مضامین

وزارتی مشن پلان اور جمعیت علمائے ہند قسط 4

محمد یاسین جہازی 9891737350

وزارتی مشن پلان اور جمعیت علمائے ہند قسط 4
محمد یاسین جہازی 9891737350
جمعیت کی کیبنٹ مشن سے ملاقات کا نتیجہ
”وزارتی مشن سے ملاقات کے نتیجے اور اس فارمولے کی اہمیت کے بارے میں مولانا سید محمد میاں ؒ فرماتے ہیں کہ:
16/ اپریل 1946کو شام چار بجے سے سوا پانچ بجے تک وزارتی مشن کے ارکان سے ملاقات ہوئی۔ وزارتی مشن کے ارکان نے جمعیت علما کے فارمولے سے خاص دل چسپی لی۔ حتیٰ کہ ملاقات کے مقررہ وقت (یعنی نصف گھنٹہ) سے زائد پینتالیس منٹ تک ارکان مشن فارمولا کے مضمرات اور اس کے مختلف پہلووں کے متعلق سوالات کرتے رہے اور ان کے جوابات پر مسرت و اطمینان ظاہر کرتے رہے۔ اس فارمولے کے ساتھ وزارتی مشن کی دل چسپی کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ وہ بجنسہ جمعیت علمائے ہند کا فارمولا تھا۔ صرف پیرٹی اور مساوات کی شرط تشنہ تکمیل تھی اور کانگریس اور کیبنٹ مشن نے قولا اس کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس فارمولا کے بموجب عارضی حکومت کی تشکیل کی جارہی تھی، تو اگر مسلم لیگ کی ناعاقبت اندیشانہ ضد آڑے نہ آتی، اور 14/ ممبران میں سے 6/ مسلمان ہوتے، یعنی ۵ لیگ کے نامزد اور ایک مسلم ممبر کانگریس کی طرف سے اور اس عارضی گورنمنٹ میں مسلمانوں کا تناسب تقریبا 45ٰٖ فی صد ہوتا۔ اور اس رواج کے قائم ہوجانے کے بعد یقین تھا کہ پیرٹی کا مسئلہ بھی مناسب صورت سے حل ہوجاتا۔ اور اگر بالفرض مسلمانوں کو مرکز میں تینتیس فی صد نشستیں بھی دی جاتیں، تو نقصان صرف اتنا ہی تھا کہ ممبری کے خواہش مند حضرات زیادہ تعداد میں اسمبلی میں نہ پہنچ سکتے۔ اس کے برمقابل فائدہ یہ تھا کہ
(۱) ہر فرقہ وارانہ مسئلے میں ان کو حق استرداد دے دیا گیا تھا، یعنی آئینی طور پر یہ تسلیم کرلیا گیا تھا کہ جس مسئلے کو مسلم ممبران اسمبلی کی اکثریت فرقہ وارانہ قرار دے دے، وہ اسمبلی یا پارلیمنٹ میں پیش نہ ہوسکے گا۔ اور اگر پیش ہوچکا،تو وہ پاس نہ کیا جائے گا۔
(۲)اگر یہ اختلاف ہوتا کہ یہ مسئلہ فرقہ وارانہ ہے یا نہیں، تو ایک فیڈرل کورٹ مقرر کیا گیا تھا، جو اس بحث کا فیصلہ کرتا۔
(۳) اس طرح تمام فرقہ وارانہ امور کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوتی اور اس طرح اکثریت، اقلیت کے تابع ہوکر زندگی بسر کرتی۔
مذکورہ بالاتفصیلات کے علاوہ اس فارمولے کا مفاد یہ تھا کہ
(الف) صوبہ سرحد، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان اور جب ریاست کشمیر کو یونین کے ایک صوبے کی حیثیت دے دی جاتی، تو پورا صوبہ کشمیر مذہبی، معاشی اور کلچرل امور میں قطعا خود مختار ہوتے۔
(ب) پورا صوبہ پنجاب اور پورا صوبہ بنگال، جس کا دارالحکومت (دنیا کا دوسرا بڑا شہر) کلکتہ تھا، مسلم اکثریت کے زیر اقتدار رہتا اور
(ج) صوبہ دہلی اور بہ شمول سلہٹ صوبہ آسام کی سیاست اور حکومت میں مسلمانوں کا حصہ تقریبا مساوی ہوتا؛ کیوں کہ صوبہ دہلی میں مسلمان تقریبا 45فی صد تھے۔ اور صوبہ آسام میں تقریبا 35فی صد۔
(د) ہندستان کے باقی صوبوں میں مسلمان لاوارث یتیم کی طرح نہ ہوتے، کیوں کہ
۱۔ ملازمتوں اور اسمبلیوں میں ان کا حصہ کم از کم تیس فی صد ہوتا۔
۲۔ وزارتوں میں ان کی موثر شمولیت ہوتی۔
۳۔ وہ ایسے مرکز کے ماتحت ہوتے، جن میں ان کی تعداد پیرٹی نہ ملنے کی شکل میں 33/ فی صد ہوتی اور فرقہ وارانہ امور کی زمام ان کے ہاتھ میں ہوتی۔
لیکن افسوس مسلمانوں کی اکثریت کا مزاج بگڑچکا تھا۔ کھرے کھوٹے کی تمیز جاتی رہی تھی۔ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں؛ مگر دماغ معطل ہوگئے تھے۔ اور وہ چراغ گل ہوگئے تھے، جو قلب مومن کے نہاں خانے میں روشن ہوا کرتے ہیں اور جس کی روشنی سے وہ مستقبل کو حال کی طرح دیکھا کرتا ہے۔“ (حیات شیخ الاسلام، ص/179-181۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد چہارم، ص/123)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: