مضامین

وطن معیشت کو وطن اقامت بنائیے

آرٹیکل 32 اور The Remedy Of Compensation کے اختیارات کے باوجود سپریم کورٹ کا خاموش رہنا؛ کیا بھارت میں جمہوریت کے خاتمہ کا اعلان نہیں ہے

محمد یاسین جہازی
بھارت میں 25مارچ 2020سے 31مئی 2020یعنی کل 68دنوں کے لیے ا س کے وزیر اعظم مسٹر مودی نے پہلے سے طے شدہ کسی حکمت عملی کے بغیر اچانک لاک ڈون کا فیصلہ کردیا۔ اس فیصلہ کے بعد بھارت کی ایک نئی تصویر ابھر کرسامنے آئی۔ ایک ایسی تصویر، جس میں بے بسی، مجبوری اور مفلوک الحالی کے رنگ نمایاں تھے۔ اس ہوائی جہاز اور راکیٹ کے دور میں بھی ایسی بھیانک تصاویر منظر عام پر آئیں، جہاں لاکھوں مزدور تپتی دھوپ اور گرم سڑکوں پر سروں پر سامان اور کندھوں پر معصوم بچوں کو لادھے ہزاروں کلو میٹر دور بھوکے پیاسے پیدل چلنے پر مجبور ہوئے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سفر کے تمام ذرائع بند کردیے گئے تھے، تو پھر ان مزدوروں کو اپنی جگہ سے سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی، جو جہاں پھنس گیا تھا، وہیں رہتے۔ تو اس سوال کا جواب بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کے توسط سے مل گیا ہے کہ وہ جہاں رہتے تھے، وہاں سے مکان مالک نے کرایہ کا مطالبہ کرنا شروع کردیا، کام کاج بند ہونے کی وجہ سے مزدور کرایہ ادا نہ کرسکے، تو مکان مالکوں نے نکالنا شروع کردیا۔ اسی طرح کھانے پینے کی جو بھی چیزیں اور انتظام مزدوروں کے پاس تھا، وہ سب رفتہ رفتہ ختم ہوگیا، جس کے باعث بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوکر مزدور اپنے گاوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوئے اور سواری بند ہونے کی وجہ سے پیدل ہی سفر پر نکل پڑے۔ان کی پریشانیوں کو احساس دلانے والوں نے جب ان سے سوال کیاکہ گھر جانے کے لیے آخر اتنی پریشانیاں کیوں برداشت کر رہے ہیں، تو ان کا سیدھا جواب تھا کہ ویسے بھی بھوک سے مرتے، تو ایسے ہی چل کر اپنوں کے بیچ مریں گے؛ کیوں کہ ہمیں تو آخر مرنا ہی ہے۔
جینے اور زندہ رہنے کا حق وغیرہ بھارت کے دستورکے مطابق انسان کے بنیادی حقوق کے تحت آتے ہیں، جنھیں مہیا کرانا موجودہ سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر سرکار عوام کے بنیادی حقوق بھی فراہم نہ کرسکے، تو دستور کے آرٹیکل 32 اور The Remedy Of Compensation کے تحت کورٹ اور سپریم کورٹ کو یہ اختیار ملتا ہے کہ وہ سرکار کا محاسبہ کرکے اسے حکم دے کہ وہ عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔
لیکن اس لاک ڈاون میں مزدوروں کے جملہ بنیادی حقوق تو کجا، زندہ رہنے تک کے حق سے محروم کردیا گیا، اس کے باوجود نہ تو کورٹ نے اور نہ ہی سپریم کورٹ نے سرکار کو سرزنش کی اور نہ ہی سرکار کی نیت اور نیتی پر سوال اٹھاکر اسے اپنی ذمہ داری یاد دلائی۔ اس پورے بھیانک منظر نامہ پر سپریم کورٹ بھی بالکل خاموش تماشائی بنا رہا۔
میرے خیال سے آرٹیکل 32 اور The Remedy Of Compensation اس بھارت کے دستور کا حصہ تھا، جب سرکار ووٹوں کی طاقت سے بنتی تھی۔ سرکاری پارٹیوں کو ووٹروں کی ضرورت ہوتی تھی، اس لیے ووٹر ووٹ کے وقت ا ن پارٹیوں کا خیال رکھتی تھی، جو پارٹی ووٹروں کا خیال رکھے۔ جب زمانے نے تھوڑی ترقی کی، اور ہر طرح کے اعداد وشمار سامنے آنے لگے، تو اس نے ”ہمارے ووٹر“ اور ”ہمارے ووٹر نہیں“ کی ذہنیت پیدا کی۔ پھر ذرا اور آگے چل کر ”پالیس میکر ووٹر“ اور ”اندھ بھکت ووٹر“ میں معاملہ تقسیم ہوگیا۔ یہاں تک بھی معاملہ کسی قدر غنیمت تھا؛ لیکن جب سے مشینی دور شروع ہوگیا ہے، تب سے حکومت کو ووٹروں کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے۔ جس کا سب سے بھیانک پہلو یہ سامنے آرہا ہے کہ سرکار مطلق العنان ہوکر فیصلہ کرتی ہے۔ وہ اپنے فیصلے میں نہ تو عوام کی خواہشات کا خیال رکھتی ہے اور نہ ہی ضروریات کا؛ اچانک ڈی مونی ٹائزیشن، اچانک لاک ڈاون وغیرہ وغیرہ؛ یہ سب اسی مطلق العنانی کی مثالیں ہیں۔
ان واقعات کو اگر عبرت کی نگاہ سے دیکھیں، تو جس طرح انگریزوں کے تسلط کی وجہ سے اہل دانش کو یہ فتویٰ دینا پڑا تھاکہ بھارت اب غلام ہوچکا ہے، جس کے خلاف جہاد کرنا فرض ہے، اسی طرح اہل دانش کو یہ اعلان کرنا ضروری ہے کہ بھارت میں اب جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے؛ لہذا اس کے تحفظ کے لیے، کورٹ، سپریم کورٹ، میڈیا، قلم کار، اہل دانش، اپوزیشن پارٹیوں اور تمام محبان وطن کو بہر قیمت آگے آنا ہوگا۔
اور یاد رکھیے کہ اگر ابھی نہیں اٹھے، اور جان و مال کی پرواہ کیے بغیر آگے نہیں بڑھے، تو پھر بھارت کو دوبارہ برباد ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔
اخیر میں اپنے مزدور بھائیوں کو بھی ایک مشورہ دینا چاہوں گاکہ اس لاک ڈاون کی بے بسی نے ہمیں اچھی طرح بتادیا کہ غریبوں کا مسیحا کوئی نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی سبق ملا کہ جہاں وطن معیشت ہے، اگر اسی کو وطن اقامت بھی بنالیں، تو اس قسم کے حالات کے دوبارہ شکار نہیں ہوں گے۔ اور یہ کوئی نیا طریقہ نہیں ہے؛ بلکہ بہت سے بڑے صاحب ثروت نے وطن معیشت کو وطن اقامت بنایا ہے، شاہ رخ خان، امیتاب بچن اور ہزاروں لوگوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: