اہم خبریں

نیا سال اور ہماری ذمہ داریاں!

مولانا فیاض احمد صدیقی

نیا سال شروع ہونے کو ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں نئے سال کا مختلف طریقوں سے استقبال کیا جاتا ہے، ہر طرف دکانوں میں نیو ایئر کارڈس فروخت ہورہے ہیں، کیلنڈر دیواروں سے اتارے جارہے ہیں اور سن عیسوی کے ہندسے بدل جائیں گے، نیا سال شروع ہوجائے گا، نئے سال کی آمد کے موقع پر ہر کوئی جشن کا ماحول بنا رہا ہے، ساری دنیا میں لوگ اس موقع پر اپنے اپنے انداز سے جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اس موقع پر نوجوان کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آتے ہیں، کہیں فون وغیرہ کے ذریعہ مبارک بادیاں دی جاتی ہیں تو کہیں ٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ مبارک بادیاںوں کا سلسلہ چلتا ہے، کہیں نئے سال کے موقع پر پر تکلف جشن منایا جاتا ہے، الغرض غیر مسلم بڑے جوش وخروش سے اس کو مناتے ہیں اور ہمارے مسلم نوجوان بھی ان سے پیچھے نہیں ہیں، اب آپ خود فیصلہ کریں کہ غیروں میں اور ہم میں کیا فرق رہ گیا؟؟؟
سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے تہوار اس زور وشور سے مناتے دیکھا گیا ہے؟؟؟
ہرگز نہیں ہرگز نہیں.
خاص کر اس موقع سے لوگ رقص و سرود کی محفلیں سجاتے ہیں، شراب وکباب جمع کئے جاتے ہیں، نئے سال کا آغاز ہوتے ہی نیو ایئر نائٹ کی محفلیں جمتی ہیں اور لوگ ہیپی نیو ایئر کی مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں، ناچ گانے ہوتے ہیں، شراب نوشیاں ہوتی ہیں، بہر حال ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے نئے سال کو خوش آمدید ضرور کہتا ہے، اس تیاری میں اربوں کی فضول خرچی ہوتی ہے، در حقیقت نئے سال میں نیا پن کچھ بھی نہیں بلکہ سب کچھ ویسا ہی ہے، دن، رات، زمین، آسمان، سورج اور چاند سب کچھ وہی ہے اور وقت کی کڑوی یادیں بھی اسی طرح ہمارے ساتھ ہیں.
یہ دیکھا جاتا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہمارے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم بھائی بالخصوص نوجوان خوشیاں مناتے وقت وہ ناجائز اور نامناسب ایسے کام کرتے ہیں، جنہیں ایک سلیم العقل انسان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی انسانی سماج کیلئے وہ کام کسی طرح مفید ہے بلکہ حد درجہ مضر ہے.
مثال کے طور پر 31 دسمبر اور 1 جنوری کے بیچ کی رات میں نئے عیسوی سال کے آغاز کی خوشی مناتے ہوئے بڑی مقدار میں پٹاخے بجائے جاتے ہیں اور آتش بازیاں کی جاتی ہیں کیک کاٹے جاتے ہیں رقص ہوتا ہے اس کام پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے گویا ہم اپنے خون پسینے کی کمائی کو نذر آتش کررہے ہیں،
میں نہیں سمجھتا کہ شراب نوشی کی کسی بھی مذہب میں کوئی بھی گنجائش ہوگی یہ انسانی عقل کو سلب کرکے آدمی کو بلکل ناکارہ بنادیتی ہے اور اس کے نشہ میں چور آدمی قتل وغارت گری، زنا کاری وبدکاری اور بہت ساری دوسری برائیوں کا بلا جھجھک ارتکاب کرتا ہے،
سال2018 رخصت ہورہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے سال کے بارے میں تھوڑا وقت نکال کر اپنا محاسبہ کرے کہ میں نے اس سال کیا پایا اور کیا کھویا؟ مجھے اس سال کیا کرنا چاہیئے تھا اور کن چیزوں کو نہ کرنا میرے لئے بہتر تھا، میں نے کن لوگوں کا دل دکھایا؟ اور کس قدر مجھ سے گناہ ہوا؟ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کتنے فیصد عمل کیا؟ مجھ سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا، میں نے کن سے ہمدردی کی، کس قدر گناہ مجھ سے ہوئے اور میں نے کن گناہوں کی معافی تلافی کی؟ ان تمام چیزوں کا ہمیں محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، میری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا اور میں نیکیوں سے محروم رہ گیا میرا وقت بے جا ضائع اور صرف ہوگیا.
اور ہر آنے والا سال امیدیں اور توقعات لے کر آتا ہے اور انسان کے عزم کو پھر سے جوان کرتا ہے کہ جو کام پچھلے سال ادھورے رہ گئے انہیں اس سال مکمل کر لینا ہے، افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آنے والے سال میں اسکی بھرپائی کرنے کی کوشش کریں.
ایک سال کا مکمل ہونا اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی میں سے ایک سال کم ہوگیا ہے اور ہم اپنی زندگی کے اختتام کے مزید قریب ہوگئے ہیں.
لہذا ہماری فکر اور بڑھ جانی چاہیئے اور ہمیں بہت ہی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہمارے اندر کیا کمی ہے کیا کمزوری ہے کونسی بری عادت وخصلت ہم میں پائی جاتی ہے اسکو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے،
نیز اچھی عادتیں، عمدہ اخلاق وکردار کا وصف اپنے اندر پیدا کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیئے…..

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: