اسلامیات

نواقض مسح

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (20) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

(۱) جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ، انھیں چیزوں سے مسح بھی ٹوٹتا ہے ۔
(۲) کسی ایک پاؤں کو موزہ سے نکال لینے یا پاؤں کے اکثر حصہ کا نکل جانے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے
(۳) کسی ایک پاؤں میں پانی گھس جائے اور قدم کے اکثر حصہ کو تر کردینے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔
(۴) مسح کی مدت تمام ہونے سے بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے ۔
اگر نواقض وضو سے مسح ٹوٹے تو وضو کرکے دوبارہ موزہ پر مسح کرلے کافی ہے، لیکن بقیہ صورتوں میں اگرپہلے سے وضو ہے تو صرف پاؤں کا دھونا اس پر ضروری ہوگا، باقی وضو کا لوٹانا ضروری نہیں۔
عن ابن عمر انہ کان فی غزوۃ فنزع خفیہ و غسل قدمیہ ولم یعد الوضوء (مؤطا امام محمد)
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کسی غزوہ میں شریک تھے تو انھوں نے اپنے دونوں موزوں کو نکالا اور پاؤں کو دھویا اور وضو نہیں دوہرایا۔
عمامہ، ٹوپی، دستانے، برقع، اوڑھنی پر مسح جائز نہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: