اہم خبریں

نظریۂجمہوریت

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

نظریۂجمہوریت
جمہوریت ایک ناقص نظام حکومت
حضرت مولاناؒکےنزدیک اسلامی حکومت ایک کامل نظام حکومت اورہرزمان ومکان میں انسانیت کےلئےمفیدہے،اس کےمقابلےمیں مغربی جمہوریت ایک ناقص اور ناکارہ نظام حکومت ہے،جس میں اجتماعی مسائل ومفادات کے حل کی پوری صلاحیت موجود نہیں ہے، اس لئےکہ انسان کابنایا ہوانظام قانون ایک توناقص قانون ہے،دوسرےتمام انسانوں کااس سے اتفاق ممکن نہیں ،بلکہ اکثریت کااتفاق بھی مشکل ہے،توجس قانون کے مخالفین کی بڑی تعداد معاشرہ میں موجودہواس کوکلیتاًنافذکرناممکن نہیں ہے،حضرت مولاناؒ جمہوریت کوعصرحاضر کاطاعون قراردیتے تھے۔بقول علامہ اقبال ؔ:
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کےپردےمیں نہیں غیرازنوائےقیصری
دیواستبداداورجمہوری قیاس پائےکوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہےنیلم پری
مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طب مغرب میں مزےمیٹھےاثر خواب آوری
اس سراب رنگ وبوکوگلستاں سمجھاہےتو
آہ اے ناداں قفس کوآشیاں سمجھاہےتو
جمہوریت کواسلامی شورائیت سےکوئی نسبت نہیں
حضرت مولاناؒ کواس بات سے بھی سخت اختلاف تھاکہ مروجہ جمہوریت کواسلامی شورائیت کاعکس قراردیاجائے،حالانکہ مروجہ جمہوریت اسلامی شوریٰ کےمقابلےمیں ایک حد درجہ کمترنظام ہے۔آپ کےخطبۂ صدارت مرادآبادمیں ہے:
"دوسرانہایت سخت مرض جمہوریت فاسدہ کاطاعون ہے،اس کامنشأبھی
وہی ہےکہ اسلامی جمہوریت اوراسلامی شوریٰ کومغربی ڈھانچہ میں خواہ مخواہ
ڈھالاگیااوریقین کیاگیاکہ اسلامی جمہوریت اوراسلامی شوریٰ کی وہی صورت
وشکل ہےجس کومغربی اقوام میں سب سے پہلےفرانسیسیوں نےاختیارکیا
اس کےبعددیگراقوام اس کےنقش قدم پرچلنےکی کوشش کررہی ہیں۔
حالانکہ موجودہ جمہوریت کےتخیل کواسلام سےکوئی نسبت نہیں ہےکیونکہ
موجودہ اورمروجہ جمہوریت ،اسلامی جمہوریت اورشوریٰ سےنہایت کمتراور
ناقص ہے،تم شوریٰ کوچند افرادمیں محدودکردیتےہو، بہت ممکن ہےکہ
بہت سے ایسے افراد ملک کےاندرہوں جوعقل وفہم وفراست کےاعتبار
سےان افرادسےزیادہ ہوں جوتمہارےمنتخب کردہ ہیں۔۔۔۔
بخلاف اسلامی جمہوریت کےکہ اصحاب شوریٰ معین اورمحدودنہیں ہیں بلکہ
ملک کا ہراہل الرائےوالعلم صاحب شوریٰ ہے،اورہرایک کےمشورہ کے
لئےدروازہ کھلاہواہے”
جمہوریت ہمیشہ اکثریت کی نمائندہ نہیں ہوتی
جمہوریت کوتکثیری نظام کہاجاتاہے،یعنی اکثریت اقلیت پرحکومت کرتی ہے، لیکن حضرت مولاناؒکےنزدیک یہ محض فرضی تخیل ہے،مولاناؒنےاپنی کتاب "حکومت الٰہی "میں اس پرتفصیلی روشنی ڈالی ہے،بطورنمونہ اس کایہ اقتباس ملاحظہ کریں جس سےجمہوریت کی مفروضہ اکثریت کاپول کھل جاتاہے:
"جس حلقے سےتین چارامیدوارکھڑے ہوتے ہیں،ان امیدواروں میں
سےجس شخص کوسب سے زیادہ رائیں ملتی ہیں تم اس کواس حلقہ کاجمہوری
نمائندہ سمجھتے ہو،اورتمہارےوضعی قوانین کےماتحت اسمبلی میں اس کی
رائےگویااس حلقہ کےتمام لوگوں کی رائے سمجھی جاتی ہے،مگرکیاعقل
وبصیرت کےنزدیک یہ نتائج اور ثمرات کسی طرح درست ہیں؟ ہرگز
نہیں اس لئےکہ تمہارےاس جمہوری اصول کی بناپرایک حلقۂ انتخاب
سےاگرایک شخص کوایک چوتھائی رائےدینےوالوں نےاس کےخلاف
رائےدی ہو،جب بھی جمہوری اسمبلی کا نمائندہ منتخب ہوجائےگا،اور
ایسے شخص کوبھی تم اس حلقہ کانمائندہ کہتے ہو باوجودیکہ اکثریت نے
اس کےمخالف رائےدی ہےاوراس لئےاس کونمائندہ نہ ہوناچاہئےتھا
،مثلاًایک حلقہ میں چارہزار(۴۰۰۰)رائےدہندے بالغ ہیں،اور چار
امیدوارکھڑےہوئے،تین کو۹۹۹ رائیں ملیں اورایک کو ۱۰۰۳۔تم
اس آخری شخص کواس حلقہ کی جمہوریت کانمائندہ کہوگےاوراس شخص
کی رائے کوپورے حلقہ کی رائےقراردوگے؟مگرکیاسچ مچ اس حلقہ کی
رائے دینےوالوں کی اکثریت کااعتماد اس کوحاصل ہوگیا ہے ؟ ہرگز
نہیں،بلکہ اصل حقیقت یہ ہےکہ وہ تمام لوگ جنہوں نےدوسرے
امیدواروں کے حق میں اپنی رائےاستعمال کی ہے،ان کی رائےاس
کامیاب امیدوار کےخلاف ہے،اورجب خلاف ہےتویہ کون سی عقل
کی بات ہوئی،کہ جس شخص کےخلاف ۲۹۹۷رائیں ہوں اورصرف
۱۰۰۳رائیں موافق ہوں توتم اس کونمائندہ تسلیم کرلیتے ہو”
آج کےدورمیں جس طرح امیدواروں کی فوج ظفرموج میدان انتخاب میں نزول
کرتی ہے،اورتیس سےچالیس فی صدووٹ لےکرکوئی سیاسی پارٹی حکومت بناتی ہےاس کے
تناظرمیں مولاناؒ کایہ نظریہ کس قدرمبنی برحقیقت اوربالکل آج کانظریہ معلوم ہوتاہے۔
اس طرح حضرت مولانا ؒپہلے آدمی ہیں جنہوں نے جمہوری طریقہ انتخاب کی خامیوں کو اس قدر شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا ،آپ کے برسوں بعد یہی بات جے پرکاش نارائن نے لکھی ،اور راورکیلا اور جمشید پور کے مہیب فسادات کے بعد ڈاکٹر محمود صاحب نے بھی اس طرف اشارہ کیا اور لکھا کہ طریق انتخاب میں تبدیلی ہونی چاہیئے ۔
حضرت مولاناؒنےاس کتاب(حکومت الٰہی)میں اس موضوع کےمختلف پہلوؤں کااحاطہ کیاہے، انسانی نظام حکومت کی ناکامیوں کےاسباب ونتائج پربھی انتہائی بصیرت افروز گفتگوکی ہے، تفصیل کے لئےاصل کتاب کامطالعہ مفیدہوگا،حضرت مولاناؒکی یہ کتاب اسلام کےنظام حکومت اوراس کےفلسفہ وآثارپرایک شاہکارکتاب اورفکری وفنی لحاظ سےاپنے موضوع پرپہلی منفرد کوشش ہے،جوافسوس کہ مکمل نہ ہوسکی،لیکن پھر بھی اسلامی سیاسیات سےمتعلق بہت سےاصول وکلیات اس کتاب میں جمع ہوگئے ہیں،جن سے اہل علم اورمحققین
فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔اوران خطوط پرایک مستقل کتاب السیاسۃ کی تصنیف کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: