مضامین

نقوشِ حیات مفسر قرآن حضرت مولانا محمد ادریس نیموی

از: مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

صلاحیت، صلاحیت اور فیض رسانی یہ تینوں صفات فرد واحد میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اور جن اقل قلیل شخصیات میں یہ تینوں اوصاف جمع ہوجائیں ، وہ در حقیقت گوہر نایاب ہوتے ہیں.
بیگوسرائے کے ایسے ہی گوہر نایاب حضرت مولانا محمد ادریس نیموی قاسمی ہیں. یقیناً آپ ضلع بیگوسرائے کے لیے معمار علم ہیں. اور فیض رسانی میں سرخیل علماء اور استاذ الاساتذہ ہیں.
مولانا محمد ادریس صاحب دارالعلوم دیوبند کے قدیم فارغ التحصیل اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے بالکل ابتدائی زمانے کے شاگردوں میں سے تھے اور اپنے شیخ حضرت مدنی اور جمعیت علماء پر مر مٹ تھے. امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ کے بھی معتمد تھے.
آپ کی ولادت تخمیناً (1905ء) انیس سو پانچ عیسوی میں ہوئی اور وفات 17 ستمبر (1992ء) میں ہوئی…
متعدد مدارس اور مختلف علماء سے کسب فیض کرنے کے بعد آپ ایشیا کے عظیم مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے. اور دارالعلوم دیوبند کے دفتر سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق
1357 ھ مطابق 1934 ء میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی..دارالعلوم دیوبند میں آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی اور شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی سے کسب فیض کیا
فراغت کے بعد سب سے پہلے جامعہ محمدیہ عربیہ گوگری، کھگڑیا سے وابستہ ہوئے. اور اس ادارے میں ایک عرصہ تک خدمات تدریس انجام دیتے رہے … اس ادارے کو آپ کے زمانہ میں کافی ترقی حاصل ہوئی… آپ کی نسبت سے طلبہ کی کثیر تعداد جمع ہوگئی …
جامعہ محمدیہ میں پڑھنے والے شاگردوں میں ایک نمایاں نام مشہور محدث حضرت علامہ عثمان غنی علیہ الرحمہ (١٩٢٢ _٢٠١١) سابق شیخ الحدیث مظاہر علوم (وقف) سہارنپور اور مدبر عالم دین اور امارت شرعیہ کے رکنِ رکین حضرت مولانا محمد شرف الدین چلمل (والد گرامی مولانا عبد الباسط ندوی) کا بھی ہے.. بندہ خالد نیموی کے والد مولانا دلاور حسین مرحوم نے بھی اسی مدرسے میں حضرت مولانا ادریس نیموی سے تعلیم حاصل کی تھی…
جامعہ محمدیہ گوگری میں ایک عرصہ گذارنے کے بعد آپ کی شہرت دور دراز علاقوں تک پہنچ گئی. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علمی وروحانی مرکز جامعہ رحمانی مونگیر کے لیے حضرت سید شاہ مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ نے آپ کو طلب کیا… چنانچہ آپ خانقاہ رحمانی مونگیر تشریف لے گئے اور وہاں ایک عرصہ تک ترجمہ قرآن مجید، جلالین بیضاوی، شرح جامی اور الاتقان وغیرہ کتب تفسیر و متعلقات تفسیر اور نحو کی متعدد کتابوں کی تعلیم دیتے رہے… اسی وجہ سے علماء کے مابین مفسر قرآن یا شیخ التفسیر کے لقب سے مشہور ہوئے… بعد ازاں آپ نے حکیم سید سراج الدین صاحب(وطن اصلی قادر آباد، مطب مونگیری گنج بیگوسرائے. مسترشد حضرت شاہ بدر الدین مجیبی، امیر شریعت اول) اور حضرت مولانا سید محمد علی برونوی اور مولانا سید عبد الاحد قاسمی نوراللہ مرقدہ کے اصرار پر اور دوسرے بزرگوں کے مشورے سے مدرسہ بدرالاسلام کے نظام کو سنبھالا. یہ مدرسہ ایک زمانہ میں اپنے بانیوں کے زیر اثر تحریک آزادی اور مجاہدین آزادی کے مراکز میں سے ایک مرکز رہ چکا تھا. جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے اکابر سے اس ادارے کا خاص تعلق تھا. شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا علاقہ مشرق کا جب بھی سفر ہوتا تھا تو بیگوسرائے سے گزرتے ہوئے مدرسہ بدرالاسلام تشریف لاتے تھے..تشریف آوری کے تعلق سے "مکتوبات شیخ الاسلام” مرتبہ مولانا نجم الدین اصلاحی میں حضرت شیخ مدنی کا ایک خط بنام مولانا ادریس صاحب، موجود ہے .
مرشد دوران حضرت مولانا عبدالرشید صاحب رانی ساگری( خلیفہ قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری) اس ادارے کے تاحیات سرپرست رہے. انھیں کے نام سے اس ادارے کی ایک جائیداد بھی رجسٹرڈ ہے… جو حضرت مولانا ادریس صاحب کے عہد میں حاصل کی گئی تھی ..اور اس قبالہ میں بطور مہتمم مولانا محمد ادریس کا نام درج ہے.
اس ادارے کی نشاۃ ثانیہ کا کام اللہ تبارک وتعالی نے استاذ الاساتذہ، شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس نیموی رحمتہ اللہ علیہ سے لیا..مولانا ادریس نے اس ادارے کو اس وقت کے ہمدردان و مخلصین ڈاکٹر محی الدین اختر، نور محمد پیشکار، حکیم محمد یاسین صاحب، (ہمدرد دواخانہ) سعید اختر ہاشمی ایڈووکیٹ ، جناب شیخ حبیب اللہ،(محلہ سرائے) حاجی عبد الرحمن، حاجی میاں جان (والد ماجد مولانا سعید مظاہری) اور سید نذیر الدین اشرف (والد ماجد سابق وزیر سید جمشید اشرف) وغیرہ کے تعاون سے علمی انحطا ط کو دورفرمایا اور علمی واصلاحی فروغ کے لئے مثالی اقدامات کئے اوردیکھتے دیکھتے یہ ادارہ شمالی بہار کے زیادہ تر علاقوں میں مشہور ہو گیا… اور پورنیہ سہرسہ، مدھے پورہ ،کھگڑیا ،سمستی پور اور دربھنگہ وغیرہ سے طلبہ یہاں کشاں کشاں آنے لگے، انہوں نے اس ادارے کو اپنے خون جگر سے سینچا… مدرسہ کی توسیع و تعمیر کے لیے بڑا قطعہ اراضی اور بلڈنگ خریدی، اس پر شاندار
دو منزلہ عمارت تعمیر کروائی.. پورے بہار سے طلبہ کشاں کشاں یہاں آنے لگے..
ہجوم بلبل ہوا چمن میں جب گل نے کیا جمال پیدا
قدر دانوں کی کمی نہیں اکبر کرے تو کوئی کمال پیدا
بدعات اور رسم و رواج کی اصلاح میں اس ادارے کا بڑا کارنامہ ہے، گذشتہ دنوں یہ عاجز ایک تقریب میں شرکت کے لیے مدھے پورہ ضلع کے شنکر پور مدھے لی پہنچا؛ بعد نماز جمعہ اس عاجز کا خطاب ہوا.. جب وہاں کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ میرا تعلق بدرالاسلام سے ہے تو انھوں نے بڑا اکرام کیا اور کہنے لگے کہ اگر مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے کا فیض نہ ہوتا تو یہ بستی بھی شرکت بدعت کی آماجگاہ ہوتی.
مولانا محمد ادریس نے ہی اس ادارے کے مزید فروغ کے لئے مشہور عالم دین حضرت مولانا اسماعیل صاحب عظیم آبادی کو بحال کیا… جنہوں نے اس ادارے کی شہرت کو چار چاند لگانے کا کام کیا
حضرت مولانا ضیاء بلواروی (جنرل سیکرٹری تحریک خاکسار) اور مولانا حکیم شمش الضحٰی لکھمنیاں اور حکیم محی الدین مہواری شہید (شاگرد مفتی اعظم کفایت اللہ) اس ادارے کی تعلیمی نگرانی کے فرائض انجام دیتے تھے.
حضرت مولانا ادریس صاحب کے ابتدائی اساتذہ میں مولانا ابوالحسن پنچویری بھی تھے. مولانا ادریس صاحب ان کا زبردست اکرام کیا کرتے تھے. جب بھی وہ ان کے گھر یا مدرسہ بدرالاسلام تشریف لاتے تھے. تو تبرکاً ان سے درس لیا کرتے تھے اور ان کی ضیافت کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا .. حضرت شیخ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی آپ کی وارفتگی کا منظر اس سے بھی فزوں تر تھا.. ٥دسمبر سن (1957ء)میں حضرت شیخ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر اور پھر ٢٢فروری ١٩٥٨ء میں حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کی وفات پہ مدرسہ بدرالاسلام بیگوسراءے میں زیر صدارت مولانا ادریس نیموی باوقار تعزیتی اجلاس منعقد ہوا اس میں بیگوسرائے ایس ڈی ایم خاص طور پر شریک ہوئے. اس اجلاس کی تفصیلات سہ روزہ "الجمعیۃ” دہلی میں شائع ہوئی تھی.
اس تعزیتی اجلاس میں ماہر قانون وکیل جھارکھنڈی بابو نے یہ شعر حضرت کے لیے پڑھا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.
سیاسی طور پر بھی مولانا ادریس صاحب کافی مضبوط سمجھے جاتے تھے. بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ شری کرشن سنہا حضرت مولانا ادریس کی کافی عزت کرتے تھے اور عقیدت مندانہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے.. مدرسہ کے اجلاس کے موقع پر یہاں تشریف لائے اور مدرسہ سے متصل رشیدیہ اردو مکتب کو منظوری دی جو آج بھی قائم ہے. چونکہ آپ اپنے شیخ حضرت مدنی کی ذات اور ان کے مشن پر مر مٹ تھے، اس لیے فطری طور پر جمعیت علمائے ہند سے مناسبت تھی اور اسی نسبت سے آپ بیگوسرائے سب ڈویژن کے جمیعت علماء کے صدر بھی تھے.
آپ کا زمانہ مدرسہ بدرالاسلام کا مبارک و مسعود عہد تھا، اس زمانے میں عام طور پر ریاستی وملکی شخصیات اور اکابر کی تشریف آوری ہوتی رہتی تھی. جن میں قطب وقت حضرت مولانا عبدالرشید رانی ساگری، حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہاں پوری، حضرت قاری فخرالدین گیاوی. حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی، محدث کبیر ابوالمآثر مولانا حبیب الرحمن اعظمی، حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی اور شاہ عون احمد قادری خاص طور پر قابل ذکر ہیں. انھیں بزرگوں کے قدم رنجہ فرماءی کا فیض ہے کہ یہ ادارہ مختلف نشیب وفراز دیکھنے کے باوجود اب بھی کءی جہات سے متحرک وفعال ہے..اور ہمیشہ کی طرح آج بھی تمام ملی وسماجی تحریکات کا مرکز ہے.
ادب اور علمیت میں ممتاز شخصیت کے مالک اور "العلالۃ النافعہ” کے مصنف حضرت مولانا عبد الاحد قاسمی آپ کے رفقاء میں سے تھے… اور آپ کی علمی قابلیت کے مداح تھے. فرماتے تھے کہ مجھ پر شیخ الادب مولانا اعزاز علی کی نسبت سے ادب کا غلبہ ہے اور مولانا ادریس صاحب نحو وتفسیر میں ممتاز ہیں.
.. حضرت مولانا ادریس صاحب کی خاص خوبی یہ تھی کہ آپ نے ہر ہر طبقے سے طلبہ کا انتخاب کیا اور انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تاکہ مسلمانوں کی ہر برادری میں میں علم کا بودوباش ہو. چنانچہ آپ کی تحریک پر بیگوسراءے کے دور دراز دیہی علاقوں میں میں بھی علم کی روشنی عام ہوءی. .اور مدرسہ بدرالاسلام ان کے دلوں کا دھڑکن بنا ..
بزرگ عالم دین ماہر اسمائے رجال حضرت مولانا سید محمد یحییٰ ندوی آپ کے بڑے مداح تھے، اس عاجز کے سامنے کئی مرتبہ یہ کہا کہ پورے ضلع کے لیے انھوں نے بہت کام کیا اور ہر علاقے میں آپ کا فیض عام ہوا.
علمی قابلیت کے ساتھ آپ زبردست رعب وداب کے مالک تھے، لائسنس والا راءفل عام طور پر آپ کے پاس ہوتا تھا، ایک مخصوص بگھی تھی جس سے آپ دعوتی اسفار کیا کرتے تھے

کچہری مسجد میں جمعہ سے قبل بڑی اہمیت کے ساتھ خطاب فرماتے تھے… لوگ دور دراز سے آپ کا خطاب سننے کے لیے آیا کرتے تھے، حضرت مولانا ڈاکٹر محی الدین طالب صاحب مدظلہ خلیفہ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی فرماتے ہیں :کہ آپ کا خطاب کافی مؤثر، دلنشیں اور جامع ہوا کرتا تھا، خطبہ کے وقت سر پر عمامہ اور ہاتھ میں عصا ہوا کرتا تھا. آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص قسم کی وجاہت سے نوازا تھا.
عاجز راقم السطور نے بھی اپنے بچپنے میں حضرت کو دیکھا کہ جمعہ کے خطبہ میں الحمد للہ علی الذات عظیم الصفات سمی السمات کبیر الشان جلیل القدر الخ پڑھا کرتے تھے.
حضرت کو میں نے دیکھا کہ سخت علالت، بینائی کی کمزوری اور لاغری کے باوجود مسجد جاکر نماز باجماعت کا اہتمام کیا کرتے تھے. اس عاجز کے لیے حضرت کا حکم تھا کہ کہ ان کے دروازے پر سے انھیں لینا ہے اور مسجد پہنچانا ہے اور پھر مسجد سے ان کے دروازے پر پہچانا ہے. چنانچہ میں اپنی سعادت مندی سمجھ کر اس خدمت کو انجام دیتا تھا، یہ بھی دیکھا کہ کمزور بینائی کے باوجود بڑے سائز کے قرآن کریم کی دیکھ کر بغیر چشمہ کے مستقل تلاوت کرتے تھے، اور فرماتے کہ دیکھ کر قرآن کریم کی تلاوت آنکھوں کی بینائی کے لیے بہت مفید ہے، میری آنکھوں میں جو بھی روشنی باقی رہ گئی ہے وہ تلاوت قرآن پاک کا فیض ہے، گاؤں میں آپ کا بڑا دبدبہ تھا، ممکن نہ تھا کہ کوئی تعزیہ لے کر آپ کے دروازے سے گذر جائے. محلہ کی اصلاح کے لیے بھی فکر مند رہتے تھے.
بیگوسرائے ودیگر علاقوں کے معروف علماء کی بڑی تعداد ہے، جنھیں حضرت مولانا محمد ادریس سے شرف تلمذ حاصل ہے، جن میں حضرت مولانا محمد شفیق عالم نیموی کے علاوہ حضرت مولانا علامہ عثمان غنی(١٩٢٢_٢٠١١) . حضرت مولانا شفیق عالم پورنوی سابق استاذ جامعہ رحمانی مونگیر ، (آپ نے مولانا سے جامعہ رحمانی اور دیوبند جانے سے قبل ان گھر نیما میں رہ کر ان سے تعلیم حاصل کی) حضرت مولانا شرف الدین قاسمی رح، حضرت مولانا عبدالعظیم حیدری مدظلہ العالی قاضی شریعت بیگوسرائے، حضرت مولانا معین الدین انصاری رح ، (سابق صدر المدرسین بشارت العلوم نیما،) حضرت مولانا عبدالحلیم (سابق جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء بیگوسراءے) ,مشہور خطیب حضرت مولانا امین خان چترویدی مدظلہ ، اور انتہائی متحرک اور فعال اورجمعیت علماء کے ترجمان اور سماجی خدمت گار جناب مولانا نفیل الرحمان قاسمی سرونجوی مدظلہ العالی ، مولانا محمد قاسم مظاہری( سوجا بھرا) استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، مولا نا عبد الرزاق انصاری، مولانا عبد الجبار مظاہری، مولانا ظہور عالم قاسمی سابق صدر جمعیت علماء کھگڑیا، مولانا داؤد صاحب مانڈر، مولانا ڈاکٹر انعام الحق مہنوی سمستی پوری، حضرت مولانا الحاج حبیب اللہ صاحب اور حضرت مولانا محمد اسحاق قاسمی رح سابق صدر جمعیت علماء بیگوسراءے خاص طور پر قابل ذکر ہیں.. عرصہ تک آپ مشہور تعلیمی ادارہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں تعلیمی خدمات انجام دیتے ر ہے…وہاں آپ سے استفادہ کرنے والے طلبہ کی تعداد کثیر ہے.
کچھ عرصہ مدرسہ تجوید القرآن مونگیر میں حضرت مولانا سعد اللہ بخاری کی معیت میں کام کیا. بعد ازاں مدرسہ بدرالاسلام بیگوسراءے تشریف آوری ہوئی . درمیان میں مختصر میعاد کے لیے مدرسہ حسینیہ مانڈر میں بھی ذمہ دارانہ طور پر خدمات انجام دیں.. پھر مدرسہ بدرالاسلام واپسی ہوئی….صحت و تندرستی کے عالم میں آپ نے زیارت حرمین شریفین اور حج و عمرہ کی ادائیگی کا شرف حاصل کیا.
عمر کے آخری مرحلے میں اپنے وطن نیما میں مقیم ہوکر طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو فیضیاب فرماتے رہے…آپ چونکہ زمین دار خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے نانا مرحوم کے ذریعے بڑی قطعہ اراضی آپ کو ملی تھی؛ لہذا بہت سے طلبہ کی آپ کفالت بھی فرماتے تھے.
آپ کے آخری دور کے تلامذہ اور مستفیدین میں مولانا جسیم الدین قاسمی، مفتی محمد داؤد مظاہری، مفتی عبدالجبار مظاہری، پرنسپل مدرسہ بدرالاسلام ، مولانا محمد سمیع حیدر،مولانا محمد ریاض پنچبیری، مولانا محمد مصطفی مظاہری، مولانا رقیم الدین مظاہری، مولانا غیاث الدین قاسمی، قاری محمد عیسی مظاہری (مہتمم مدرسہ حسینیہ چلمل) اور آپ کے چھوٹے صاحب زادہ مولانا زبیر احمد قاسمی شامل ہیں..
آپ کے قائم کردہ نہج پر مدرسہ بدر الاسلام کو کافی فروغ ہوا اور بعد کے عہد میں مدرسہ بدرالاسلام بیگوسراءے میں ، حضرت مولانا محمد جابر صاحب کٹکی(صدر جمعیت علماء اڑیسہ)، حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی علیہ الرحمہ (سابق ممبر پارلیمنٹ) حضرت مولانا قاضی عبد العظیم حیدری مظاہری مدظلہ العالی ، حضرت مولانا شریف الحسن قاسمی،چلمل، الحاج حافظ زین العابدین،کٹہری ،جناب حافظ منصور احمد رحمانی، حضرت مولانا مکرم الحسینی قاسمی مدظلہ العالی (ریاستی نائب صدر جمعیۃ علماء بہار)، مولانا یحییٰ بیرپوری، مولانا سعید احمد مظاہری، (محلہ سرائے) قاری کلیم الدین، قاری سلیم الدین حافظ محمد سعید صاحب پور کمال مولانا عبد الرزاق ہرک وغیرہ کی بھی بحالی ہوئی .
آپ کی وفات 17 ستمبر 1992 ء روز جمعرات بوقت دس بجے دن ہوئی. آپ کی روح اس وقت پرواز کی جب آپ کا سر حضرت مولانا محمد شفیق عالم قاسمی (بانی وصدر جامعہ رشیدیہ جامع مسجد بیگوسرائے) کی گود میں تھا… آپ نے جنازہ پڑھانے کے لیے اپنے شاگرد اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا شرف الدین صاحب کے نام کی وصیت کی تھی؛ لیکن جب مولانا شرف الدین کا وصال مولانا ادریس صاحب کی زندگی ہی میں ہوگیا تو آپ نے کافی افسوس کا اظہار کیا .آپ کی نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحب زادے مولانا قمر الھدی قاسمی نے پڑھائی. مولانا قمر الہدی کے علاوہ آپ کے دو صاحب زدگان اور ہیں، جناب محمد عمر اور جناب مولانا محمد زبیر مبلغ خانقاہ رحمانی..
آپ نے علوم قرآن وسنت کی ترویج واشاعت اور اصلاح خلق کے لیے جو عظیم کارنامے انجام دیے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے انمٹ نقوش ہمیشہ بیگوسرائے کی سرزمین کو تابانی بخشتے رہیں گے…. اللھم اغفرہ وعافہ وادخلہ جنت النعیم.
بندہ خالد نیموی قاسمی
صدر جمعیت علماء بیگوسرائے وسابق معین المدرسین دار العلوم دیوبند یوپی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close