اسلامیات

وضوکے چار فرائض قرآن، احادیث اور دلائل عقلی کی روشنی میں

محمد یاسین جہازی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم: اما بعد!
وضو میں چار فرائض ہیں۔ ہر ایک کی تفصیلات اور دلائل عقلیہ و نقلیہ درج ذیل ہیں۔
فرض نمبر ایک: پورے چہرے کا دھونا
سر کے بال اگنے کی جگہ سے لے تھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں دونوں کانوں کے نرم حصہ تک کو چہرہ کہا جاتا ہے۔اور اس پورے حصہ کو وضو میں دھونا فرض ہے۔
قرآن
قال اللہ تعالیٰ: یأیھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق وأمسحوا برؤسکم وأرجلکم الی الکعبین۔) آیت 6، سورۃ مائدۃ 5)
ترجمہ:اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کو کہنیوں سمیت اور اپنے سر پر مسح کر لو۔ اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو۔
حدیث
(۱) ان حمران مولی عثمان اخبرہ انہ رأی عثمان بن عفان دعا باناء،فافرغ علی کفیہ ثلاث مرار فغسلھما،ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض و استنثر ثم غسل وجھہ ثلاثا و یدیہ الی المرفقین ثلاث مرار،ثم مسح برأسہ ،ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار الی الکعبین،ثم قال: قال رسول اللہ ﷺ: من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لایحدث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔(بخاری شریف،باب الوضوء ثلاثا ثلاثا۔ابوداود شریف،باب صفۃ وضوء النبی ﷺ)
اس حدیث میں ہے کہ تین مرتبہ چہرہ دھویا،پھر تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھویا،پھر ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا۔اور فرمایا کہ یہ حضور ﷺ کا وضو ہے۔
(۲) عن ابن عباس ؓ: انہ توضأ فغسل وجھہ،اخذ غرفۃ من ماءٍ فمضمض بھا و استنشق، ثم اخذ غرفۃ من ماءٍ فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخریٰ،فغسل بھا وجھہ۔(بخاری شریف،باب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃ واحدۃ)
اس حدیث میں ہے کہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ دھویا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوپر کی پوری جگہ کو دھویا ہو۔
دلیل عقلی
چوں کہ آیت میں وجہ ہے جو مواجہت سے مشتق ہے،یعنی آمنے سامنے ہونا اور آمنے سامنے ہوتے وقت بال اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک سامنے آتا ہے۔اس لیے آیت کی وجہ سے اتنی جگہ تک دھونا فرض ہے۔
فرض نمبر دو: بشمول کہنیاں دونوں ہاتھ کو دھونا
قرآن
و ایدیکم الی المرافق (آیت 6، سورۃ مائدۃ 5)
اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت (دھوو)
احادیث
(۱) عن نعیم بن عبد اللہ المجمر قال رأیت ابا ھریرۃ یتوضأ فغسل وجہہ فأسبع الوضوء ثم غسل یدہ الیمنی حتی اشرع فی العضد ثم یدہ الیسری حتی اشرع فی العضد ثم مسح برأسہ ثم غسل رجلہ الیمنی حتی اشرع فی الساق ثم غسل رجلہ الیسری حتی اشرع فی الساق ثم قال ھکذا رأیت رسول اللہ ﷺ یتوضأ وقال قال رسول اللہ ﷺ انتم الغر المحجلون یوم القیامۃ من اسباغ الوضوء ممن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ(۱لف)(مسلم شریف، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء)
اس حدیث میں حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بازو اور پنڈلی کو وضو میں دھویا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آیت میں مرافق اور کعبین دھونے میں داخل ہیں۔ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے
(۲)عن جابر بن عبد اللہ قال کان رسول اللہ ﷺ اذا توضأ ادار الماء علی مرفقیہ (دار قطنی، باب وضوء رسول اللہ ؐ، ج اول، ص ۶۸، نمبر ۸۶۲/ سنن للبیہقی، باب ادخال المرفقین فی الوضوء،ج اول، ص ۳۹، نمبر ۶۵۲)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہنیاں دھونے میں داخل ہیں
(۳) اثر میں صراحت ہے کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل ہیں۔اثر یہ ہے
قلت لعطاء:۔فاغسلوا وجوھکم وایدیکمالی المرافق۔فیما یغسل؟ قال: نعم، لا شک فی ذالک۔(مصنف عبد الرزاق، جلد اول، باب غسل الذراعین،ص۵ نمبر ۱)
دلیل عقلی
(۱) انگلی سے لے کرمونڈھے تک کو ہاتھ کہتے ہیں اس لیے اگر کہنیوں کی قید نہ لگاتے تو مونڈھے تک دھونا فرض ہوتا اس لیے کہنیوں تک دھونے کے لیے کہا تو کہنیوں سے آگے ساقط ہو گیا۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ جو عضو آگے کو ساقط کرنے کے لیے آئے،وہ اس حکم میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے کہنی دھونے کے حکم میں داخل رہے گی۔ اس طرح رجل (پاؤں) ران تک کو کہتے ہیں۔ ٹخنہ تک کی قید لگا کر ٹخنہ سے اوپر کو ساقط کیا۔ لیکن خود ٹخنہ دھونے کے حکم میں داخل رہے گا۔
(۲) قاعدہ یہ ہے کہ جنس ایک ہو تو غایت مغیا میں داخل ہوتی ہے۔اوراگر جنس دو ہوں تو غایت مغیا میں داخل نہیں ہوتی۔جیسے روزے میں رات داخل نہیں۔ انگلی سے لے کر کہنی تک مغیا اور کہنی غایت ہے اور دونوں کی جنس ایک ہی ہے یعنی ہاتھ؛ کیوں کہ انگلی سے لے کر مونڈھے تک کو ہاتھ کہتے ہیں؛ لہذا کہنی دھونے کے لیے فرض کے حصہ میں شامل ہوگی۔
مسئلہ نمبر تین: کم از کم چوتھائی سر کا مسح کرنا
قرآن
وأمسحوا برؤسکم) آیت 6، سورۃ مائدۃ 5)
ترجمہ: اور اپنے سر پر مسح کر لو۔
حدیث
(۱) ان حمران مولی عثمان اخبرہ انہ رأی عثمان بن عفان دعا باناء،فافرغ علی کفیہ ثلاث مرار فغسلھما،ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض و استنثر ثم غسل وجھہ ثلاثا و یدیہ الی المرفقین ثلاث مرار،ثم مسح برأسہ ،ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار الی الکعبین،ثم قال: قال رسول اللہ ﷺ: من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لایحدث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔(بخاری شریف،باب الوضوء ثلاثا ثلاثا،ص ۲۳ نمبر ۹۵۱/ابوداود شریف،باب صفۃ وضوء النبی ﷺ،ص ۶۲ نمبر۸۰۱)
(۲) عن عروۃ بن المغیرۃ بن شعبۃ،عن ابیہ قال: تخلف رسول اللہ ﷺ و تخلفت معہ،فلما قضی حاجتہ…..ومسح بناصیتہ،و علی العمامۃ،و علی خفیہ،(مسلم شریف، باب المسح علی الناصیۃ،و العمامۃ،ص ۴۳۱ نمبر ۴۷۲ /۳۳۶،ابوداود شریف باب المسح علی الخفین،ص ۲۲ نمبر ۰۵۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشانی کے قریب جو بال ہے آپ ؐ نے اس پر مسح فرما یا اور وہ چوتھائی سرکی مقدار ہے اسلئے چوتھائی سر پر مسح کرنا فرض ہو گا۔.جب سر کے صرف اگلے حصے پر مسح کیا تو پتہ یہ چلا کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ پورے سر کا مسح فرض ہوتا تو صرف پیشانی کی مقدار یا اگلے حصے پر مسح کرنا کافی نہیں ہوتا۔اس لئے حنفیہ کے نزدیک چوتھائی سراور پیشانی کی مقدار پر مسح کرنا فرض ہے۔ اور پورے سر پر مسح کرنا سنت ہے۔
دلیل عقلی
(۱) آیت میں سر کا مسح کرنا فرض ہے لیکن کتنی مقدار فرض ہے آیت سے اس کا پتہ نہیں چلتا ہے۔آیت اس بارے میں مجمل ہے۔اب حدیث نے اس کی تفسیر کی ہے کہ کم سے کم مقدار پیشانی کے برابر ہے۔ اس سے کم مقدار کا کسی حدیث سے پتہ نہیں چلتا ہے۔ اس لئے کم سے کم یہ مقدار فرض ہوگی۔
(۲) ستر عورت چوتھائی کھل جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ حج کے موقع پر احرام کی حالت میں چوتھائی سر منڈوا دے تو دم لازم ہوتا ہے۔ جس طرح پورے سر منڈوانے سے دم لازم ہوتا ہے۔ تو ان مقامات پر چوتھائی کل کے قائم مقام ہے اسی طرح سر کے مسح میں بھی چوتھائی پورے سر کے قائم مقام ہوگا۔
(۳) قاعدہ یہ ہے کہ ب حرف جر آلہ پر داخل ہوتو اس کا بعض مراد ہوگا اور محل کا کل، اور محل پر داخل ہوتو محل کا بعض مراد ہوگا۔یہاں ب سر، محل پر داخل ہے اس لئے سر کا بعض حصہ مراد ہوگا کہ بعض سر کا مسح کرنا کافی ہوگا۔کتاب یعنی آیت مجمل ہے اور حدیث اسکا بیان ۔اسلئے حدیث کی بناء پر چو تھائی سر سے کم پر مسح جائز نہیں ہونا چاہئے۔
مسح کے بارے میں دیگر مسالک
امام شافعی ؒ کے نز ایک بال یا چند بال پر مسح کرنے سے فرض کی ادائیگی ہوجائے گی۔
امام شافعی ؒ کی ”کتاب الام“میں لکھتے ہیں کہ
اذا مسح الرجل بأی رأسہ شائان کان لا شعر علیھا،و بأشعر رأسہ شاء،باصبع واحدۃ،او بعض اصبع،(کتاب الام،باب مسح الرأس، ج اول، ص ۱۱۱ نمبر ۰۹۳)
کہ کوئی بال بھی چھو لے تو مسح ہو جائے گا۔
وہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ
و مسح بناصیتہ و علی العمامۃ۔(مسلم نمبر ۳۳۶ / ابوداود نمبر ۰۵۱)
کہ پیشانی کے بال پراور عمامے پر مسح فرمایا تو ظاہر ہے کہ کچھ بال ہی تھے جن پر مسح فرمایا چوتھائی سر تو نہیں ہو سکتا ہے اسلئے سر کے کچھ حصے پر مسح کر لینے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی اور پورے سر پر مسح کرنا سنت ہو گا َ۔
احناف اس کا جواب یہ دیتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ پیشانی پر مسح اور سر کے اگلے حصے پر مسح والی دونوں حدیثوں کو ملانے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک دو بال کو مسح نہیں کہا جائے گا بلکہ مسح یعنی پونچھنے کا مطلب یہی ہوگا کہ سر کا کچھ اہم حصہ ہونا چاہئے جو چوتھائی کے قریب ہے۔
مسلک امام مالکؒ
امام مالک فرماتے ہیں کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے:
عن عبد اللہ بن زیدؓ…ثم مسح رأسہ بیدیہ فاقبل بھما وادبر بدأ بمقدم رأسہ حتی ذھب بہما الی قفاہ ثم ردھما الی المکان الذی بدا منہ۔ (بخا ری شریف،باب مسح الرأس کلہ،ص ۱۳ نمبر ۵۸۱ /ابوداود شریف،باب صفۃ وضوء النبی ﷺ،ص ۶۱ نمبر ۸۱۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پورے سر پر مسح کرنا ضروری ہے تب ہی تو آپ ؐ نے پورے سر پر مسح فرمایا۔
احناف اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس قسم کی احادیث سنیت پر محمول ہیں۔ اور ہم بھی ایک مرتبہ پورے سرپر مسح کرنا سنت قرار دیتے ہیں۔اگر پورے سر پر مسح کرنا فرض ہوتا تو آپ ؐ صرف پیشانی کی مقدار پر کبھی اکتفانہ کرتے۔صرف پیشانی کی مقدار پر اکتفا کرنا دلیل ہے کہ اتنے ہی سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی۔
مسئلہ نمبر چار: ٹخنوں سمیت پیر کو دھونا
قرآن
وأرجلکم الی الکعبین۔) آیت 6، سورۃ مائدۃ 5)
ترجمہ: اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو ۔
حدیث
(۱) ان حمران مولی عثمان اخبرہ انہ رأی عثمان بن عفان دعا باناء،فافرغ علی کفیہ ثلاث مرار فغسلھما،ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض و استنثر ثم غسل وجھہ ثلاثا و یدیہ الی المرفقین ثلاث مرار،ثم مسح برأسہ ،ثم غسل رجلیہ ثلاث مرار الی الکعبین،ثم قال: قال رسول اللہ ﷺ: من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لایحدث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔(بخاری شریف،باب الوضوء ثلاثا ثلاثا،ص ۲۳ نمبر ۹۵۱/ابوداود شریف،باب صفۃ وضوء النبی ﷺ،ص ۶۲ نمبر۸۰۱)
(۲) حضرت ابی وقاصؓ، انی سمعت رسول اللہ ﷺ انہ یقول ویل للاعقاب من النار (الف) (مسلم شریف،باب وجوب غسل الرجلین بکمالھا، ص ۴۲۱ نمبر ۰۴۲اور بخاری شریف، باب غسل الاعقاب ص ۸۲ نمبر ۵۶۱)
ایڑی پانی سے تر نہ ہو تو اس کو آگ چھوئے گی۔ تو اگر پاؤں پر مسح کریں تو ایڑی پر پانی نہیں آئے گا جس کی وجہ سے وہ جہنم کی آگ کے قابل ہوگی۔ اس لئے پاؤں پر مسح کرنا کافی نہیں ہوگا۔
(۳) حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضوء فرمایا اور پاؤں کو دھویا۔
قال اتانا علی وقد صلی ثم غسل رجلہ الیمنی ثلاثا و رجلہ الیسری ثلاثا۔(ابوداؤد، باب صفۃ وضوء النبیؐ ص ۵۱ نمبر ۱۱۱/۴۱۱)
(۴) عن نعیم بن عبد اللہ المجمر قال رأیت ابا ھریرۃ یتوضأ فغسل وجہہ فأسبع الوضوء ثم غسل یدہ الیمنی حتی اشرع فی العضد ثم یدہ الیسری حتی اشرع فی العضد ثم مسح برأسہ ثم غسل رجلہ الیمنی حتی اشرع فی الساق ثم غسل رجلہ الیسری حتی اشرع فی الساق ثم قال ھکذا رأیت رسول اللہ ﷺ یتوضأ وقال قال رسول اللہ ﷺ انتم الغر المحجلون یوم القیامۃ من اسباغ الوضوء ممن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ(۱لف)(مسلم شریف، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء،ص، ۶۲۱ نمبر ۶۴۲)
دلیل عقلی
(۱):جہاں تک کرنے کے لئے کہا جاتا ہے،اسکی انتہاء کو غایت کہتے ہیں،جیسے روزہ رات تک رکھنے کے لئے کہا تو رات غایت ہوئی،اور اس سے پہلے جو دن ہے اسکو مغیاکہتے ہیں۔ پاؤں کی انگلی سے لیکر کعب (ٹخنے) تک مغیا ہے اور خود ٹخنہ غایت ہے۔اور اصول یہ ہے کہ جنس ایک ہو تو غایت مغیا میں داخل ہوتی ہے اور جنس الگ الگ ہو تو غایت مغیا میں داخل نہیں ہوتی ہے جیسے کہ روزے میں رات داخل نہیں۔ پاوں کی انگلی سے لے کر ٹخنے تک مغیا ہے اور خود ٹخنہ غایت ہے؛ لہذا ٹخنہ دھونے میں داخل ہوگا۔
(۲) انگلی سے لے لے ران تک پیر کہلاتا ہے۔ ٹخنہ تک کی قید لگا کر ٹخنہ سے اوپر کو مستثنی کیا گیا؛ البتہ خود ٹخنہ دھونے کے حکم میں داخل رہے گا؛ کیوں کہ قاعدہ یہ ہے کہ جو عضو آگے کو مستثنیٰ کرنے کے لیے آتا ہے، وہ اس حکم میں داخل ہوتا ہے؛ اس لیے ٹخنہ دھونے کے حکم میں داخل رہے گا۔
دیگر مسالک
امام زفرؒ فرماتے ہیں کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل نہیں ہیں۔یعنی اگر کہنیوں اور ٹخنوں تک دھویا اور خود کہنیوں اور ٹخنوں کو نہیں دھویا تو وضوء ہو جائیگا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ثم اتموا الصیام الی اللیل، آیت ۷۸۱ سورۃ البقرۃ ۲: روزے کو رات تک پورا کرو لیکن خود رات روزے میں داخل نہیں ہے۔ اسی طرح الی المرافق اور الی الکعبین میں۔ الی کے مابعد مرافق اور کعبین دھونے میں داخل نہیں ہونگے۔
(نوٹ)حضرت امام زفر ؒ نے دلیل عقلی پیش کی ہے تاہم تلاش کے باوجوداس کے لیے مجھے کوئی حدیث یا اثر نہیں ملا،واللہ اعلم۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: