اسلامیات

نماز کی اہمیت و افادیت

ابوبکر صدیق

قارئين کرام
نماز کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ خداوندقدوس نے شریعت کے تمام احکام سرکاردوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی دنیا میں دیا مگرجب نماز کی باری آئی تو باری تعالی نے
جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش بریں پر بلا کر تحفتہ عطافرمایا
یہی وہ عبادت ہے جس سے انسان کو کبہی چہٹکارہ نہیں چاہے سفر میں ہوں یا حضر میں گہر میں ہوں یا باہر مکانوں میں ہوں یا گزر گاہوں میں سنسناتے ہوے نیزوں کے زد پر ہوں یا چمکتی ہوئ تلواروں کے سائے میں غمی میں ہوں یا خوشی میں نبی ہو یا ولی مفکر ہو یا مدبر
غرض کوئ بہی انسان ہو نماز سے اسکو چہٹکارا نہیں
نماز کسی بہی حالت میں معاف نہیں نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جس سے ایمان اور کفر میں امتیاز ہوتاہے
بہت سی آیات مبارکہ اور احادیث رسول میں اسکی تائید کی گئی ہے چنانچہ ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارے اور کفر کے درمیان جو چیز فرق پیدا کرنے والی ہے وہ نماز ہے
نماز دین کا ایک اہم ستون ہے جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے نماز کو ترک کیا اس نے دین کو ڈہادیا ایک حدیث میں ہے کہ جس نے نماز کو جان بوج کر چہوڑا اس نے کفر والا عمل کیا ایک حدیث میں ہے کہ
جس نے حکومت و سیاست میں لگ کر نماز چہوڑی اسکا حشر فرعون کے ساتہ ہوگا اور
جس نے کہیتی باری
میں لگ کر نماز ترک کی اسکا حشر ہامان کے ساتہ ہوگا
جس نے دست کاری کیوجہ سے نماز ترک کی اسکا حشر قارون کے ساتہ ہوگا
ایک حدیث میں ہے کہ نماز مومن کامعراج ہے
(الصلوت معراج المومن)
چائیےتو یہ تہا کہ جب بہی اذان کی دلکش ودلفریب آواز ہمارے کانوں سے ٹکراۓ تو فورا نماز کی ادائيگی کے لیے بے چین ہوجاتے اور نماز پڑہنے کےلیے مسجد روانہ ہوجاتے اور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوے امیر و غریب سب صف باندہ کرخانہ خدا میں سجدہ ریز ہوجاتے اور اس شعر کے حقیقی مصداق بن جاتے کہ
(ایک ہی صف میں کہڑےہوگۓمحمود وایاز
نہ کوئی بندہ رہانہ بندہ نواز)
مگر افسوس کہ امت محمدیہ خواب خرگوش کے مزےلے رہی ہے اور باری تعالی کے فرمان کو فراموش کر کے غضب الہی کو دعوت دے رہی ہے
نماز سے دل کو سکون ملتا ہے
نماز سے قلبی راحت ملتی ہے
نماز سے چہرہ پرنورہوتاہے
چنانچہ قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اس پر دال
الابذکراللہ و تطمئن القلوب

نماز تمام انبیاء و رسل کی امتوں پر فرض قرار دی گئ تہی ٹہیک اسی طرح سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیوں پر فرض قرار دی گئ کہ دن رات میں پانچ مرتبہ ہر بالغ مرد عورت پر نماز پڑہنا لازمی ہے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ہمارے لیے آئیڈیل اور نمونہ ہے وہ کس طرح نماز پڑہتے تہے کہ پورا دہیان ایک خدا کی طرف رہتا رکوع اس طرح لمبی کرتے کہ معلوم ہوتا کہ کوئ لکڑی ایک جگہ گاڑ دی گئی ہو
سجدہ اسقدر لمبا اور پر سکون ہوتا کہ اگر کوئ پرندہ بیٹہ جاتا انہیں اسکی خبر نہ ہوتی ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نماز پڑہ رہےتہے بیٹا جو پاس میں سورہاتہا چہت سے سانپ گرا اور بچہ پر لپٹ گیا جب نماز سے فارغ ہوۓ تو دریافت کیا کہ شور کی سی آواز آرہی تہی کیا تہا بیوی نے کہا تیرا ناس ہو بچہ کی جان بہی گئ تہی اور تمہیں پتہ بہی نہیں چلا تو آپ نے فرمایا کہ نماز میں ادہر دہیان دیتا تو نماز کہاں باقی رہتی
سبحان اللہ صحابہ کرام کی نماز میں کس قدر خشوع و خضوع ہوتاتہا مگر افسوس کہ ہمارے نوجوان اس کی طرف راغب ہی نہیں ہوتے
اللہ رب العزت امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم عطا فرماۓ
ابوبکر صدیق
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: