زبان و ادب

نظم حافظ قرآن

ڈاکٹرراحت ؔ مظاہری،قاسمی

اپنے بچّے کوقرآں پڑھالیجئے
اُس کوحاٖفظ ابھی سے بنالجئے

عُمرکچّی ہے اس کی ہے تازہ دماغ
چھوٹے بچّے کاہوتاہے اچھّادماغ

جانتے ہیں سبھی یہ پُرانااُصول
عمرجتنی پکتی ہے، ہے گھٹتادماغ

اپنے بچّے کوقرآں پڑھالیجئے
اُس کوحاٖفظ ابھی سے بنالجئے

پڑھ کے قرآن اس میں عمل آئے گا
وقت بِگڑا بھی اُس کاسنبھل جائے گا

خُلد میں لے کے چل اپنے ماں باپ کو
رِضواں ْقدموں میں اس کے مَچل جائے گا

اپنے بچّے کوقرآں پڑھالیجئے
اُس کوحاٖفظ ابھی سے بنالجئے

اس کے ماں باپ پرہوگا سونے کاتاج
چاند،سورج بھی دیویں گے جس کوخِراج

ختم تیراہوجنت میں قرآں جہاں
حُکم ہوگا”وہی تیری جنت ہے آج،،

اپنے بچّے کوقرآں پڑھالیجئے
اُس کوحاٖفظ ابھی سے بنالجئے

پڑھ کے قرآن آتاہے عقل وشعور
اس کودیکھے سے آتاہے آنکھوں میں نُور

فلسفہ ہرترقی کااس میں چھپا
مرگیازندہ ہی، اس سے بھاگاجودُر

اپنے بچّے کوقرآں پڑھالیجئے
اُس کوحاٖفظ ابھی سے بنالجئے

پڑھ کے قرآن آتاہے عقل وشعور
اس کودیکھے سے آتاہے آنکھوں میں نُور

فلسفہ ہرترقی کااس میں چھپا
مرگیازندہ ہی، اس سے بھاگاجودُر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: