اہم خبریں

وضاقت علیکم الارض بمارحبت

ڈاکٹرراحت مظاہری

ہندوستان میں دھرم کے نام پرتفریق پھیلانے والا ایک عِفریت تھا9/11/2019کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد شایدکچھ دنوں کے لئے زمین میں دفن ہوگیاہو،مگرپھرکب ا س کا پُنرجنم ہوجائے،کچھ نہیں کہاجاسکتا، متنازعہ بابری مسجد رام جنم بھومی قضیہ کے مقدمہ کے نِپٹارے کوفیصلہ کم اورپانچوں ججوں کے متفقہ مشورہ (Advice)کے اعلان سے تعبیرکیاجائے توزیادہ اچھاہے۔ کیونکہ ایساممکن ہی نہیں ہے کہ پانچ جج جداگانہ چیمبرس میں بیٹھ کرکوئی تحریر لکھیں اورسب کی رائے ایک ہی ہوجس کی موٹی سی مثال اسی مقدمہ میں الٰہ آبادہائی کورٹ اترپردیش کاجب فیصلہ آیاتھاتوباوجود یکسانیت کے اس وقت بھی تین فاضل ججوں میں سے ایک جج کی رائے اپنے ساتھیوں سے جداگانہ (Separate)تھی،عقل یہ سمجھنے سے قاصرہے کہ مذکورہ فاضل ججوں نے علاحدہ علاحدہ بیٹھ کر فیصلہ لکھاہے یاباہمی مشورہ،شاعروں کی طرح توارُد یاپھران پرمنجانب اللہ کسی وحی آسمانی (inspiration)کامتفقہ نزول ہوگیا؟
بابری مسجد کے تنازع کا مقدمہ آزادہندستان کی تاریخ میں سب سے طویل المدت چلنے والاکیس رہاہے، جس کے جھگڑے کی شروعات/22,23 دسمبر1949/کی درمیانی رات میں ایک رام بھگت کے ذریعہ مسجد کے صحن میں مورتیاں (statu)رکھنے سے ہوئی تھی،ڈیوٹی پرتعینات پولیس کانسٹبل ماتاپرشاد نے فیض آبادتھانے میں رپورٹ درج کرائی کہ رات کے اندھیرے میں کچھ شرپسندں نے بابری مسجد میں مورتیاں رکھ اس کوناپاک کردیا،اس کے خلاف فیض آباد جمیعۃ علمائے ہند نے عدالت میں مقدمہ دائر کیاسینٹرل حکومت کی طرف سے یوپی کے گورنرکووہاں سے مورتیاں ہٹانے کاحکم کیاگیا گورنر نے فیض آبادکلکٹرکوحکم دیامگرکلکٹر نے اپنی سخت گیری کے تحت گورنرکوالٹی وارننگ دیدی”آپ میراتبادلہ(transfer) کرسکتے ہیں ہیں مگرمیں وہاں سے مورتیاں نہیں ہٹاسکتا،،۔گورنربھی چپی سادھ کربیٹھ گئے۔
تاریخ کے مطابق یہ مسجدایک قناتی(camp)مسجدتھی جس کوبابرکے گورنرمیرباقی نے 1528:میں بنایاتھا،اس جگہ کے تعلق سے مؤرخین کا یہ خیال ہے کہ ہندواس کوپہلے ہی سے رام جنم بھومی مانتے تھے۔
بقول شکیل شمسی 1855میں وہاں کے مشہورہنومان گڑھی میں مندرکے قریب ایک فقیرکی کُٹیاکولے کریہ با ت شروع ہوئی تھی،واضح ہوکہ ایودھیامیں مسلمان کئی صدیوں سے آبادتھے اورہنومان گڑھی کے واقعہ سے قبل تک ان کاہندؤں سے کوئی جھگڑانہیں تھا،اس واقعہ کے متعلق مرزامظہرجانِ جاناں کی کتاب حدیقۃ الشہداء میں ہے کہ ایودھیاکے ہنومان گڑھی (ہنومان بیٹھک)نام کے ایک مقام پراورنگزیب نے ایک قناتی مسجدبنوائی تھی، جس میں ایک فقیرنماز روزہ کااہتمام کرتاتھا،فقیرکے انتقال کے بعد ہندؤں نے اس مسجد کوہٹانے کے لئے فقیرکے وارثوں کوکافی پیسے دے کرجگہ خالی کروالی اورہنومان گڑھی کے احاطے میں شامل کرلیا،لیکن اوَدھ کے مسلمانوں کے ایک طبقہ نے اس عمل کوقبول نہیں کیااورقناتی مسجد کی تعمیرکے لئے مسلّح مہم شروع کردی اورجہادکانعرہ دیاجس کی قیادت شاہ غلام حسین اورمولوی محمدصالح نام کے مسلم دولیڈرکررہے تھے، نواب واجدعلی شاہ نے ان دونوں کوجہادکے نعرہ سے باز رکھنے کی، حتیّٰ الامکان کوشش کی، کئی شیعہ اورسُنّی علماء کی کمیٹی بنائی اس کاکہناتھا کہ ہنومان گڑھی کے پاس کوئی مسجدنہیں تھی، بلکہ صرف فقیرکی کٹیاتھا،مگراِن باتوں کاجذباتی جوشیلے مسلمانوں پوکوئی اثرنہیں پڑااورمسلمان ایودھیاکی طرف روانہ ہوگئے وہاں پہلے سے موجودانگریزفوج نے ان لوگوں کوہنومان گڑھی پرحملہ کرنے سے باز رکھااورمصالحت کی کوشش کاآغازکیامگررات میں ڈیڑھ لاکھ مسلّح
بیراگیوں اورسادھوؤں کی ایک بھیڑنے ان لوگوں پرحملہ کردیا،کافی لڑائی ہوئی، مگراسی بیچ میں بارش ہوگئی،اورکئی سو مسلمان بابری مسجدکے اندرقیام پذیرہوگئے،انگریزوں نے ان سے کہا’اب وہ ہتھیاررکھ کرآرام سے قیام کریں معاملہ گفتگوسے حل ہوجائے گا،مگرجب رات میں وہ سب سوئے ہوئے تھے توان پرحملہ کر کے قتل کردیا،بابری مسجد میں ہون َ َ بھوگ کیاگیا، بابری مسجداورسیتارسوئی کے درمیان جوکٹہرالگاتھااس کوتوڑکرمسجد سے متصلہ خوجہ مٹی نام کاجوقبرستان تھااس میں موجودقبروں کے نشانات مٹائے اورمسجد میں ایک مورتی رکھ دی جب یہ خبرلکھنؤپہنچی توپورے اوَدھ میں بیقراری پھیل گئی اورقتل عام شروع ہوگیاامیر خاں امیٹھوی نے اس کی قیادت کی مگرمسلمانوں کے لشکرکامقابلہ جنرل بارلوکی فوج سے ہوامسلمان ہارگئے،اور22,23دسمبرکی درمیانی شب میں مورتی رکھ کریہ مشہورکیاگیاکہ وہاں رام جی پرکَٹ(ظہورمیں آئے)ہوئے، سینٹرل اورریاستی حکومتوں نے بجائے انصاف کے مسجد کومقفّل(locked)کردیا،،راجیوگاندھی نے ایک سادھوکے کہنے پراس کوکھولنے کے لئے فیض آبادکلکٹرکوآرڈرکیا،بی جے پی بانی لیڈرلال کرشن ایڈوانی،مُرلی منوہرجوشی، اومابھارتی،اشوک سنگھل،پروین توگڑیا،بال ٹھاکرے کی شیوسیناوغیرہ کے ساتھ سخت گیر ہندولیڈروں نے لاکھوں بھکتوں کی مددسے شرپسندوں نے،/6دسمبر 1992کوصبح 9بجے سے دن کے اُجالے میں اس کوشہیدکرناشروع کیاجبکہ اس وقت کے یوپی کے وزیراعلیٰ،بی جے پی لیڈر کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں مسجد کی حفاظت کے لئے حلف نامہ(affidavit) داخل کرکے عدالت کوگمراہ کیاجس کی سزامیں کلیان سنگھ کوسپریم کورٹ نے چوبیس گھنٹے کی علامتی سزاکے طورپرتہاڑ جیل بھیجا، کانگریسی وزیر اعظم نرسمہاراؤ نے سی آرپی اورابی ایس ایف کوایودھیامیں تعینات توضرورکیامگریوپی حکومت کے تابع کرکے بھیڑ پرقابوکرنے سے ان کے ہاتھ باندھے رکھے، مسجد شہید(demolition)کرنے کے بعد آتنکیوں نے وہاں ملبہ کے ڈھیر کوباقاعدہ چبوترہ بناکے مورتی رکھیں، شام پانچ بجے کلین سنگھ کے استعفے کے بعد راشٹرپتی شاسن لگاایک شردھالو(
Faithful)نے سپریم کورٹ میں پوجاارچنا کئے اپیل کی، پوجاکی اجازت مل گئی،پھر ایک شردھالوکو سپریم کورٹ ہی سے ’رام لَلا(نابالغ رام)کو موسم کی سردی گرمی سے بچانے کے لئے وہاں ٹینٹ اورشامیانہ لگانے کی اجازت بھی مل گئی اب یہ مقام بالکل مندربن گیاتھا،جسکوپانچ بار باہمی ہندومسلمانوں کے بیچ حل کرنے کی کوشش کی گئی مگرسب ناکام رہے،کیونکہ ساجھے کامعاملہ تھا، بطورخاص مسلم فریق نے اَڑیل پن کامعاملہ زیادہ رکھا۔
بقول پروفیسرمحسن عثمانی ندوی”اس سلسلہ میں مولاناعلی میاں ندوی،مولاناعبدالکریم پاریکھ اوریونس سلیم(سابق گورنریوپی)غیرمسلموں اوربرادران وطن کے مذہبی قائدین سے مل کرمسئلہ کے حل تک پہنچ گئے تھے،مسلمانوں کی نمائندگی کئے لئے مسٹرچندرشیکھرکے کہنے پرمولاناعلی میاں کانام تجویزہواتھاجنھوں نے پورے ملک میں ’پیامِ انسانیت،کی تحریک چلائی تھی، ہندواکثریت کی نمائندگی کے لئے کانچی پورم کے شنکرآچاریہ کانام تجویز کیاگیاتھا،وِشواناتھ پرتاپ سنگھ(وزیراعظم ہند)نے زمین کے سلسلہ میں آردیننس پاس کردیاتھاجسے بعدمیں واپس لے لیاگیا،آندھراپردیش کے گورنرکرشن کانت جوبعد میں نائب صدرجمہوریہ ہوئے اورجینی مذہب کے سُشیل مُنی اورہندوؤں کے سب سے بڑے گُروشنکر آچاریہ آنندسرس وتی نے حل کومنظوری دیدی تھی، اورحل یہ تھاکہ بابری مسجد اپنی جگہ پررہے،کچھ عرصہ بعد مورتیاں ہٹالی جائیں گی، اسے نمازکے لئے کھول دیاجائے گا،مسجد کے چاروں طرف تیس فُٹ کاتالاب ہوگااوراس کے بعدریلنگ ہوگی اورضرورت پڑنے پر اس پرکرنٹ دوڑادیاجائے گا،اس کے بعدجوبابری مسجد وقف کی زمین ہوگی اس پررام مندرتعمیرہوگااورمسلمان اس پرکوئی اعتراض نہیں کرینگے۔ لیکن لکیرکے فقیرعلماء اوربابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس حل پراعتراض ہی نہیں بلکہ آسمان سرپراٹھالیا،مجبوراََعلی میاں اورپاریکھ صاحبان کو فارمولہ سے دست بردارہوجاناپڑا،شوراورغوغاکرنے والوں میں وہ جامدالفکرعلماء تھے جن کاکہناتھاکہ ہم وقف کی ایک اِنچ زمین بھی رام مندرکے حوالہ نہیں کرسکتے ہیں اوراصول فقہ کے حوالے دے رہے تھے جیسے کہ ہم بنی امیّہ اوربنی عبّاس کے عہدمیں جی رہے اورکسی دارالاسلام میں رہتے ہوں۔حالانکہ دعوتی نقطہئ نظرسے باہمی احترام اوراعتمادکی فضاپیداکرناضروری تھا،اس کے علاوہ دنیاکے کئی ممالک کے اہلِ علمِ فقہ الاقلیات سے متعلق اپنی رائے میں لَچک رکھتے ہیں اورجوملک دارالاسلام نہ ہو وہاں بعض فقہی مسائل میں دفع مضرّت کے تحت نرمی اختیارکرنے کے قائل ہیں،آج بابری مسجد کاوجود ختم ہوچکاہے اورآئندہ اس کی تعمیرکابھی کوئی امکان نہیں ہے، اس کے لئے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں کوئی بتائے کہ آخریہ خون دوعالم کس کی گردن پرجائے پڑے؟
اسی طرح مسلم قیادت کی ایک دوسری بڑی غلطی تین طلاق سے متعلق عدالت میں ہے،مسلم پرسنل بورڈسے یہاں بھی غلطی ہوئی ہے۔جبکہ علامہ انورشاہ کشمیری نے بھی ایک نومسلم شخص کے ذریعہ اپنی بیوی کوتین طلاق دینے پراس کی تین کوایک ہی مان کرفیصلہ کیاتھا’تم ابھی صرف مسلمان ہو،حنفی شافعی، اہل حدیث نہیں اس لئے تم اس سے رجوع کرلو،اسی طرح کے فتاوے علامہ شیلتوت، علامہ یوسف القرضاوی اورمتعدد مشہوربڑے علما کے ہیں۔
البتہ جس طرح/9 نومبر2019کوسپریم کورٹ نے پوری متنازع جگہ مع مقام مسجد ہندوفریق کو بخش کرمسلمانوں کوایودھیامیں کسی مقام پرپانچ ایکڑزمین دینے کالالی پاپ (lollipop)دیاہے اس پرہرانصاف پسند ہندومسلم پریشان ہے کہ،کل جب /6 دسمبرکوبابری مسجدکی شہادت(demolition)کی گئی توغیر بی جے پی اورشیوسینالیڈروں نے بیک آواز اس کوبھارت کے لئے کالے دن اورسم وِدھان(constitution) اورسیکولرازم پرحملہ سے تعبیرکیاتھامگرآج سپریم کورٹ نے سارے پرانے ریکارڈ توڑکرپانچ برس تک اس زمین پرسجدہ کرنے والوں کومایوس کردیاہے جبکہ بول عدالت عالیہ ’مسجدکسی مندرکوتوڑکرنہیں تعمیرکی گئی، نیز/6 دسمبر1992کومسجد کی شہادت بھی غیرقانونی تھی۔
موجودہ فیصلہ کے تضادات سے صرف عوام ہی نہیں بلکہ خودقانون داں بھی پریشان ہیں جن میں جسٹس لبراہن جنھوں نے اپنی عمرکے 17سال کالمباوقت بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس کے خلاف سازشوں کاجال بننے والوں کی تحقیقات میں گذاراوہ بھی اس فیصلہ کوتعجب کی نگاہ دے دیکھتے ہوئے یہ کہنے پرمجبورہوگئے ’لگتاہے بابری مسجد کی شہادت کے ملزموں کامعاملہ بھی آسان ہوگیا۔ سابق چیف جسٹس گانگولی نے کہا ”میں قانون کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے ماس فیصلہ کوسمجھنے سے قاصرہوں،کہ جب یہ آئین وجود میں آیااس وقت بھی وہاں نماز جاری تھی،قانون کاکام انتظام سنبھالنے کاہے یہ بتانے کا نہیں کہ حملہ آورکو ن تھااورکون نہیں؟،اسی طرح سابق چیف جسٹس کاٹجوکاتبصرہ ہے”جس کی لاٹھی اسی کی بھینس،(Whose stick is his buffalo)فیصلے کوقانی سے زیادہ ملک کی بڑی اکثریتوں کی ترجمانی،نیزفیصلہ نہ ہوتے ہوئے جذبات کاخیال رکھاگیاہے۔ انھوں نے مزیدکہا’اس فیصلے میں جارحیت کوآشیرواد دے کے ایک خطرناک نظیرقائم کی گئی ہے،مہاتماگاندھی کے پوتے تُشارگاندھی کاتبصرہ ہے کہ اگرآج گاندھی جی کے قتل کے مقدمہ کافیصلہ کیاجائے تویہی کہاجائے گا ”قتل صحیح نہیں مگرقاتل محب وطن تھا۔بیرسٹر اسدا لدین اُویسی کاسوال ہے ”اگربابری مسجد شہید نہیں کی گئی ہوتی اوروہ وہاں آج موجودہوتی توکیاعدالت عالیہ کایہی فیصلہ تب بھی ہوتا؟نیزانھوں نے سابق چیف جسٹس ورما Supreme cort is Supreme But Not Infallible۔)سریم کورٹ سپریم توبیشک ہے مگرمعصوم عن الخطااوربے عیب نہیں ہوسکتا، کوبھی بارباردہرایاہے۔
ویسے مسلمانوں کو اس وقت آرایس ایس سنچالک موہن بھاگوَت کے قول کواپنالیناچاہیئے ”ہم افرادتیارکرتے ہیں،آندولن(تحریک)نہیں چلاتے،نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے”حکمت کی بات مؤمن کی گم شدہ پونجی ہے،جہاں بھی وہ اس کوپاتاہے اس کولے لیتاہے۔البتہ مسلمانوں کوپانچ ایکڑ زمین کے لالچ کی ٹافی نے یہ بھی بتادیاگیاہے کہ مسلمانوں کابھی کچھ نہ کچھ حق ضرورتھاجیساکہ مئی 2011/ الٰہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ میں متنازع جگہ کوتین فریقوں کے بیچ بانٹ دینے پراسی فیصلہ پرروک لگاتے ہوئے اسی سپریم کورٹ نے کہاتھا”یہ عجیب وغریب (اِسٹریج)فیصلہ ہے،،اس سے یہ یقین ہوچلاتھاکہ مسلمانوں کابھی اس میں حق لازمی ہے،اسی انصاف کی بنیادپرسنی سینٹرل وقف بورڈ اورجمیعۃ علمائئے ہندعدالت عالیہ گئے تھے۔جس سے ان کومحروم کردیناوقت کی سیاسی ضرورت یعنی آستھاکاخیال بھی ملحوظ رہاہے لیکن اسی کے ساتھ ایک خوشی یہ ہے کہ فاضل ججوں،چیف جسٹس رنجن گوگوئی (گوہاٹی)،ڈی وائی چندرچوڑ (ممبئی)،شرداروندبوبڑے(ناگپور)،اشوک بھوشن(جونپور)،سیدعبدالنظیر(کناراکرناٹکا)کی اس حکمت علمی نے ہندستان کوپھرایک نئی تقسیم اورجلنے سے بچالیا جس پران کومبارکباد دی جاتی ہے۔مگراس وقت ہندستان اورتنہاہندستان ہی کیاامت مسلہ پر پوری روئے زمین ہی اپنی وسعت کے باوجودتنگ پڑتی دکھائی دیتی ہے گویاکہ قرآنی الفاظ میں ”وضاقت علیکم الارض بمارحبت“۔خیرخدائے پاک ہمارے وطن عزیز، پوری دنیا اورامت مسلمہ کوصحیح وسلامت رکھے۔آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: