مضامین

پاسبان قوم حضرت مہتمم مولاناادریس صاحب کیواں دامت برکاتہم

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 1960ء ……فاضل مظاہرالعلوم سہارنپور
1981ء کے رمضان شریف میں ایک گوشۂ دیوارپرآویزاں مدرسہ اسلامیہ سینپورکے نقشۂ سحروافطارپرنظرپڑی ذیل میں جلی حروفوں سے ایک نوجوان کے ساتھ مہتمم کالقب دمک رہاتھا،علم ودانش اترپردیس کانرالاانداز،صفائی وسادگی لیکن انتہائی پرکشش،یہ لقب علاقائی مدرسہ کے منتظم کے ساتھ پہلی مرتبہ ملاخطہ کرنے کااتفاق ہواتھااسلئے قلب ودماغ پرگہرااثرڈالااورجدیددرخشاں ستارے کے چمکنے سے امیدوں کے چراغ جلنے لگے، خصوصاً ایسے عالم میں جبکہ اکثرمدارس مالی بحران سے عاجزآکرایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے وابستہ ہوچکے ہیں اورجومیدان میں ہیں وہ بھی چراغ سحری ہورہے ہیں کہ نہ جانے کس وقت دم توڑدے اورگل ہوجائے،حالات کے شدیدبرف وباراں موج وطوفان،زلزلے اورحادثے کے سامنے ایک نیاسال جوان مقابلے کے لئے مسکراتے ہوئے کھڑاہے جوپہلے مولاناادریس اوراب مہتمم صاحب کے معززنام سے پکارے جاتے ہیں۔
میابہ قد،سروبدن،سانولارنگ،کتابی چہرہ،متبسم وفراخ آنکھیں،صلحاکے لباس زیب تن کئے ہوئے جن سے نفاست وصفائی عیاں،کم گولیکن پرمغز،آپکی ولادت1960ء میں قصبہ کیواں میں ہوئی آپ مدرسہ اسلامیہ سینپورہی کے ساختہ وپرداختہ ہیں، سندفراغت مدرسہ مظاہرالعلوم سے حاصل کی،علم کی وسعت،مطالعہ کی ہمہ گیری،اخلاق کی عط ربیزی اورانتظام کی پرکاری کے اعتبارسے جدیدفارغین کی صف میں انگشتری میں نگینے کی طرح معلوم ہوتے ہیں بلکہ بہت سے قدماء کے لئے بھی مشعل راہ ہیں۔
کچھ سالوں تک مدرسہ احسن العلوم جڑودہ۔یو۔پی میں خدمت انجام دیتے رہے، پھرواقعہ پیش یہ آیاکہ مدرسہ اسلامیہ سینپورکوایک خودآگاہ وخداآگاہ مردکامل کی سخت ضرورت تھی،وہ دس سال سے اسکی تنبنع وتلاش میں لگے ہوئے تھے لیکن لوئی ایساجوہرشب تاب نہیں مل رہاتھاجومدرسے کی مالی استحکام اورتعلیمی نظام میں نئی روح پھونکے اوراسکوزندہ جاویدبنادے،آخراپنی ہی آغوش کے ایک ہونہارپرنظرانتخاب پڑی،حضرت مولانااس ناہمواروناموافق حالات میں بھی اسکے لئے آمادہ ہوگئے اورزمام کاراپنے ہاتھ میں لیا،اسکے بعدسے مدرسہ دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے اوراس قلیل مدت میں جلالین شریف تک تعلیم کاانتظام ہوچکاہے اتنے ناسازگارحالات میں ترقی ہونامولاناکی کرامت سے کم نہیں ہے۔ایسامحسوس ہوتاہے فکرمدرسہ آپکے رگ وپے میں پیوست ہوچکاہے،مدرسہ آپ کا سوناجاگنااوراوڑھنابچھونابناہواہے،جب سوچتے ہیں اسی کے سلسلے میں سوچتے ہیں، اسی کاثمرہ ہے کہ قلیل مدت میں دوسرے مدارس سے نمایاں فائق ہوچکاہے۔
ایک مرتبہ مولاناکے سامنے معاشی قلت کاتذکرہ کیاتوبڑے اعتمادکے ساتھ فرمانے لگے کہ الحمدللہ میری سب ضرورتیں پوری ہوجاتی ہیں،مجھے کوئی گلہ نہیں ہے،اس گرانی میں ڈھائی سوروپئے کی مختصرسی رقم پریہ صبروتحمل،تقوی وتوکل کم ازکم میرے لئے توباعث رشک ہے،یہ انکاکوئی تصنع نہیں بلکہ دل کی آوازتھی،انکے مرشدحضرت مفتی مظفرحسین صاحب ناظم مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپورکی تربیت کادلفریب عکس ہے جوانکی ہراداسے نمایاں ہوتا ہے،انکاایمان ہے کہ سب کچھ کھوکربھی خدمت دین کی متاع بے بہارہاتھ آتاہے توبھی یہ سوداارزاں ہے ؎
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جاں کازیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
خداکرے کہ یہ ثمرنورس اسی آب وتاب کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں رہے اورقوم کانقیب وپاسباں بنارہے ع این دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: