اسلامیات

وضو کی سنتیں : براہ راست احادیث اور دلائل عقلی کی روشنی میں

محمد یاسین جہازی

طریقہ یا راستہ کو سنت کہتے ہیں۔ شریعت میں جس کام پر عبادت کے طور پر حضور ﷺ نے ہمیشگی کی ہو اور کبھی کبھی چھوڑا ہو اس کو سنت کہتے ہیں۔ اگر عبادت کے طور پر نہیں بلکہ عادت کے طور پر کسی کام پر آپ نے ہمیشگی کی ہو تو وہ کام مستحب ہوگا۔ جیسے دائیں جانب سے کسی اچھے کام کو شروع کرنا مستحب ہے۔
سنت نمبر 1: سو کر اٹھ کر سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھونا
حدیث
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لایدری این باتت یدہ (الف)(مسلم شریف، باب کراہیۃ غمس المتوضی و غیرہ یدہ المشکوک فی نجاستھا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ۶۳۱ نمبر ۸۷۲/۳۴۶۔ ترمذی شریف، باب ماجاء اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا تغمسن یدہ فی الاناء حتی تغسلھا ثلاثا ص ۳۱ نمبر ۴۲)
دلیل عقلی
کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ نیند کی حالت میں اس کا ہاتھ نجاست کی جگہ پر گیا ہواور ہاتھ پر ناپاکی موجود ہواور وضو کرنے والے کو اس کا پتہ نہ ہو۔ اب اس ہاتھ کو پانی میں ڈالے گا تو پانی ناپاک ہو جائے گا۔ اس لیے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ کو تین مرتبہ دھو لے۔اگر ہاتھ پر ناپاکی ہونے کا ظن غالب ہو تو دھونا ضروری ہے۔ اور صرف شک ہو تو دھونا سنت ہے۔
سنت نمبر 2: وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا
حدیث
(۱) ابی سفیان بن حویطب عن جدتۃ عن ابیھا قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ (ترمذی شریف، باب فی التسمیۃ عند الوضوء ص ۳۱ نمبر ۵۲/ابوداؤد شریف، باب فی التسمیۃ علی الوضوء، ص۵۱، نمبر ۱۰۱)
حدیث میں یہ ذکر ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضوہی نہیں ہوگا۔لیکن اس سے مراد ہے کہ وضو تو ہوجائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا؛ کیوں کہ اثر میں ہے کہ بغیر بسم اللہ کے وضو کرلیا تو وضو ہو جائے گا البتہ ثواب نہیں ملے گا۔اثر یہ ہے
(۲) عن الحسن قال: یسمی اذا توضأ،فان لم یفعل اجزأہ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،ج اول،باب فی التسمیۃ فی الوضوء،ص ۲۱ نمبر ۸۱)
(۳) عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ ﷺ: من توضأوذکر اسم اللہ یطھر جسدہ کلہ،و من توضأ ولم یذکر اسم اللہ لم یطھر الا موضع الوضوء۔(دار قطنی ج اول، باب التسمیۃ علی الوضوء،ص ۶۷ نمبر۹۲۲ /سنن بیھقی ج اول،باب التسمیۃ علی الوضوء،ص۴۷ نمبر۰۰۲ /،مصنف ابن ابی شیبۃ، ج اول نمبر ۷۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ پڑھے گا تو پورا جسم پاک ہوجائے گا اور بسم اللہ نہیں پڑھے گا، تو صرف اعضائے وضو پاک ہوں گے،پورا جسم پاک نہیں ہوگا۔
سنت نمبر 3: مسواک کرنا
حدیث
(۱) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال لولا ان اشق علی المؤمنین و فی حدیث زہیر علی امتی لامرتھم بالسواک عند کل صلوۃ (مسلم شریف، باب السواک ص ۸۲۱ نمبر ۲۵۲ /۹۸۵/ ترمذی شریف، باب ماجاء فی السواک ص ۲۱ نمبر ۲۲ / بخاری شریف، باب السواک ص ۸۳ نمبر ۴۴۲)۔
(۲)عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ لولا ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل وضوء (سنن للبیھقی، باب الدلیل علی ان السواک سنۃ لیس بواجب،جلد اول ص ۷۵،نمبر ۶۴۱)
دلیل عقلی
مسواک کا مقصد منہ کی گندگی صاف کرنا ہے اس لیے وہ وضو کے زیادہ مناسب ہے۔
سنت نمبر 4: کلی کرنا
سنت نمبر 5: ناک میں پانی ڈالنا
دونوں کی دلیلیں درج ذیل ہیں:
حدیث
(۱) رأیت عثمان بن عفان سئل عن الوضوء فدعا بماء فاتی بمیضأۃ فاصغاھا علی یدہ الیمنی ثم ادخلھا فی الماء فتمضمض ثلثا واستنثر ثلثا (ابوداؤد شریف، باب صفۃ وضوء النبی ﷺ ص ۶۱ نمبر ۸۰۱/ ۲۱۱/ مسلم شریف باب صفۃ الوضوء و کمالہ۔ ص ۳۲۱ نمبر ۶۲۲/۸۳۵)
(۲) عن طلحۃ عن ابیہ عن جدہ قال دخلت یعنی علی النبی ﷺ وھو یتوضأ والماء یسیل من وجھہ ولحیتہ وعلی صدرہ فرأیتہ یفصل بین المضمضۃ والاستنشاق (ابو داؤدشریف، باب فی الفرق بین المضمضۃ والاستنشاق ص ۰۲ نمبر ۹۳۱)
سنت نمبر6: پورے سر کا مسح کرنا
قال رأیت علیا توضأ فغسل وجھہ ثلاثا و غسل ذراعیہ ثلاثا و مسح برأسہ واحدۃ،ثم قال: ھکذا توضأ رسول اللہ ﷺ۔(ابو داود شریف، باب صفۃ وضوء النبی ﷺ،ص ۷۱،نمبر ۵۱۱ / عن ابن عباس ؓ نمبر ۳۳۱)
سنت نمبر7: دونوں کانوں کا مسح کرنا
حدیث
(۱) عن ابن عباس:ان النبی ﷺ مسح برأسہ واذنیہ ظاھرھما و باطنھما (ترمذی شریف، باب مسح الاذنین ظاھرھما و باطنھما ص ۶۱ نمبر ۶۳/ ابو داؤد، باب صفۃ وضوء النبیﷺ ص ۶۱ نمبر ۱۲۱)
(۲) عن ابی امامۃ قال: توضأ النبی ﷺ فغسل وجھہ ثلاثا و یدیہ ثلاثا، و مسح برأسہ،و قال: الاذنان من الرأس۔ (ترمذی، باب ماجاء ان الاذنین من الرأس۔ص ۶۱، نمبر ۷۳ )
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کان کے اوپر اور نیچے کے حصہ کا سر کے ساتھ مسح کرنا سنت ہے۔
سنت نمبر8: ڈاڑھی کا خلال کرنا
حدیث
عن عثمان بن عفان ؓ ان النبی ﷺ کان یخلل لحیتہ (ترمذی شریف، باب تخلیل اللحیۃص ۴۱ نمبر ۱۳) عن انس بن مالک ؓ ان رسول اللہ ﷺ کان اذا توضأ اخذ کفا من ماء فادخلہ تحت حنکہ ٖخلل بہ لحیتہ وقال ھکذا امرنی ربی (ب) (ابو داؤد، باب تخلیل اللحیۃ ص ۱۲ نمبر ۵۴۱)
اس حدیث میں ہے کہ اللہ نے ڈاڑھی میں خلال کر نے کا حکم دیا۔
عن انس ان النبی ﷺ قال: اتانی جبریل فقال: اذا توضوأت فخلل لحیتک۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،باب فی تخلیل اللحیۃ فی الوضوء،ج اول،ص ۰۲ نمبر ۴۱۱)
سنت نمبر9: انگلیوں کاخلال کرنا
عن ابن عباس ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال اذا توضأت فخلل اصابع یدیک و رجلیک (ترمذی شریف، باب تخلیل الاصابع ص ۶۱ نمبر ۹۳/ نسائی شریف، باب الامر بتخلیل الاصابع،ص ۶۱نمبر ۴۱۱)
ان ابا بکر الصدیق ؓ قال: لتخللن اصابعکم بالماء او لیخللنھا اللہ بالنار۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،۸ فی تخلیل الاصابع فی الوضوء،ج اول ص ۰۲ نمبر ۶۹ /۷۸)
اس اثر میں ہے کہ انگلیوں کا خلال نہیں کروگے تو اللہ آگ اس کے درمیان ڈالیں گے۔
دلیل عقلی
انگلی کے خلال کرنے میں حکمت یہ ہے کہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے۔کیوں کہ اعضائے وضو میں ایک بال کے برابر بھی خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا۔
سنت نمبر10: تین مرتبہ دھونے کی تکرار کرنا
حدیث
رأی عثمان بن عفان ؓ دعاباناء فافرغ علی کفیہ ثلث مرار فغسلھما ثم ادخل یمینہ فی الاناء فمضمض واستنثر ثم غسل وجھہ ثلاثا ویدیہ الی المرفقین ثلث مرار، ثم مسح برأسہ، ثم غسل رجلیہ ثلث مرار الی الکعبین ثم قال قال رسول اللہ ﷺ من توضأ نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لا یحدّث فیھما نفسہ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ (بخاری شریف، باب الوضوء ثلاثا ثلاثا ص ۷۲ نمبر ۹۵۱/ ابوداؤد شریف، باب الوضوء ثلاثا ثلاثا ص ۰۲ نمبر ۵۳۱)
اس حدیث میں ہے کہ اعضا کوتین تین مرتبہ دھویا،جس سے معلوم ہوا کہ تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔
(۲) عن ابی بن کعب: ان رسول اللہ ﷺ دعا بماء ٍ فتوضأ مرۃ مرۃ،فقال: ھذا وظیفۃ الوضوء۔او قال: وضوء من لم یتوضأہ لم یقبل اللہ لہ صلاۃ۔ثم توضأ مرتین مرتین ثم قال: ھذاوضوء من توضأ ہ اعطاہ اللہ کفلین من الاجر،ثم توضأ ثلاثا ثلاثا،فقال: ھذا وضوئی و وضوء المرسلین من قبلی۔(ابن ماجۃ،باب ما جاء فی الوضوء مرۃ و مرتین و ثلاثا،ص ۱۶،نمبر ۰۲۴ / دار قطنی،باب وضوء رسول اللہ ﷺ،ج اول ص ۲۸ نمبر ۴۵۲)۔
دلیل عقلی
تین مرتبہ دھونے سے یقین ہو جائے گا کہ کوئی جگہ بال برابر بھی خشک نہیں رہ گئی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: