مضامین

وادی کا بیٹا یثرب کا عاشق

عبد المجید بٹ ولد ثناء اللہ بٹ ساکن چتلورہ رفیع آباد حال ریاض سعودی عربیہ

۱۹۵۵ کو چتلورہ رفیع آباد نامی گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی والد جوکہ پیشہ سے استاد تھے کی تربیت نے ان میں علم کی کچھ ایسی روح پھونک دی تھی کہ جناب عبد المجید صاحب اسی علم کی دھن میں ہمیشہ مصروف رہے جانے والے چلے جاتے ہیں پر کچھ لوگ جب چلے جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اک انجمن کو برباد کرگئے ایسے ہی عبد المجید بٹ صاحب بھی تھے انتہائی ملنسار خوش مزاج ہم درد اعلی اخلاق سے مزین جو ۵ ستمبر کو اپنے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گئے
موصوف انتھائی شفیق اور محبت کرنے والے تھے چتلورہ کے ایک بڑے زمیندار اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ملک و ملت کی خیر خواہی اور دعوت دین کے ساتھ زبردست لگاو تھا۔امت کے مسائل اور معاملات پر ھمیشہ بے چین رہتے تھے۔برادران وطن اور انکے بڑے ذمہ داروں سے قریبی تعلقات رکھتے تھے تاکہ دعوت دین کی راہ آسان ھو۔ھندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا درد ان کے دل میں موجود تھا موصوف اتحاد و اتفاق اور میانہ روی پر ھمیشہ زور دیتے تھے بلکہ وہ باہمی محبت و الفت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔دعوت اسلامی کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور نئے محاذوں پر کام ان کا خصوصی امتیاز تھے۔افراد کو۔قریب کرنا اور انکی تربیت کرنا انہیں نئی ذمہ داریوں کے لئے آمادہ کرنا انکی فکری و علمی و عملی تربیت کرنا ان کی خاص صفت تھی کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ ان کی وابستگی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی ۔کشمیر کے چھوٹے چھوٹے معاملات اور واقعات سے موصوف باخبر رہتے تھے۔کشمیریوں کی مشکلات اور مصائب کا انکو بخوبی احساس تھا اور اکثر رنجیدہ دل رہتے اس پر اور چاہتے تھے کہ کشمیر کا منظر نامہ علمی بنیادوں پر استوار ہو اور یہ خاک بھی اپنے ہاں وہ علم کے موتی میسر کرسکے جو دنیا میں اس خطہ کی پہچھان کراسکیں اس کے لئے وہ چاہتے تھے کہ ہر بات علم و صبر سے ہو ضد ہٹ دھرمی نفرت عدوات کدورت بغض ایسے الفاظ سے موضوف جیسے نا آشنا تھے ان کے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ دس پندرہ سال ہم ساتھ رہے اس زمانے میں جب یہ امیدوار بنائے گئے تھے مین اکثر ساتھ رہتا تھا پر مجال ہے کہ کبھی ہنسی مذاق مین یا غصہ کی حالت مین ان کی زبان سے کوئی ناشائستہ بات نکلی ہو بلکہ گر کوئی ساتھی ایسا کرتا تو میں اکثر دیکھتا کہ مجید صاحب شرمندہ ہوجاتے جبکہ ان کا تعلق بھی مذکورہ بات یا شخص سے نہیں ہوتا تھا
محترم کے بچپن میں جب والد صاحب کچھ خرچہ پانی کے نام پر اپنے بیٹے کو کچھ رقم دیتا یا کسی بھی وجہ سے کچھ رقم ملتی تو اکثر دوسرے دن کی صبح وہ رقم لے کر سوپور یا بارہمولہ جاکر کتابیں خریدتے اخبارات و رسائل لے آتے اور مطالعہ شروع کردیتے ان کی تو زندگی ہی جیسے مطالعہ سے وابستہ تھی کبھی کسی بھی طرح کی انانیت کا ہلکا سا شائبہ بھی نہیں دکھتا ہے موصوف میں ان کا حال اس بچے سا تھا جس کی دنیا کتاب سے شروع ہوکر کتاب پر ہی ختم ہو جایا کرتی ہے
وہ روزگار کے سلسلے میں بھی آزاد رہنے کے قائل تھے اور آزاد تجارت کو ہی ذریعہ معاش کو اپنے لئے انتخاب کرتے تھے یہی سبب تھا کہ موصوف انجینئری کرنے کے باوجود سرینگر میں ایک کتابوں کی دکان شروع کرتے ہیں ذریعہ معاش کے لئے اور تجارت کو ہی اپنی پسند بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تجارت میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے مجھے اچھا لگتا ہے اسی کو اختیار کرکے کامیاب ہوجاؤں وادی کشمیر کے حالات کی ابتری کے سبب موصوف بھی ان کا شکار ہوجاتے ہیں اور مختصر زادراہ اٹھا کر دیار حبیب مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرلیتے ہیں تاکہ اپنی اور اپنے وطن کی خدمت احسن طریقے سے کرسکوں
حجاج کرام کشمیر سے سفر محمود پر جاتے اور محترم عبد المجید بٹ ان کے انتظار میں ہوتے ایک حاجی صاحب کہتے ہیں ایسا لگتا تھا جیسے اس دیار میں یہ میرا اپنا بیٹا ہے کہ مجھ سے ملنے پر اس کی آنکھیں بھیگ گئی اور ہچکیاں بندھ گئی عجیب شخص تھا کہ ہر کشمیر سے آنے والے حاجی سے ملتے رہنا ان کی عادت تھی اور محبت و خلوص سے کشمیر سے آنے والوں کا استقبال کرتے
خراج عقیدت
وہ اک چراغ جو بج گیا
غم زندگی سے نکل گیا
وہ دیار غیر کا مسافر
دیار نبی کا مقیم ہوا
آج صبح ہی صبح یہ خبر جانکاہ سنی کر وجود لرز سا گیا کہ ہمارے وہ پیارے دیار غیر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
وہ بچھڑ گئے اور یقین کامل ہے اب رہتی دنیا تک ان سے ملاقات ممکن ہی نہیں اب آخرت
میں ہی دیکھ سکتے ہیں ویسے میں ان سے زیادہ واقف نہیں ہوں کیونکہ تب میرا بچپن تھا جب ان کا عروج تھا میں بات کر رہا ہوں اپنے علاقہ رفیع آباد کے چتلورہ نامی گاؤں کے ایک علم دوست اور تحریک اسلامی کے چہیتے فرزند جو کہ نامی گرامی شخصیت کے مالک تھے اسم گرامی انجینئر عبد الماجد صاحب جن کے نام کے ساتھ اب بھی مرحوم لکھنے سے جیسے ہاتھ کانپ رہا ہے
محترم ماجد صاحب وہی شخصیت ہیں جو تحریک اسلامی کے کارکن ہونے کے حوالے سے اپنے علاقہ رفیع آباد میں معروف ہوا کرتے تھے امیر ضلع کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دے اور مسلم متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے اس وقت کے امید وار بھی منتخب کئے گئے تھے جس میں بقیہ امیدواروں کی طرح انہیں بھی شکست کا مژدھ سنایا گیا ان کی زندگی کے مختلف اتار چڑھاؤ رہے ہیں پر تحریک اسلامی سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے تھے
میں پہلی بار تب ان سے واقف ہوا اسی سوشل میڈیا پر جب ایک بار میں نے اپنے والد صاحب
کے بارے کوئی تحریر لکھی تو اچانک سے میسنجر پر ایک مسیج آیا محترم کی طرف سے پوچھا مجھے ان کی اولاد کے بارے میں جانکاری چاہئے جب میں نے کہا کہ میں ان کا بیٹا ہوں تو پھر ان کی محبت دیدنی تھی میرے والد کے بارے میں مجھے بتاتے رہے اور اپنی طرف سے دعاؤں کا تحفہ دیا خوشی کا اظہار کیا بات کرنے سے میں سمجھا کہ ایک انتہائی مخلص اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں ان کی تحریر جب بھی دیکھی سنجیدہ اور علمی ہوا کرتی تھی کبھی ان کی کسی بات پر ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی ہوئی پر میں نے احترام سے بات کی تو انہوں نے بھی اپنی محبت سے نوازا ایک بات جو ان کی مجھے اچھی لگتی تھی وہ یہ کہ محترم اپنی بات رکھنے میں ید طولی رکھتے تھے علوم اسلامیہ سیاست معاشرت تمدن سے ان کی خاص دلچسپی عیاں تھی عزیزم ڈاکٹر شوکت صاحب جو کہ سعودیہ میں ہی ہیں قریب سے جانتے ہیں مرحوم کو کہتے ہیں ان کے بارے میں کہ ملنسار تھے خوش مزاج تھے شائستہ انداز سے ہر کسی سے ملتے ایک بہترین ساتھی کھو گیا
میرے لئے بھی صدمہ ہے کیونکہ جب سے ان سے رابطہ ہوا تھا اکثر اپنی طرف سے نصیحت کرتے رہتے اور نیکی کی ترغیب دیتے رہتے اپنی مٹھاس بھرے الفاظ کو محبت سے بھر دیتے اور مجھ کو نوازتے رہتے موصوف بڑے وقت سے دیار عربیہ میں ہی مقیم تھے مگر اپنے وطن کی محبت اب بھی ان میں موجود تھی اب وہیں پر انتقال ہوا جہاں کی زمین کو شرف حاصل ہے کہ اس سرزمین نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی قدم بوسی کی ہے شہر ریاض میں کشمیر کا بیٹا اور ہر دلعزیز شخصیت کا مالک عبد المجید بٹ جوکہ گزشتہ دو ماہ سے مسلسل وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد ۵ستمبر کو ہم سے جدا ہوگئے پوری دنیا میں اور کشمیر میں ہزاروں ان کے چاہنے والے صدمے میں ہیں اللہ تعالیٰ ان کی بخشش و مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین اور پاکستان اور کشمیر اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرما آمین یا رب العالمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: