اہم خبریں

نوجوان قوم کے مستقبل ہیں: مولانا محمود مدنی

جمعیت نے شیو وہار دہلی فسادات متاثرین کو 76 مکانات اور 16 دکانوں کی چابیاں سپردکیں۔ اس موقع پر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمیں نفرت کا جواب محبت سے دینا ہے۔
پریس ریلیز 26 مارچ 2021
نئی دہلی : آج جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود اسعد مدنی کے ہاتھوں شیو وہار دہلی کے فساد متاثرین کو 76 مکانات اور 16 دکانوں کو از سر نو تعمیر کرکے ان کی چابیاں سپرد کی گئیں۔ اس موقع پر مولانا مدنی نے جمعیت بلڈنگ کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ مصیبتوں پر صبر اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ فسادات ہمارے صبر کا امتحان تھے۔ انھوں نے کہا کہ فسادات کے پیش نظر پہلے سے زیادہ تعمیری کام ہوئے ہیں لیکن ہمارے لیے اصل محاسبہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے اچھے بنیں ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں اپنے مال، کام، زبان،وقت ہر چیز کا حساب دینا ہوگا اس لیے ہمیں فضول خرچیوں سے بچنا چاہیے۔
اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی قوم کے لیے نوجوان ریڑھ کی ہڈی اور اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کرنا اور انھیں بہترین کردار کا حامل بنانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے جمیعت یوتھ کلب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک دراصل نوجوانوں کو کار آمد بنانے اور مثالی کردار کا حامل بنانے کی ایک تحریک ہے۔ لوگوں کو اپنے بچوں کو اس کی تربیت دلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مولانا مدنی نے سماج کے ذمہ دار افراد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ اپنے سماج کے دس بیس بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا عزم کریں اور کوشش کریں کہ سماج کا کوئی ایک بچہ بھی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔
مولانا مدنی نے مسلمانوں کو اپنے محلے کی صفائی پر توجہ دینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر صحت مند معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے۔انھوں نے شیو وہار کو مثالی بستی بنانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام امن اور شانتی کا مذہب ہے، اس لیے ہم نفرت کا جواب محبت اور دشمنی کا جواب دوستی سے دیں گے۔ اور ہمارا یہ کام آگے بھی جاری رہے گا۔

اس کے بعد مولانا مدنی نے مدرسہ مدنی اصحاب صفہ شیو وہار اور مدینہ مسجد کا افتتاح کیا جنھیں فساد میں تباہ کردیا گیا تھا۔ اور پھر جمعیت ٹائر مارکیٹ کا بھی دورہ کیا جہاں جمعیت کی طرف سے 227 دکانوں کی تعمیر کی گئی ہے۔
مزید معلومات کے لیےعرض ہے کہ اب تک جمعیت علمائے ہند نے کل 176/مکانات ،274 دکان، 10 مساجد،2 مدرسے، ایک اسکول کے علاوہ، مقدمات میں 212/ افراد کی ضمانت، روزگار کے لیے 40/لاکھ روپیے دیے۔ اور ان سب کاموں میں اب تک تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپیے جمعیت خرچ کرچکی ہے۔


اس موقع پر مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند کے علاوہ جو لوگ شریک رہے، ان میں مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا عرفان قاسمی، مولانا جمال قاسمی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، مولانا غیور قاسمی، مولانا یاسین جہازی، جناب انوار احمد نور، جناب انور حسین، قاری ہارون اسعدی، حاجی محبوب ۔ داؤد بھائی،حاجی ہاشم صاحب،ڈاکٹر اکبر صاحب،ماسٹر نظر محمد،حبیب بھائی، بھائی راشد ،دلشاد بھائی اوروکیل بھائی جوفساد کی وجہ سے نابینا ہوگئے تھے کے نام قابل ذکر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: