اسلامیات

نماز جنازہ کا بیان

قسط نمبر (9) (حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ کی کتاب : رہ نمائے مسلم سے اقتباس۔ یہ کتاب پیدائش سے لے کر موت تک ایک مکمل اسلامی لائف گائڈ ہے۔)

تکفین کے بعد حتیٰ الامکان نماز جنازہ کی تیاری میں جلدی کرے اور محلہ یا گاؤں میں سے ہر شخص جنازہ میں شرکت کی کوشش کرے ، کیوں کہ مومن میت کا حق ہے ۔ اور ادائیگیِ حق میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ یاد رہے کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ، یعنی اگر ایک جماعت نے اس پر نماز پڑھ لی تو بقیہ لوگوں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ ورنہ گاؤں یا محلہ کے سارے لوگ ترک فرض کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔( کنز الدقائق)
نماز جنازہ کے لیے میت کا مسلمان اور پاک ہونا شرط ہے ۔ اور نماز جنازہ میں قیام اور چار تکبیریں فرض ہیں۔ (کنز الدقائق، مؤطا امام مالک)
عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃؓ أنَّ رَسُوْلَ الْلّٰہِ ﷺ نَعیٰ النَّجَّاشِیْ فِی الْیَوْمِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ وَ خَرَجَ بِھِمْ ا8لَیٰ الْمُصَلّٰی فَصَفَّ بِھِمْ وَ کَبَّرَ أرْبَعَ تَکْبِیْراتٍ ۔(مؤطا ا8مام مالک)
حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ جس دن نجاشی کی وفات ہوئی، حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو اس کی اطلاع دی اور اپنے اصحاب کو لے کر میدان میں نکلے اور صف درست کرائی اور نماز میں چار تکبیریں کہیں۔
حضرت عثمان بن مظعونؓ کے جنازہ کی نماز میں آپ ﷺنے چار تکبیریں کہیں۔(سنن ابن ماجہ)
نجاشی کی نماز جنازہ میں آپ ﷺنے چار ہی تکبیریں کہیں اور فرشتوں نے بھی حضرت آدم علیہ السلام کے جنازہ میں چار تکبریں کہیں اور فرشتوں نے کہا : ائے بنی آدم! یہ تمھاری سنت ہے ۔ (حاکم فی المستدرک و سنن بیہقی طبرانی)
کسی روایت میں پانچ پانچ، چھ چھ اور سات سات تکبیرات کا تذکرہ بھی آیا ہے ؛ لیکن یہ ابتدا کی بات ہے، آخر زمانہ میں چار ہی تکبیرات رہ گئیں اور اسی پر صحابہ کرام کا اتفاق اور اجماع ہوگیا ۔ا ور تمام صحابہ کرام کو حضرت عمرؓ نے چار تکبیروں پر جمع کیا ۔ چنانچہ حضرت ابو وائلؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ عہد رسالت میں چار چار، پانچ پانچ، چھ چھ اور سات سات تکبیریں کہا کرتے تھے ؛ لیکن حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو چار تکبیروں پر جمع کیا۔ (سنن بیہقی ) تو گویا باجماع صحابہ کرام نماز جنازہ میں آخر میں صرف چار تکبیریں فرض رہ گئیں۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس آخری جنازے کی نماز پڑھائی، اس میں چار ہی تکبیریں کہی ہیں۔ (سنن بیہقی)
جنازہ کی نماز میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ شریک ہونا چاہیے، پتہ نہیں،جماعت میں کون خدا کا مقبول بندہ ہو، جس کی دعا میت کے حق میں خدا کے نزدیک مقبول ہوجائے اور اس کی مغفرت ہوجائے اور جنت واجب ہوجائے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس میت پر سو مسلمانوں نے نماز پڑھی، اس کی مغفرت ہوگئی ۔ ایک روایت میں چالیس ہے۔ مراد زیادتی ہے یا سائلین کے جواب میں مختلف تعداد کا ذکر فرمایا۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے پیچھے پیچھے چلا اور اس کی نماز پڑھی، تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو نماز کے بعد دفن کرکے فارغ ہوگئے ، اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا ۔ (ابو داود) ۔
حاضرین جنازہ کو تین صفوں میں تقسیم کردیا جائے۔
قَالَ مَالِکُ بْنُ ھُبَیْرَۃَ الشَّامِیْ اِذَا اُتِیَ بِجَنَازَۃٍ، فَتَقَالَ مَنْ تَبِعَھَا جَزَّاھُمْ ثَلَاثَۃَ صُفُوْفٍ ثُمَّ صَلَّیٰ عَلَیْھَا وَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ الْلّٰہِ ﷺ قَالَ: مَا صَفَّ صُفُوْفَ ثَلَاثَۃٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَّا وَاجِبٌ ۔(سنن ابن ماجہ)
مالک بن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ جب ان کے پاس جنازہ آیا ، تو آپ نے حاضرین کو کم سمجھ کر تین صفوں میں تقسیم کیا اور نماز پڑھائی اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جب بھی تین صفیں ہوتی ہیں ، میت کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
نماز پڑھانے میں اول درجہ کا حق سلطان کو ہے ، پھر قاضی کو ، پھر محلہ کے امام کو، پھر ولی میت کو ۔ سلطان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد اگر ولی اعادہ کرنا چاہے، تو کرسکتا ہے ، غیر مستحق کو مستحق کے نماز پڑھانے کے بعد اعادہ کا حق نہیں ہوگا۔ (کنز، ہدایہ)
اگر بغیر نماز کے میت کو دفن کردیا گیا ہے، تو بعد میں قبر کے پاس آکر نماز پڑھی جاسکتی ہے ، بشرطیکہ میت کا جسم پھٹا پھولا نہ ہو۔ (ہدایہ ، کنز)۔
رسول اللہ ﷺ نے میت کو دفن کرنے کے بعد قبر کے پاس آکر نماز پڑھی۔
امام کو میت (مردہویا عورت) کے سینے کے مقابلہ میں کھڑا ہونا چاہیے ، کیوں کہ وہ عضو ایمان کا مرکز ہے ۔ (ہدایہ ، کنز)
اگر مستحق نے غیر مستحق کو نماز پڑھانے کی اجازت دیدی، تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔ ایسی مسجد جس میں باقاعدہ جماعت ہوتی ہو، وہاں جنازے کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ (ہدایہ، کنز)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی، اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔ (ابوداود)
نومولود بچہ پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، بشرطیکہ بوقت پیدائش حیات کی کوئی علامت معلوم ہوچکی ہو۔ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم پر نماز پڑھی ہے ۔ (ابو داود، ابن ماجہ) اور آپ ﷺ نے فرمایا:
اَلطِّفْلُ یُصَلَّیٰ عَلَیْہِ
دوسری جگہ ہے کہ
اِذَا اسْتَھَلَّ صُلِّیَ عَلَیْہِ وَوَرِثَ، قَالَ النَّبِیُّ ﷺ صَلُّوْا عَلَیٰ أطْفَالِکُمْ فَا8نَّھُمْ مِنْ أفْرَاطِکُمْ
اور جو بچہ مردہ پیدا ہو اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بغیر نماز پڑھے ہوئے دفن کرے۔ (ہدایہ)
دارالحرب سے کوئی بچہ اگر تنہا (بغیر والدین کے ) قید ہوکر دارالاسلام آیا ہے ، یا والدین کے ساتھ قید ہوکر آیا ، ان میں سے کوئی ایک مسلمان ہوگیا یا مسلمان تو نہیں ہوئے ؛ لیکن صرف بچہ نے اپنے اسلام کا اقرار کیا، بشرطیکہ وہ بچہ عاقل ہو، ان تینوں صورتوں میں ایسے بچہ پر اس کے مرنے کے بعد نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، بصورت دیگر نہیں پڑھی جائے گی ۔ اگر دارالاسلام میں کوئی بچہ کہیں پایا گیا ؛ لیکن اس بچہ کا مسلمان ہونا معلوم نہیں ہے، تو اس پر نماز پڑھی جائے گی ۔ (ہدایہ)
شہید کو بغیر غسل دیے ان کے کپڑوں میں (جو اس کے بدن پر ہے) دفن کیا جائے گا۔ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ اگر سنت سے زائد کپڑا ہے ، تو علاحدہ کرلیا جائے گا۔ اور اگر کم ہے تو پورا کیا جائے گا۔ اور شہید وہ ہے جسے ظلما قتل کیاگیا ہو اور ان کے قتل سے دیت واجب نہ ہوئی ہو۔ جس شخص کو کسی حربی یا باغی حکومت یا ڈاکو نے قتل کر ڈالا، چاہے جس چیز سے ہو ، اسے غسل دیے بغیر ، نماز پڑھ کر دفنایا جائے گا ۔ ہاں اگر جنبی تھاتو چاہے وہ شہید ہو، لیکن اسے غسل دیا جائے گا کہ بغیر اس کے نماز جنازہ نہیں ہوتی ہے۔ یہی حکم حائضہ اور نفساء کا ہے ۔ حداً یا قصاصاً مقتول کو غسل دے کر اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ (ہدایہ)
نماز کی ترکیب
سب سے پہلے نیت کرے۔ اور تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کان کے لو تک اٹھاکر باندھ لے ۔ اور ثنا پڑھے ۔ دوسری دفعہ بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیر کہے اور کوئی درود شریف پڑھے ، لیکن بہتر درود، درود ابراہیمی ہے ، جسے نمازی نماز کے قعدہ اولیٰ میں پڑھتے ہیں۔ تیسری تکبیر کہہ کر بالغ مرد اور عورت کے کے لیے یہ دعا پڑھے :
ألْلّٰھُمَ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیَّتِنَا وَ شَاھِدِنَا وَ غَاءِبِنَا وَ صَغِیْرِنَا وَ کَبِیْرِنَا وَ ذَکَرِنَا وَ أنْثَانَا۔ ألْلّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہُ مِنَّافَاَحْیِہِ عَلٰی الاسْلَامِ وَ مَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلٰی الایْمَانِ۔
اور نابالغ لڑکا کے لیے یہ دعا پڑھے:
ألْلّٰھُمَّ اجْعلْہُ لَنَا فَرَطَاً وَ اجْعَلْہُ لَنَا أجْرَاً وَّ ذُخْرَاً وَاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعاً وَّ مُشَفَّعَاً
اور نابالغ لڑکی کے لیے یہ دعا پڑھے:
ألْلّٰھُمَّ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطَاً وَ اجْعَلْھَا لَنَا أجْرَاً وَّ ذُخْرَاً وَّاجْعَلْہَا لَنَا شَافِعَۃً وَّ مُشَفَّعَۃً۔
یہ دعا پڑھ کر تکبیر کہے ۔ پھر دونوں طرف سلام پھیرے۔
جس شخص کی کچھ تکبیریں چھوٹ جائیں، تو اسے چاہیے کہ امام کی اگلی تکبیر کے ساتھ نماز میں داخل ہوجائے اور چوتھی تکبیر کے بعد بغیر سلام پھیرے اپنی فوت شدہ تکبیریں پوری کرلے ، کیوں تکبیرات فرض ہیں ، ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ (ہدایہ)
البتہ جو شخص شروع سے جماعت میں حاضر ہے ، اس کے باوجود اس کی تکبیر چھوٹ گئی ہو، تو وہ امام کی اگلی تکبیر کا انتظار نہیں کرے گا، بلا انتظار تکبیر کہہ ڈالے اور اخیر میں امام کی چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے اپنی فوت شدہ تکبیریں پوری کرے۔
جن اوقات مکروہ میں پنجوقتہ نماز مکروہ ہے ، ان اوقات میں نماز جنازہ بھی مکروہ ہے ۔ سورج نکلنے کے وقت، اس کے ڈوبنے کے وقت اور زوال کے وقت نماز جنازہ نہ پڑھے؛ لیکن اگر جنازہ اسی وقت تیار ہوکر آیا ہے ، ایسی صورت میں بلاکراہت نماز پڑھی جاسکتی ہے اور نماز ہوجائے گی۔ حضرت عقبہ ابن عامرؓ فرماتے ہیں کہ تین وقتوں میں نبی اکرم ﷺ نے مردوں کی نماز اور ان کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے : (۱)طلوع شمس سے رفع شمس تک ۔ (۲) ٹھیک جب سورج سر پر آجائے، اس وقت سے لے کر زوال تک۔ (۳) سورج ڈوبنے کے وقت سے غروب شمس تک (ابو داود)
محمد ابن ابی حرملہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے سنا کہ وہ متوفیہ حضرت زینب بنت سلمہ کے رشتہ داروں سے کہنے لگے : یا تو تم جنازے کی نماز اس وقت پڑھ لو، یا اس وقت چھوڑ دو، سورج بلند ہونے کے بعد پڑھنا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ ابن عمرؓ عصر اور صبح کی نماز کے بعد جب کہ دونوں وقتوں کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھ لی جاتی تھیں، نماز جنازہ ادا کرتے تھے ، یعنی اوقات مکروہہ میں ادا نہیں کرتے تھے ۔ (مؤطا امام مالک)
جنازہ اٹھانے اوردفنانے کا بیان
آئے ہیں تا قبر دوشا دوش ائے ریاض
کچھ نہ کچھ عزت تو کی یاروں نے مرجانے کے بعد
جنازہ اٹھانا اور لے جانا
اگر میت کوئی شیر خوار بچہ یا اس سے کچھ بڑا ہو ، جو ہاتھوں پر جاسکے ، تو اس کو دست بدست لے جائیں ، یعنی ایک آدمی اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر اٹھالے، پھر اس سے دوسرا،اور دوسرا سے تیسرا ، اسی طرح بدلتے ہوئے لے جائیں۔ (عالمگیری)
اگر میت کوئی بڑا آدمی ہوتو اس کو کسی چارپائی وغیرہ پر رکھ کر لے جائیں ۔اور اس کے چاروں پایوں کو ایک ایک آدمی اٹھائے ۔ چلتے وقت میت کی چارپائی کو ہاتھوں سے اٹھاکر کندھوں پر رکھے اور آگے بڑھے ۔ اب دوسرے آدمیوں کے لیے جنازہ کندھوں پر رکھنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کا اگلا داہنا پایا اپنے داہنے کندھے پر رکھ کر دس قدم چلے ۔ پھر پچھلا بایاں پایا پکڑ کر اپنے بائیں کندھے پر رکھ کر اسی طرح دس قدم چلے ۔ پھر اگلا بایاں پایا پکڑ کر اپنے بائیں کندھ پر رکھ رکھ کر اسی طرح دس قدم چلے ۔ پھر پچھلا بایاں پایا پکڑ کر اپنے کندھے پر رکھ کر دس قدم چلے ، تاکہ چاروں پایوں کو ملا کر چالیس قدم ہوجائے۔ (در مختار، عالمگیری)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ حَمِلَ جَوانِبَ السَّرِیْرِ الْأرْبَعِ کَفَّرَ الْلّٰہُ عَنْہُ أرْبَعِیْنَ کَبِیْرَۃً ۔(رواہ الطبرانی فی الاوسط، زجاجۃ، ص۴۷۱)
جو شخص جنازہ کے چاروں پایوں کو اٹھائے ، اللہ تعالیٰ اس کے چالیس گناہ کبیرہ کو معاف فرمائے گا۔
جنازہ تیزی سے لے جائے ؛ مگر اتنا تیز نہیں کہ جنازہ کو حرکت آجائے۔ (عالمگیری)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أسْرِعُوْا بِالْجَنازَۃِ فَانْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُوْنَھَا الَیْہِ وَ انْ تَکُ سِوَیٰ ذٰالِکَ فَشَرٌّ یَضَعُوْنَہُ عَنْ رِقَابِکُمْ ۔
(متفق علیہ)، زجاج ۴۵۶)
جنازہ لے کر تیزی سے چلو ، اگر نیک ہے تو خیر اس کے آگے کر رہے ہو۔ اور اگر اس کے علاوہ ہے تو شر ہے ، جس کو اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
یعنی اگر نیک ہے تو اس کے لیے قبر میں آسائش کا سامان ہے ، اس کو جلد آرام کی جگہ پر پہنچاؤ۔اور اگر بد ہے تو اس کی برائی سے بچنے کے لیے اپنے کندھے سے اس کو جلد دور کرو۔
اور بخاری کی روایت میں ہے کہ جب جنازہ رکھا جاتا ہے ۔ پھر اس کو مرد اپنی گردن پر اٹھاتے ہے ، تو اگر نیک ہے تو کہتا ہے : قَدِّمُوْنِیْ مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر غیر صالح (بد) ہوتا ہے ، تو اپنے اہل سے کہتا ہے : تیری خرابی ہو، مجھے کہاں لیے جاتے ہو (اور اتنا واویلا کرتا ہے کہ) انسان کو چھوڑ کر باقی تمام مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے ۔ اگر انسان سن لے تو مرجائے۔ (زجاجہ، ص۴۵۶)اور باقی لوگ جنازہ کے پیچھے چلیں، اگرچہ آگے چلنا بھی درست ہے ، لیکن افضل پیچھے چلنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلم کے جنازہ کے پیچھے یقین اور ثواب کی نیت سے چلے اور اس کے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے ۔ اور اس کے دفن سے فارغ ہوجائے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے ۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے مثل ہوتا ہے ۔ اور جو صرف اس پر نماز پڑھے اور دفن کرنے سے پہلے لوٹ جائے، تو وہ صرف ایک قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے ۔ (بخاری مسلم)
جنازہ کے پیچھے چلنے کو آگے چلنے پر وہی فضیلت ہے ، جو فرض نماز کو نفل پر ہے ، یا جماعت کی نماز کو تنہا نماز پر ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
أمَا انَّ فَضْلَ الرَّجُلِ یَمْشِیْ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ عَلَیٰ الَّذِیْ یَمْشِیْ أمَامَھَا کَفَضْلِ صَلَوٰۃِ الْجَمَاعَۃِ عَلیٰ صَلَوٰۃِ الْفَذِّ ۔(رواہ الطحاوی وعبدالرزاق وابن ابی شیبہ واسنادہ صحیح)
بہرحال جو شخص جنازے کے پیچھے چلتا ہے ، اس کی فضیلت آگے چلنے والے پر ایسی ہے جیسے کہ جماعت کی نماز کی فضیلت تنہا نماز پر۔
یہ حدیث گرچہ موقوف ہے ؛ مگر حکم مرفوع کا رکھتی ہے ، اس لیے کہ صحابی ایسی باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے ۔
بہتر ہے کہ جنازہ کے ساتھ چلنے والے اللہ کا ذکر کرتے جائیں اور ان ذکروں میں سب سے بہتر ذکر لا الٰہ الا اللہ کا ذکر ہے ، کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ:
أفْضَلُ الذِّکْرِ لَا اِلٰہَ اِلَّا الْلّٰہُ (ترمذی ابن ماجہ)
دوسری حدیث میں ہے کہ جنازہ کے ساتھ کثرت سے لا الٰہ الا اللہ پڑھو۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جنازہ کے ساتھ دینے والوں میں افضل وہ شخص ہے ، جو اس جنازہ کے ساتھ (اللہ کا) ذکر کرے اور جو نہ بیٹھے ، یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے ۔ اور (ثواب کا ) پیمانہ پورا کرنے والا وہ ہے، جو تین بار اس پر مٹھی بھر خاک ڈالے۔
لیکن ذکر آہستہ کرے ۔ جنازہ کے ساتھ زور سے ذکر کرنے کو شامی نے مکروہ لکھا ہے ۔ عالمگیری میں فتاوٰیٰ قاضی خاں سے منقول ہے کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا چاہے، تو اپنے جی میں آہستہ پڑھے ۔ جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے ۔ جنازہ زمین پر رکھنے کے بعد بیٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اِذَا اتَّبَعْتُمُ الْجَنَازَۃَ فَلَا تَجْلِسُوْا حَتّیٰ تُوضَعَ ۔
(رواہ ابو اداود و فی روایۃ لہ حتیٰ توضع فی الارض)
جب جنازہ کے ساتھ جاؤ تو تم مت بیٹھو، یہاں تک کہ جنازہ رکھ دیا جائے ۔
یعنی زمین پر جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے ۔
جنازہ کے پیچھے عورتیں نہ جائیں۔ ام عطیہ سے روایت ہے کہ :
کُنَّا نُنْھیٰ عَنِ اتِّبَاعِ الْجِنَاءِزِ (بخاری، جلد دوم ص۸۰۴)
جنازہ کے پیچھے چلنے سے ہم سب عورتوں کو منع کیا جاتا تھا۔
قبر
صدا یہ قبر سے بیدار دل کو آتی ہے
عمل جو نیک ہوں تو ایسی خواب گاہ نہیں
کم از کم میت کا نصف قد اور زیادہ سے زیادہ ایک قد گہری قبر کھودے ۔ اس سے زیادہ گہری نہ کھودے اور لمبائی اس کے قد کے موافق ہونی چاہیے ۔ بغلی قبر صندوقی قبر سے افضل ہے ۔ جائز دونوں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی قبر بغلی تھی۔حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ نے مرض الموت میں فرمایا : میرے لیے بغلی قبر کھودو اور مجھ پر کچی اینٹ چن دو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا گیا ۔ (مسلم)۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْلّحْدُ لَنَا وَالشِّقُّ لِغَیْرِنَا (ترمذی، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ)
بغلی قبرہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر غیر کے لیے ہے ، یعنی مسلمانوں کی قبر بغلی اور غیر مسلموں کی قبر صندوقی ہوتی ہے۔
دفنانے کا بیان
جب قبر تیار ہوجائے، تو میت کو قبلہ کی طرف سے قبر میں اتار دیں ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جنازہ قبر سے قبلہ کی جانب رکھا جائے اور اتارنے والے قبلہ رو کھڑے ہوکر میت کو اٹھاکر قبر میں رکھ دیں۔ (بحرالرائق، در مختار) ۔ ؂
پہنچے مرمر کر لحد تک پہلی منزل طے ہوئی
عرصۂ محشر کی باقی اب مسافت رہ گئی
عنْ أبِیْ سَعِیْدٍ أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ أخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَۃِ وَاسْتَقْبَلَ اِسْتَقْبَالَاً (ابن ماجہ)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبلہ کی طرف سے اتارے گئے اور آپ ﷺ نے قبلہ کا استقبال کیا۔
مستحب ہے کہ قبر میں اتارنے والایہ دعا پڑھے:
بِسْمِ الْلّٰہِ وَ عَلیٰ مِلَّۃِ رَسُوْلِ الْلّٰہِ
قبر میں اتارتے وقت نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے (احمد، ابن ماجہ، ترمذی)۔میت کو قبر میں داہنے پہلو پر قبلہ رو کردینا مسنون ہے ۔ (عالمگیری)
اس کے بعد وہ گرہیں کھول دیں جو کفن کے کھلنے کے خوف سے لگائی گئی تھیں۔
جیسے منزل پہ مسافر کی کمر کھلتی ہے
قبر میں یاروں نے وا بند کمر چھوڑ دیا
اس کے بعد کچی اینٹوں یا بانس نرکل وغیرہ سے بند کردیں ۔ پختہ اینٹ اور تختوں سے بند کرنا مکروہ ہے ۔ البتہ اگر نرم زمین ہو اور قبر کے بیٹھنے کا خوف ہو، تو تختہ اور اینٹ یا صندوق میں بند کرکے رکھنا درست ہے ۔ (شامی)
قبر میں مٹی ڈالتے وقت مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف سے شروع کریں ۔ اور ہر شخص اپنے دونوں ہاتھوں سے قبر میں مٹی ڈالے۔ پہلے لپ میں پڑھے :
مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ
اور دوسرے لپ میں
وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ
اور تیسرے میں
وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أخْرَیٰ
پڑھے ۔ یہ تین لپ مٹی ہوئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، پھر قبر کے پاس تشریف لائے۔ اور اس پر سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالی ۔ (ابن ماجہ)۔ پھر جس قدر مٹی قبر سے نکلی ہو، اس پر وہ سب ڈال دیں۔ اس سے زیادہ مٹی ڈالنا مکروہ ہے ۔ (بحر الرائق) ؂
مرتے ہی جتنے یار تھے ، اغیار ہوگئے
سب خاک میں ملانے کو تیار ہوگئے
اور قبر کو کوہان شتر کی طرح کردے ۔ اس کو مربع کرنا مکروہ ہے۔
عَنْ سُفْیَانٍ التَّمَّارِ دَخَلْتُ الْبَیْتَ الَّذِیْ فِیْہِ قَبْرُ النَّبِیِّ ﷺ، فَرَأیْتُ قَبْرَ النَّبِیِّ ﷺ وَ قَبْرَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ مُسَنَّۃً ۔
(رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
حضرت سفیان تمار کا بیان ہے کہ میں اس گھر میں داخل ہوا، جس میں نبی کریم ﷺ کی قبر تھی ، تو میں نے آپ ﷺ کی اور حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں کوہان نما دیکھی۔ حضرت سفیان جلیل القدر تابعی ہیں۔
قبرکو پختہ کرنا اور اس پر گنبد بنانا اور گردو پیش قبر کے چار دیواری اور چبوترا تعمیر کرنا جائز نہیں۔
نَھَیٰ رَسُوْلُ الْلّٰہِ ﷺ أنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُوَ أنْ یُبْنیٰ عَلَیْہِ وَ أنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ ۔(مسلم)
رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ کیے جانے اور اس پر عمارت بنائے جانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
زیادہ اونچی قبر کرنا بھی مکرو ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بیان ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس بات کے لیے بھیجا کہ جس تصویر کو دیکھوں اسے مٹادوں اور جس اونچی قبر کو دیکھوں اسے برابر کردوں۔ (مسلم)
مواہب الرحمان میں لکھا ہے کہ زینت کے واسطے قبر پر عمارت بنانا حرام ہے۔ اور میت کے دفن کے بعد اس کو مضبوط کرنا مکروہ ہے ۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ۔ اور تحفۃ الملوک میں لکھا ہے کہ پانی کے صدمہ سے بچنے کے واسطے قبر کے گرد چونے سے بنانا مکروہ ہے ۔ اس واسطے کہ قبر اور جو چیز قبر کے تابع ہے وہ استحکام اور مضبوط کرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ پس جیسا کہ قبر کو کچا رکھنا بہتر ہے ، ویسا ہی اس کے گرد بھی کچا رکھنا بہتر ہے ۔ لیکن ٹوٹی ہوئی قبر کو مٹی سے مرمت کردینے میں کچھ حرج نہیں۔(عالمگیری)
قبر کی شناخت کے لیے پتھر رکھنا درست ہے۔جب حضرت عثمان ابن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور وہ دفنائے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو پتھر لانے کا حکم دیا ۔ وہ پتھر نہیں اٹھاسکا، تو حضور ﷺ خود اس پتھر کی طرف تشریف لے گئے اور اپنی آستین سمیٹی اور اس کو اٹھا کرحضرت عثمان بن مظعون ؓ کے سرہانے رکھ دیا اور فرمایا : اسی کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر پہچانوں گا۔ اور میرے اہل میں جس کا انتقال ہوگا ، اس کو اس کے پاس دفن کروں گا۔ (ابو داود)
دفن کرنے کے بعد قبر کے اوپر پانی چھڑکنا مستحب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر کنکریاں رکھیں۔ (شرح السنۃ)
اگر قبر زمین کے برابر ہوجائے، تو اس صورت میں اس پر چلنا پھرنا درست ہے ، لیکن اگر قبر نمایاں ہو، تو اس پر چڑھنا یا بیٹھنا یا اس پر سے گذرنا درست نہیں۔
نَھَیٰ رَسُوْلُ الْلّٰہِ ﷺ أنْ یُّجَصَّصَ الْقُبُوْرُ وَ أنْ یُّکْتَبَ عَلَیْھَا وَأنْ تُؤطَأ ۔(ترمذی)
رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ کیے جانے اور اس پر لکھے جانے اور اس کو روندے جانے سے منع کیا ہے ۔ ؂
مرمٹوں کی قبر کو پامال تونے کیوں کیا
ٹوٹا پھوٹا بھی نشاں ائے پر جفا جاتا جارہا

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: