غزل

نظم پیاز کی فضیلت میں

*ازقلم🖊افتخار حسین احسن*
*رابطہ📲6202288565*
کھانے میں مجھے روز ہی عادت ہے پیاز کی.
مجبور اس لیے ہوں کہ قلت ہے پیاز کی.

یوں تو گرانی بڑھ رہی ہے ملک میں مگر.
کچھ بات ہے ضرور جو شہرت ہے پیاز کی.

منڈی میں جب بھی جاتا ہوں سبزی خریدنے.
لگتا ہے کہ وہاں بھی حکومت ہے پیاز کی.

دیتا ہوں میں نکاح کا پیغام آپ کو.
کیجے قبول پاس میں دولت ہے پیاز کی.

برتن کا کھانا سارا اکیلے ہی کھاگیا.
پوچھا تو اس نے بولا عنایت ہے پیاز کی.

سرکار جس کے واسطے جاری کرے بیان.
بس میں نہیں کسی کے یہ طاقت ہے پیاز کی.

اس کے بغیر سبزیاں ساری بیکارہیں.
سنتے ہیں بے شمار فضیلت ہے پیاز کی.

حاضر ہے کھانا سامنے احسن جی کھائیے.
میں نے کہا اسے کے ضرورت ہے پیاز کی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: