ داری ہے۔
یہ دونوں باتیں کسی شخص میں موجودہوں تواس کوامارت کااہل قراردیاجاسکتا ہے، علامہ ابن تیمیہ ؒ نے انہی آیات کریمہ کے تناظر میں ولایت کےلئے مذکورہ بالادونوں چیزوں کو رکن قراردیاہے ،اوران کی یہی تشریح کی ہے جواوپرذکر کی گئی :
فإن الولايةلهاركنان:القوة والأمانة.۔۔۔۔والقوة في كل ولاية بحسبها،
۔۔۔۔والقوة في الحكم بين الناس،ترجع إلى العلم بالعدل الذي دل عليه الكتاب والسنة، وإلى القدرة على تنفيذالأحكام۔۔۔۔والأمانة ترجع إلى خشية الله،۔۔۔۔ اجتماع القوةوالأمانةفي الناس قليل
مشہورحنفی فقیہ علامہ ابوالشکورالسالمی ؒنے بھی تصریح کی ہے کہ اگرامام کے پاس قہر وغلبہ باقی نہ رہے تواس کی امامت ساقط نہیں ہوتی،اس لئے کہ ابتدائے اسلام میں رسول اللہ ﷺکوبھی قہروغلبہ حاصل نہیں تھا،اسی طرح حضرت عثمان غنی ؓبھی آخری دورمیں مغلوب ہوگئے تھے لیکن ان کی امامت زائل نہیں ہوئی تھی،نیزحضرت علی ؓکو بھی تمام مسلمانوں پر قوت و غلبہ حاصل نہیں تھا،اس سے ظاہر ہوتاہےکہ قوت وغلبہ ولایت کےلئےلازمہ ٔ ذات
نہیں ہے:
قال بعض الناس بان الامام اذالم یکن مطاعاًفانہ لایکون اماماًلانہ اذالم یکن لہ القہروالغلبۃ لایکون اماماًلیس کذلک لان طاعۃ الامام فرض علی الناس فلولم یطیعواالامام فالعصیان حصل منھم وعصیانھم لایضربالامامۃ ثم ان لم یکن القھرفذلک یکون من تمردالناس وتمردھم لایعزلہ عن الامامۃ الاتری ان النبیﷺ ما کان مطاعاًفی اول الاسلام وکان لایمکنہ القھرعلیٰ اعدائہ من طریق العادۃ والکفرۃ قدتمردواعن امدادہ ونصرۃ دینہ وقدکان ھذا لایضر ولایعزلہ عن النبوۃ وکذلک الامامۃ لان الامام خلیفۃ النبی ﷺ لامحالۃ وکذلک علی ؓماکان مطاعاًمن جمیع المسلمین ومع ذلک ما صارمعزولاً
حدیث میں امام ضعیف سےمراد
بعض لوگوں کواس روایت سے اشتباہ ہواجو بعض کتب حدیث میں آئی ہےکہ :
الإمام الضعيف ملعون(الطبرانى عن ابن عمر)أخرجه الطبرانى كما فى مجمع الزوائد(5/209)،وقال الهيثمى : سقط من إسناده رجل بين عبد الكريم بن الحارث وبين ابن عمر،وفيه جماعة لم أعرفهم.وأخرجه أيضًا:الديلمى (1/121،رقم 410)
یعنی کمزورامام ملعون ہے۔
٭لیکن اولاًیہ روایت محدثین کےنزدیک سندکےلحاظ سےناقابل اعتبارہے،
٭ثانیاًیہاں امام ضعیف سےقوت وغلبہ سےمحروم امام نہیں،بلکہ صلاحیت تنفیذ سے محروم شخص مرادہے،امام سیوطی ؒ نے جامع صغیرمیں اس کی یہی تشریح کی ہے:
الإمام الضعيف ملعون[هو الضعيف عن إقامة الأحكام الشرعية، فعليه التخلي ( عن الإمامة ) ] نیزامام شعرانیؒ نے بھی "کشف الغمۃ "میں یہی مطلب بیان کیاہے:
قال ابن عباس ؓکان رسول اللہ ﷺیقول”الامام الضعیف
ملعون وھوالذی یضعف من تنفیذ الامورالشرعیۃ واقامتھا
قوت تنفیذکامطلب
تنفیذکامفہوم صحیح شرعی بنیادوں پرکیاگیافیصلہ ہے،جس میں قطعیت کے ساتھ حکم صادرکیاگیاہو،ضروری نہیں کہ طاقت کے زورپر اس کو جاری بھی کیاجائے،فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے،علامہ شامیؒ تحریرفرماتے ہیں:
مطلب في التنفيذ وأماالتنفيذفالأصل فيه أن يكون حكما إذ القضاء قوله أنفذت عليك القضاءقالواوإذارفع إليه قضاءقاض أمضاه بشروطه وهذا هوالتنفيذالشرعي ومعنى رفع اليدحصلت عنده فيه خصومة شرعية
والمرادمن النفاذالصحۃ ومن عدمہ عدمھالاالصحۃ مع التوقف
عقودالدریۃ میں ہے:
التنفیذاحکام الحکم الصادرمن الحاکم وتقریرہ علیٰ موجب ماحکم بہ وبہ یکون الحکم متفقاعلیہ
٭نیزتمام کتب تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت علی ؒاپنے عہدخلافت میں حضرت عثمانؓ کاقصاص لینے پرقادرنہ تھے،اورنہ اپنافرمان تمام مسلمانوں پربزور نافذکرسکتے تھے،کئی اہم لوگوں نے علانیہ آپ سے بیعت نہیں کی تھی ،اس کے باوجودآپ خلیفۂ راشد تھے، بلکہ
انہی کمزورحالات میں آپ مسندخلافت پرمتمکن ہوئے،علامہ ابن تیمیہ ؒ رقمطراز ہیں:
فالخلافة التامة التي أجمع عليها المسلمون وقوتل بها الكافرون وظهر بهاالدين كانت خلافةأبي بكروعمروعثمان وخلافةعلي اختلف فيها أهل القبلة ولم يكن فيها زيادة قوة للمسلمين ولا قهر ونقص للكاقرين ولكن هذا لا يقدح في أن علياكان خليفة راشدامهدياولكن لم يتمكن كما تمكن غيره ولا أطاعته الأمة كما أطاعت غيره فلم يحصل في زمنه من الخلافة التامة العامة ما حصل في زمن الثلاثة مع أنه من الخلفاءالراشدين المهديين
وأما علي فمن حين تولى تخلف عن بيعته قريب من نصف المسلمين من السابقين الأولين من المهاجرين والأنصار وغيرهم ممن قعد عنه فلم يقاتل معه ولا قاتله مثل أسامة بن زيد وابن عمر ومحمد بن مسلمة ومنهم من قاتله ثم كثيرمن الذين بايعوه رجعواعنه منهم من كفره واستحل دمه ومنهم من ذهب إلى معاويةكعقيل أخيةوأمثاله
توجب امامت عظمیٰ میں اس کی گنجائش ہےتوامارت شرعیہ میں کیاکلام ہوسکتاہے،
٭حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ ارشادفرماتےہیں:
"خلیفہ عبدالمجید توبالکل مقہوریت کی حالت میں خلیفہ بنائے گئے،اورخلیفۂ
سابق نے ان کوقائم مقام بھی نہیں بنایا،پھربھی سب لوگوں نے ان کو خلیفہ
تسلیم کیا،علماء اسلام کی رائے تویہ ہےکہ عدم سے وجودبہرحال بہترہے،اور
سقوط وجوب کےلئےکافی ہے،جیساکہ علامہ تفتازانی کےکلام سےسمجھاجاتا
ہے،کہ خلیفۂ غیرمطاع کاوجودسقوط وجوب کے لئے کافی ہے” ۔
مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ نےبھی لکھاہےکہ :
"پس مسلمانوں کاوالی دارالاسلام میں ہویادارالکفرمیں استطاعت سے باہر
کہیں بھی اس کی ولایت کےلئےمادی طاقت شرط اورلازم نہیں قراردی جا
سکتی ہےبلکہ ہرجگہ استطاعت سامنے ہوگی،اوروہی مناط کارہوگی ”
امارت شرعیہ کےلئےبیعت کی ضرورت
بعض حضرات کوایک شبہ یہ ہواکہ اگریہ امامت کبریٰ نہیں ہےبلکہ محض ولایت وگورنری یاقضاکے ہم پلہ ہےتوپھراس کے لئے بیعت کی کیاضرورت ہے؟ بیعت توامامت کبریٰ کے لئے لی جاتی ہے۔
اس کاجواب یہ ہے بیعت دراصل معاہدہ کانام ہے،حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں :
والمبايعة عبارة عن المعاهدة
اورمعاہدہ کےبغیرکوئی چیز لازم نہیں ہوتی،خلیفہ اورامام المسلمین سے قوم بیعت کرتی ہے توامام شریعت پرعمل کرنے کاعہدکرتاہےاورقوم اس کی اطاعت کا،اوراسی معاہدہ کےنتیجہ میں امیر شرعی احکام کاپابندہوتاہےاورقوم پراس کی اطاعت لازم ہوتی ہے،اگریہ معاہدہ وجودمیں نہ آئےتولزوم بھی پیدانہیں ہوسکتا،توجس صورت میں مملکت میں امیر المؤمنین موجودہواوروالی وقاضی کاتقرراس کی جانب سے ہوتوظاہرہے کہ والی وقاضی سے جداگانہ بیعت کی ضرورت نہیں ہے،اس لئے کہ جملہ معروفات کےلئےامیرالمؤمنین سےپہلے بیعت ہوچکی ہےاس لئے اس کے جملہ تقررات کی تعمیل واطاعت بھی واجب ہوگی ،لیکن جہاں امیرالمؤمنین موجودنہ ہو،وہاں قاضی ووالی کی اطاعت کے لئے مستقل معاہدہ وبیعت کی ضرورت ہے،اس لئے کہ بیعت پہلے سے موجودنہیں ہے ،اوریہی وہ صورت ہےجس کے بارے میں علماء نے لکھاہے کہ تراضی مسلمین (جس کااظہاربیعت سے ہوگا)سے قاضی ووالی کاتقرر درست ہے،اس مضمون کی کئی عبارتیں پہلے بھی آچکی ہے،ایک عبارت شرح مواقف سے یہاں پیش کی جاتی ہے ،جو اسلامی عقائد کے موضوع پرمستندکتاب ہے۔
علماء متقدمین میں قاضی عبدالرحمن بن احمد الایجی ؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب "المواقف "میں تحریر فرماتے ہیں :
"لانسلم عدم انعقادالقضاء بالبیعۃ للخلاف فیہ،وان سلم فذلک عند وجودالامام لامکان الرجوع الیہ فی ھذاالمھم واما عند عدمہ فلابد من القول بانعقادہ بالبیعۃ تحصیلاً للمصالح المنوطۃ بہ ودرءاً للمفاسد المتوقعۃ دونہ ای دون القضاء ۔
اس طرح کی تصریحات فقہاء حنابلہ اور شافعیہ کے یہاں بھی موجود ہیں ۔
فقہاء حنفیہ میں علامہ ابن ہمام ؒ تحریرفرماتے ہیں :
یجب علیہم ان یتفقواعلیٰ واحدمنہم یجعلونہ والیافیولی قاضیاً اویکون ھوالذی یقضی بینھم
اسی حقیقت کوحضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ نےاس طرح بیان فرمایا:
"ظاہرہےکہ ازخودکوئی قاضی بن بیٹھےاس سےکوئی قاضی نہیں ہوسکتا،
اور سلطان اوروالی سے تقررہوانہیں ،پھرسوااس کےکوئی صورت ہی
نہیں کہ مقامی ارباب حل وعقدکسی شخص کوباتفاق رائے یابکثرت آراء
قاضی بنالیں اوراس کے قضایاکے تسلیم کاعہدکرلیں اوریہی بیعت ہے
اوراس صورت میں لزوم بیعت ظاہرہے، کیونکہ شرعاًثبوت ولایت کی
تین ہی صورتیں ہیں(اول) تسلط ،جس کو شریعت مجبوراً جائزکہتی
ہے،(دوم)تقررازجانب والی اعظم (سوم)بیعت ارباب حل وعقد،
قضاۃ کی بیعت کوجس صورت میں علماء نے لکھاہے لزوم ہی پرمحمول
ہے،یعنی امام اعظم کی طرف سے تقررنہ ہونے کی صورت میں۔اور
جن لوگوں نےجوازوعدم جوازکو لکھا ہے وہ دیگرصورت پرمحمول ہے
یعنی جب کہ امام اعظم کی طرف سے تقرر ہواہو ۔
دارالاستیلاء میں امارت کبریٰ کےبارےمیں مولاناسجادؒ کاموقف
بعض بزرگوں کوامارت شرعیہ کے معاملے میں اس لئے تأمل تھاکہ انگریزوں نے اسلامی ہندوستان پرقبضہ کرلیاہے،فی الوقت اس استیلاء کاخاتمہ کرنےکی ضرورت ہے،امامت کبریٰ کےبجائے چھوٹی امارت شرعیہ کے قیام کامطلب تو یہ ہوگاہم موجودہ نظام حکومت پر راضی ہیں ،اورہم اس جنگ کوموقوف کردیں جس کو ڈیڑھ سوسال سے ہمارےاسلاف نے اس ملک کوآزادکرانے کے لئے شروع کررکھاہے،مثلاًحضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ نے امیرشریعت اول کواپنے مکتوب میں تحریرفرمایا:
"فقیرتواس کودارالاستیلاء سمجھتاہے،اوردارالاستیلاء کےازالہ کولازم جانتاہے ”
یہ اعتراض مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھایاگیاتھا،اورسنجیدہ وجارحانہ دونوں لب ولہجہ میں اٹھایاگیا،لیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ اعتراض مولاناسجادؒکے نظریات سے بے خبری پر مبنی تھا،مولاناؒسے قریب رہنے والےلوگ پورے یقین کےساتھ جانتے تھےاور انہوں نے اس کی شہادت دی ہے(جیساکہ آگے آرہاہے) کہ مولاناؒبھی بنیادی طورپرحکومت الٰہی کے قیام کے حامی تھے،اور ان کااصل نصب العین بھی یہی تھا،جیساکہ ان کی تحریک خلافت وغیرہ مساعی سے بھی ظاہر ہوتاہے،لیکن جب تک اس کوشش میں کامیابی نہیں ملتی ،محض انتظار فردا میں انتشارو پراگندگی کی زندگی گذارناوہ مناسب نہیں سمجھتے تھے،اس لئےکہ اس سے مسلمانوں کی صلاحیتیں اور بھی زیادہ کمزورہوتی جائیں گی ،علاوہ ایک شرعی فریضہ کے ترک کا گناہ بھی لازم آئےگا ،ان کی مضبوط رائے تھی کہ امارت شرعیہ کے قیام سے مسلمانوں کی اجتماعی طاقت مضبوط ہوگی ،اورحکومت الٰہیہ کانصب العین حاصل کرنے میں اس سے مدد ملے گی ،اور اگر خدانخواستہ اس میں کامیابی نہیں ملتی ہے اور ہندومسلم اتحادکےنتیجے میں کوئی جمہوری حکومت وجودمیں آتی ہےجیساکہ اس کے آثارنظرآرہےتھے ،جب بھی امارت کی اجتماعی طاقت مسلمانوں کومستحکم اورباوقارزندگی گذارنے میں معاون ثابت ہوگی ،مولاناؒنے
اپنے خطبۂ صدارت مرادآباد میں اپنایہ درداس طرح پیش فرمایاتھا:
"مسلمانوں کے لئےجس چیزکی آج ضرورت ہےاورحصول سوراج کے بعد
بھی ضرورت ہوگی بلکہ ہندوستان کی آزادی کی منزل کوقریب کرنے کےلئے
جوچیزسب سے زائدمفیدہوگی یہی نظام اسلام یعنی امارت شرعیہ ہے”
مولاناؒکواپنی اس رائے پرایساشرح صدرتھاکہ جیساسامنےنظرآرہےدن کے اجالےپرانسان کویقین ہوتا ہے،مولاناؒنےخودفرمایا:
"ہمارے بہت سےاحباب ممکن ہےکہ میری صاف گوئی سے خفاہوئے
ہوں،مگرمیں کیاکروں کہ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل سےاس مسئلہ کےلئے
میرے دل میں انشراح پیداکرکےاس حقیقت کوویساہی روشن فرمادیاہے
جس طرح کہ سورج کی روشنی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: