غزل

نظر جب سے ملی ہے زندگی اچھی نہیں لگتی.

*غزل*
ازقلم🖊*افتخار حسین احسن*
رابطہ📲6202288565

نظر جب سے ملی ہے زندگی اچھی نہیں لگتی.
تمہارے بن مرے گھر تیرگی اچھی نہیں لگتی.

تصور میں ترا نازک بدن جب دیکھتا ہوں میں.
قسم اللہ کی پھر چاندنی اچھی نہیں لگتی.

مرے شعرو سخن پر جو ہمیشہ داد دیتی تھی.
نہ جانے کیوں غزل اس کو مری اچھی نہیں لگتی.

وطن کی بیٹیوں کے سر سے آنچل کھیچنے والے.
ارے ظالم ترے لب پر ہنسی اچھی نہیں لگتی.

چلادو تیر دشمن پر اگر ہو جان کا خطرہ.
مقابل ہو عدو تو بزدلی اچھی نہیں لگتی.

خدا نے مال دولت سے نوازا ہے مجھے اب تو.
یہ سن کر کیا تمہیں میری خوشی اچھی نہیں لگتی.

سدا سرسبز رہنا زندگی میں ہے دعا میری.
تری آنکھوں میں اشکوں کی لڑی اچھی نہیں لگتی.

سجی ہے بزم *احسن *کی سبھی تشریف لائے ہیں.
فقط جان غزل تیری کمی اچھی نہیں لگتی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: