غزل

نیک انسان کو اب لوگ برا کہتے ہیں

طرحی غزل
نتیجہ فکر افتخار حسین احسن
رابطہ📲6202288565

نیک انسان کو اب لوگ برا کہتے ہیں.

جو ہے ابلیس لعیں اس کو بھلا کہتے ہیں.

ساری مخلوق کی کردے جو مرادیں پوری.

ایسی ہستی کو جہاں والے خدا کہتے ہیں.

چاہےوہ پھول کی پتی یا جڑی بوٹی ہو.

جس سے مل جائے شفا اس کو دوا کہتے ہیں.

رب کی جانب سے اترتی ہیں بلائیں ہرسو.

*جینے والے تو گناہوں کی سزا کہتے ہیں*

بیچ صحرا میں اگر چھوڑ دے لاکر تنہا.
کیا اسے دوستو الفت کا صلہ کہتے ہیں.

اس قدر پیار میں لڑکے ہیں ہمارے اندھے.
روز تعریف میں زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں.

آج دنیا میں جو مشہور ہوا ہے احسن.
جلنے والے بھی اسے رب کی عطا کہتے ہیں.

مطلبی یار سے تم دور رہو اے احسن.
مرے احباب یہی مجھکو سدا کہتے ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: