اسلامیات

پانی کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (22) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-05-1919_00-06-1976) نور اللہ مرقدہ

خواہ پانی سمندر کا ہو یا ندی ، نہر اور تالاب کا ہو ، یا کنویں، جھرنے اور بارش کا ہو ، یا صرف برف ، اولے کا پگھلا ہوا پانی؛ جو پانی ہے اس سے وضو غسل جائز ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
فلم یجدوا ماء ا فتیمموا صعیدا طیبا (النساء، آیۃ :۴۳ )
پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک زمین سے تیمم کرو۔
معلوم ہوا کہ پانی ملنے پر وضو غسل ہے خواہ وہ پانی کہیں کا ہو، جب تک پانی پانی ہے، اس سے وضو غسل ہے اور جب پانی پانی نہ رہے، آگ میں پکانے سے، یا کوئی چیز ملانے سے وہ شوربہ یا شربت وغیرہ بن جائے تو اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ اسی طرح درخت یا پھل یا پتوں سے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو غسل جائز نہیں ہے ، اس وقت تیمم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی کے بارے میں فرمایا:
و ینزل علیکم من السماء مآء ا لیطھرکم بہ (انفال،۱۱)
اور وہ آسمان سے تم پر پانی برساتا ہے تاکہ تم کو اس سے پاک کرے۔
آں حضرت ﷺ کا ایک تالاب پر گذر ہوا، تو صحابہ کرام نے آں حضرت ﷺ سے پوچھا : اس میں کتے اور درندے منھ ڈالتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کتے اور درندے کا وہ ہے جو اس نے اپنے پیٹ میں ڈالے ، تم پیو اور وضو کرو۔ (ابن ابی شیبہ)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آں حضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم بضاعہ کے کنویں کے پانی سے وضو کریں، جس میں کتے اور حیض کے کپڑے اور بدبودار چیزیں ڈالتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک کرنے کی چیز ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ (ابو داؤد، ترمذی) اور اس حدیث کو ترمذی، ابن قطان اور امام احمد نے حسن کہا ہے (نور الہدایہ، ص؍۳۷)
اور ایک شخص نے پوچھا آں حضرت ﷺ سے کہ ائے اللہ کے رسول! دریا میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں ، اگر ہم وضو کریں، تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا دریا کے پانی سے وضو کریں، تو آپﷺ نے فرمایا:
ھو الطھور ماۂ والحل میتتہ۔ (اخرجہ الاربعۃ و صححہ ابن خزیمہ، از بلوغ المرام)
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کی مچھلی حلال ہے۔ امام ترمذی نے کہا میں نے محمد ابن اسماعیل سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ (نور الہدایہ، ص؍ ۳۷)
قرآن کی آیت اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ پانی سے طہارت حاصل ہوتی ہے ، خواہ آسمان سے اترا ہو یا زمین سے نکلا ہو ، سمندر یا تالاب میں ہو، ندی ، نالے، یا کھیت کیاری میں ہو ، یا کہیں اور جگہ میں ہو۔ جب پانی ہے تو اس سے وضو غسل جائز ہے ۔ اگر اس میں تھوڑی بہت کوئی چیز ملی ہو تو اس سے کچھ حرج نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک برتن سے غسل کیا جس میں آٹے کا اثر تھا۔ (نسائی، نور الہدایہ؍۳۷)۔ معلوم ہوا کہ اگر پانی میں آٹا یا مٹی یا کوئی دوسری منجمد چیز مل جائے ، مگر پانی پتلا یا بہنے والا رہے تو کچھ حرج نہیں ۔ البتہ جب پانی پر دوسری چیزیں غالب آجائیں تو وہ پانی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کے غلبے کی چند صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ کوئی منجمد چیز پانی میں ملے اور اتنی ملے کہ پانی گاڑھا ہوجائے ، اس میں رقت اور سیلان نہ رہے ، تو غیر کا غلبہ سمجھا جائے گا۔
دوسری: یہ کہ پانی میں کوئی پانی کی طرح پتلی چیز ملے تو اس چیز کے اوصاف پر نظر ہوگی، اگر اس کے اندر تین وصف ہیں تو وصف کے ظاہر ہونے پر غلبہ ہوگا جیسے سرکہ کہ اس میں رنگ، بو اور مزہ تینوں وصف ہیں۔ اگر اتنا سرکہ پانی میں ملے کہ پانی کا رنگ اور مزہ بدل جائے تو اس وقت وہ سرکہ کے حکم میں ہوگا، پانی نہ کہلائے گا۔ اور اگر اس کے اندر ایک یا دو وصف ہیں تو ایک وصف کے ظاہر ہونے سے اس کا غلبہ سمجھا جائے گا، جیسے کہ دودھ اس میں رنگ اور مزہ ہے ،بو نہیں ہے ، تو پانی میں اتنا دودھ ملے کہ پانی سفید ہوجائے تو وہ دودھ کے حکم میں ہوگا پانی نہ کہلائے گا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی وصف نہیں ہے جیسے عرق گلاب جس کی بواڑچکی ہے ، یا مستعمل پانی تو اس صورت میں وزن کا لحاظ ہوگا۔ جب ایک سیر پانی میں سیر بھر سے زائد مستعمل پانی یا عرق گلاب ملے تو اس کا غلبہ سمجھا جائے گا اور وہ پانی کے حکم میں نہ رہے گا، اس لیے کہ قانون ہے کہ للاکثر حکم الکل: اکثر کا وہی حکم ہوتا ہے جو کل کا۔
اگر سادہ پانی پکایا یا گرمایا جائے یا اس میں ایک آدھ مٹھی پتے صفائی کے لیے دے دیے جائیں تو اس سے وضو غسل جائز ہے ۔
عن ابن عباس قال: لابأس ان یغتسل بالحمیم و یتوضأ منہ۔ (رواہ عبد الرزاق بسند صحیح)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: گرم پانی سے نہانے اور ضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
غسل میت کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا:
بماء و سدر۔ (بخاری و مسلم)
میت کو پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو۔
معلوم ہوا مزید صفائی کے لیے بیر کے پتے پانی میں ڈال کر پکایا جائے تو کچھ حرج نہیں۔البتہ اگر پانی میں کوئی چیز ڈال کر اتنا پکایا جائے کہ وہ شوربہ یا عرق کا کاڑھا وغیرہ بن جائے تو پھر اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ اسی طرح درخت اور پھل کے پانی سے وضو غسل جائز نہیں ہے ، کیوں کہ یہ پانی کے حکم میں نہیں ہے۔ اور پہلے بیان ہوچکا کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: