اہم خبریں

نفع بخش بن جائیں تو آپ کو کوئی مٹا نہیں سکتا :مولانا محمود مدنی

نفع بخش بن جائیں تو آپ کو کوئی مٹا نہیں سکتا :مولانا محمود مدنی
بڑودا/ 7 مارچ 2021
جمعیت علمائے گجرات کے زیر اہتمام فتح گنج مسجد بڑودا میں منعقد یک روزہ تربیتی پروگرام سے علماء اور دانشوروں کو خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مسلمانوں کے سامنے دو پریشانیاں ہیں. ایک دینی اور دوسری اخروی. اخروی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کے لیے کام کرنا ضروری ہے جب کہ دنیوی پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ بھی خدمت خلق کا معاملہ کرنا ضروری ہے.
مولانا مدنی نے کہا کہ اگر آپ نفع بخش بنیں گے تو آپ کو کوئی مٹا نہیں سکتا. اور اگر نفع بخش نہیں بنیں گے تو آپ کو کوئی بچا نہیں سکتا.
مولانا مدنی نے تنظیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے مد مقابل نہیں ہے کیوں کہ جو بھی تنظیم نفع رسانی کا کام کر رہی ہے وہ دراصل جمعیت ہی کے اغراض و مقاصد کے کام کر رہی ہے. انھوں نے قوم کی ضروریات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے سب سے پہلے حالات کو سمجھنا ضروری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس درست معلومات ہوں.
بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولانا مدنی نے فدائے ملت کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اکثریت کا نہیں بلکہ اقلیتوں کی اکثریت کا ملک ہے اور حالات کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے.
مولانا مدنی نے مسلمانوں کے اقلیتی و اکثریتی اعداد و شمار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت ہمیشہ غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں رہائش پذیر مسلمانوں کے حالات کو دیکھ کر پالیسیاں بناتی ہے اور جو لوگ یا ادارہ صرف مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر رہا ہے تو جان لیجیے کہ وہ غلطی کر رہا ہے.
انھوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت ہماری کرم بھومی اور میدان عمل ہے. انھوں نے زبان کے حوالے سے کہا کہ عوام جو زبان سمجھتی ہے ہمیں اسی زبان میں تقریر کرنی چاہیے.
انھوں نے مزید کہا کہ مشکل سے 15 پرسنٹ غیر مسلم ہمارے دشمن ہیں. 5 پرسنٹ دوست ہیں اور 80 پرسنٹ خاموش ہیں. جمعیت کی کوشش رہی ہے کہ اس 80 پرسنٹ کو دوست بنایا جائے. اور ہمیں بھی یہی کوشش کرنی چاہیے کہ اس 80 پرسنٹ کو دوست بنالیں. اگر دوست نہیں بناسکتے تو کم از کم انھیں دشمن بننے نہ دیں.
اس سے پہلے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے جمعیت کے تنظیمی استحکام اور خدمت خلق کے موضوع پر خطاب کیا. انسان کے نافع بننے اور نقصان دہ بننے کی ضرورت و اہمیت پر مولانا ابراہیم صاحب تاراپوری،ہیٹ کرائم کے موضوع پر ایڈووکیٹ طاہر حکیم صاحب، جمعیت اوپن اسکول پر مفتی عمران صاحب، جمعیت کی تاریخ اور ملک کے موجودہ پس منظر میں جمعیت کی ضرورت اور افادیت پر مفتی محمد عفان صاحب منصور پوری، جمعیت علمائے ہند کی ویب سائٹ کے تعارف پر مولانا محمد یاسین جہازی اور حافظ عبد المجیب صاحب ،اصلاح معاشرہ کے عنوان پر مولانا شوکت ستپون صاحب، مکاتب پر مولانا ارشد میر صاحب، جمعیت یوتھ کلب پر مولانا عبد القدوس صاحب اور تحفظ مدارس پر مفتی احمد دیولا صاحب نے خطاب کیا.
شیخ رفیق صاحب کے کلمات صدارت اور دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی. تلاوت مفتی محمد خلیق صاحب نے کی جب کہ نعت حافظ عبد المجیب نے پڑھی. نظامت اور پروگرام کے بارے میں تمہیدی گفتگو پروفیسر نثار احمد انصاری صاحب نے کی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: