مضامین

ولی کامل انجینئر محمدعرفان غنی صاحب ڈیوکنڈا

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 1939ء……EXECUTIVE ENGINEER

میں سبزۃ آغازہی سے آپکی عطربیزخصلتیں،فنائیت وللٰہیت،سادگی وخاکساری اورعلمی وعملی بلندی کی بازگشت سنتارہتاتھا،لیکن دونوں ہی کی غربت ومسافرت کے باعث عرصہ تک شرف زیارت سے محروم رہا،مئی ۷۸۹۱ء میں راقم السطورسلطان گنج پٹنہ میں انکے دولتکدہ پرحاضرہوا،انکی حکمرانی جسم پرنہیں قلب ودماغ پرہے،وہ جس کوچے سے گزرتے ہیں مرتبہ شناس انکی عزت واحترام،وارفن کی وشیفتگی میں جھک جاتے ہیں۔
درازقد،گورابدن،چوڑی پیشانی،متناسب اعضاء،آنکھوں سے شب بیداری اورفکروسوزکے آثارنمایاں،شیرہ چاول (ماڑ) میں کلف کردہ کھدر کا دراز کرتا جابجا پیوند لگاہوا، ٹخنے سے خاصااونچامغلئی پاجامہ،قرپرٹوپی اورشرعی ڈاڑھی،مرشدوں کے لباس میں الکٹرک اگزکٹوانجینئرعرفان غنی ہیں،آپ اپنے نام کے دونوں جزوکے اسم بامسمیٰ دریائے عرفان میں غوطہ زن اورخردہ گیروں اورانگشت نماؤں سے بے نیازومستغنی ہیں،وہ روزمرہ اسی لباس میں فلک بوس چارمنزلہ آفس واقع ودھوت بھون پٹنہ میں خندہ پیشانی سے آتے جاتے تھے،وہاں ہزاروں کارندے تھے لیکن بڑے چھوٹے آپکے نرالے پن اورتقوی وطہارت کی وجہ سے آپکوجانتے پہچانتے تھے،آپ وہاں کے انگریزی ماحول سے متأثرلوگوں کے درمیان گل صحرامعلوم ہوتے تھے۔
آپ پوری بلڈنگ میں اس شعرکے حسب حال تھے ؎

من مثال گل صحرا ہستم
در میان محفل تنہا ہستم
آپ اس وقت بہارکے دارالسلطنت پٹنہ میں اگزکٹوانجینیرتھے،آپکی قربراہی میں کئی انجینیراورسینکڑوں ملازم مشغول کارتھے اس عظیم عہدے پرصدر نشینی کے باوجودآپکی فروتنی وسادگی قابل دیدتھی،اتنابڑاانجینیر پیوندلگاہواکپڑاپہن کراتنے بڑے آفس میں روزانہ جائے یہ اس دورمیں کرامت سے کم نہیں تھی،آپ جس آفس میں جاتے ہیں آج بھی اسی کپڑے میں جاتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کے ساتھ عشق ہی نہیں دیوانگی کی حدتک آپکومحبت ہے،ہمیشہ کامعمول ہے کہ صبح بہت پہلے آفس کے لئے روانہ ہوتے ہیں درمیان میں شہرمیں آئی ہوئی جماعت کی خبرگیری اورخدمت کرتے ہوئے بروقت آفس پہنچتے ہیں اورواپسی پرجماعت کے ساتھ گشت اوربیان کرنے کے بعدگئے رات تک گھرواپس آتے ہیں،بارش ہوکہ خشکی،حرارت ہوکہ برودت کسی موسم میں اس معمول میں معمولی فرق نہیں آناہے وہ جماعت کی نسبت سے ۲۸۹۱ء میں انگلینڈ بھی تشریف لائے ہیں۔
آپ اپنی حلال تنخواہ سے بڑی رقم غرباء ومساکین پرصدقہ کرتے ہیں اوراسکی مددکرنے میں سکون محسوس کرتے ہیں۔
لباس وپوشاک،طعام وقیام میں کوئی تنوع نہیں برتتے،بارہامیرے ساتھ صرف سادہ چاول اوراچارکے ساتھ کھاناتناول فرمایاجس سے محسوس ہواکہ ہمیشہ آپکے یہاں اسی کارواج ہے،مہمان کی موجودگی میں بھی یہ سادگی کم ازکم میرے لئے قابل حیرت تھی۔
جب میں ڈیوکنڈاحاضرہواتھاتوموصوف کاغیرمسقف مکان اورخستہ حال ویران دیواروں کامعائینہ کیاتھا،اثنائے گفتگومیں میں نے اشارہ کیاکہ اس وقت پیسوں کی فرروانی ہے،آپ بھی عمررفتہ ہورہے ہیں تواگرمکان پرچھت ڈلوادیتے توبچوں کے کام آجاتا،یہ سنتے ہی انجینیرصاحب کارنگ بدل گیاآوازمیں گرفتگی آگئی اورفرمانے لگے کہ میرے ذمے اہل وعیال کودین سیکھاناضروری ہے انکے لئے مکان بنواناضروری نہیں البتہ سکنی لازم ہے تووہ کرایہ کے مکان میں بھی پوراہورہاہے،موصوف کے اس کلام میں توکل ابراہیم علیہ السلام سااعتماداورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ سادنیاکی بے رغبتی جھلک رہی تھی مجھے اس وقت اپنی نااہلی سے دل پرچوٹ سی لگی اوردنیاپرستی کویادکرکے سرندامت سے جھک گیا،انجینیرصاحب کے یہ ملفوظات قلب حزیں کی تسکنیں اوردنیاطلبی کے شدیدحملوں کے وقت سکون وتقویت کابڑاذریعہ ہے۔
بہرتسکیں دل کورکھ لی ہے غنیمت جان کر
جوبوقت نازکچھ جنبش ترے ابرومیں تھی
آج رشوت کابازارگرم ہے،شریفانہ جیب تراشی کوحکمت عملی اورکسب حلال شمارکرنے لگے ہیں،پرہیزکرنے والوں کومختلف حربے سے مصائب کے دلدل میں پھانساجاتاہے، ایسے اژدہوں کی جھرمٹ میں تریاقی کی نغمہ سرائی بلکہ اسکانقیب وپاسباں بنکرسرگرم مبلغ اورمتحمس داعی کاکرداراداکرنابلاشبہ دل گردے کی بات ہے جوتوفیق ایزدی کے بغیر ناممکن ہے۔
نفلی روزے چاشت واشراق،بکاوگرایہ زاری اور جودوسخاکاشیفتہ انسان کم ازکم میری آنکھوں نے کم دیکھا ہے ایسالگتاہے کہ
تیری آگ اس خاکداں سے نہیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: